بنگلہ دیش میڈیا: ہنگامہ آرائی کا ذمہ دار کون؟




 تحریر:غلام اصغر ساجد

بنگلہ دیش میں جاری ہنگامہ آرائی   بر سر اقتدار جماعت عوامی لیگ کی غنڈہ گردی کا نتیجہ ہے عوامی لیگ جو ایک  لبرل اور سیکولر بھارت نواز سیاسی جماعت ہے ، بھارت کے ساتھ مل کر اسی کی ریشہ دوانیوں سے پاکستان دولخت ہو گیا۔ آج بھی ان کے غنڈے مکتی باہنی  ایک طرف سڑکوں پر اسلام پسندوں کا قتل عام کر رہے ہیں تو دوسری طرف اپوزیشن رہنماؤں کو عدالتی اور غیر عدالتی تختہ دار پر ذبح کر رہے ہیں وہیں یہ شارش پسند لوگ بسوں کو جلاتے ہیں، مندوں کو اجاڑتے ہیں، اقلیتوں کے دفاتر کو اکھاڑتے ہیں، اپوزیشن رہنماؤں کے گھروں کو آگ لگاتے ہیں حتی کہ خود اپنے لوگوں کو بھی قتل کر دیتے ہیں تاکہ اسلام پسندوں کے خلاف محاذ بھڑکایا جا سکے۔ بنگلہ دیشی اہل فکر یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ حسینہ واجد کی یہی پالیسیز چلتی رہیں تو ملک ایک بار بھرپور خانہ جنگی کی طرف جا سکتا ہے یا غیر ملکی جارحیت کے در کھولنے کا باعث بن سکتا ہے۔ اپوزیشن کے خلاف تشدد کا بے جا استعمال اس لیے بھی کیا جا رہا ہے تاکہ مقابلہ میں وہ بھی پرتشدد کاروائیاں کریں اور پھر اس کے نتیجے میں انہیں کمزور کر دیا جائے۔

میڈیا کو مکمل طور پر حکومتی ادارے اور غنڈے کنٹرول کر رہے ہیں اورسنسر کیا  جا رہا ہے تاکہ وہ حکومت کے رٹے رٹائے الفاظ پڑھتا رہے۔ میڈیا تو اس پالیسی لائنز پر رکھا جا رہا ہے کہ:

1۔ مظاہرین کی ہلاکتوں کی خبروں کو کوئی کوریج نہ دی جائے۔

2۔ مظاہرین کو ایسی کوریج دی جائے جس سے ان کے بارے منفی تاثر ابھرے مثلا ً بغیر کسی ثبوت کےبس کے جلنے میں ان کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے اور عام دکانوں کے جلنے کا الزام ان پر دھرا جائے۔

3۔ بسوں میں جلنے والے افراد کو زیادہ سے زیادہ ٹی وی سکرین پر دکھایا جائے اور ثابت کیا جائے کہ مظاہروں کا نتیجہ ہے کہ عام آدمی مارا اور جلایا جا رہا ہے لیکن اس کے ساتھ حکومت کو امن و امان کی ذمہ داری ادا نہ کرنے پر کسی قسم کا نشانہ نہ بنایا جائے۔

4۔  جھوٹ اور الزامات کی بنیاد پر مواد زیادہ سے زیادہ  شائع کیا جائے اس پر خصوصی معاوضہ بھی ادا کیا جا رہا ہے۔

ان حالات میں بہت کم لوگ ہی یہ جان پاتے ہیں کہ بسوں اور عام افراد کے ساتھ ساتھ اپوزیشن پر حملہ کرنے والے افراد آخر کار پکڑے کیوں نہیں جاتے۔ عبد القادر مولا شہید ؒ کے عدالتی قتل کے بعد پیش آنے والی یہ چند مثالیں دیکھنے کے بعد آپ یہ جان پائیں گے کہ ایسا کیوں ہے ۔

عوامی لیگ کا لیڈر ہندوگھروں کو جلاتے پکڑا گیا(15 دسمبر 2013ء)

pic 1

عوامی لیگ کے یوتھ ونگ جبو لیگ کا ایک مقامی لیڈر  اس وقت رنگے ہاتھوں اہل محلہ نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا جب وہ   ستکھیرا  کے علاقہ دیبھاتا میں کئی ہندو گھروں کو آگ لگا کر فرار ہو رہا تھا۔ جبو لیگ کے اس لیڈر  عبد الغفارنے میڈیا کو بتایا کہ اس نے اپنےمقامی عوامی لیگ رہنما کے کہنے پر ہندو گھروں کو آگ لگائی اس نے پولیس اور اپنے ساتھ معاونت کرنے مزید تین افراد کے نام بھی بتائے۔

مقامی ذرائع کے مطابق  15 سے 20 نقاب اوڑھے نامعلوم افراد نے ہفتہ کی رات 11 بجے دیبھاتا کے گاؤں پارولیا کے رہائشی ہندو سنیت سرکار کے گھر کو آگ لگا دی جس کی وجہ سے دو گھر مکمل طور پر جل گئے۔ مقامی افراد کے مطابق انہوں نے چلانا اور چیخنا شروع کر دیا جس کے نتیجے میں نامعلوم افراد بھاگنے پر مجبور ہو گئے لیکن  اس ایک غنڈے کو پکڑ لیا جو بعد میں جبو لیگ کے مقامی لیڈر کے طور پر پہچانا گیا۔ مقامی لوگوں نے اسے رات بھر اسےدرخت کے ساتھ باندھ دیا۔  عبد الغفار جبو لیگ کا مقامی رہنما  اسی علاقے کے رہائشی  البہار غازی کا بیٹا ہے ۔ اتوار صبح نو بجے اسے پولیس کی حراست میں دے دیا گیا۔

دیبھاتا پولیس نے اس بات کی تصدیق کی کہ مقامی لوگوں نے عبد الغفار نام کے ایک مجرم کو پکڑ کے حوالہ پولیس کیا ہے اور  اسے موبائل کورٹ میں پیش کیا گیا جہاں  ایک سال کے لیے جیل قید کی سزا دی گئی۔  جماعت اسلامی دیبھاتا کے امیر اسد الاسلام  نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عوامی لیگ  حسب معمول اس واقعے کو بھی جماعت پر تھوپنا چاہتی تھی جو اس کے اپنے لیڈر نے ہندوں کے گھروں کو جلایا۔

RTNN: http://www.english.rtnn.net//newsdetail/detail/1/4/56410
Daily Manabzamin: http://mzamin.com/details.php?mzamin=MzE1Mw{2411537f5ce8514dec5fce0f2b7347dc36eb86882b4b3fdde7dcfc6e5713c580}3D{2411537f5ce8514dec5fce0f2b7347dc36eb86882b4b3fdde7dcfc6e5713c580}3D&s=MQ{2411537f5ce8514dec5fce0f2b7347dc36eb86882b4b3fdde7dcfc6e5713c580}3D{2411537f5ce8514dec5fce0f2b7347dc36eb86882b4b3fdde7dcfc6e5713c580}3D
Jugantor: http://www.jugantor.com/current-news/2013/12/16/50331

تین عوامی لیگ کارکن ججز کے گھروں پر حملہ کرتے پکڑے گئے(15 دسمبر 2013ء)

pic 2

عوامی لیگ کے طلبا ونگ  بنگلہ دیش چھاترا لیگ  کے تین رہنما اور کارکن اس وقت تین پیٹرول بمبوں کے ہمراہ  پکڑ لیے گئے جب  وہ  نوکھالی ضلع کے علاقہ سنباغ، کابل پور میں رہائش پذیر انٹرنیشنل کرائم ٹرابیونل (آئی سی ٹی ون) کے جج  جسٹس جہانگیر حسین کے گھر پر حملہ کرنے ہی والے تھے۔

سنباغ پولیس نے ایس آئی شاہ جہاں کی قیادت میں ان تینوں غنڈوں کو ہفتہ کی شب 11 بجے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ تینوں ملزمان کی پہچان کچھ اس طرح ہوئی ، جاہد حسین بابو صدر  بنگلہ دیش چھاترا لیگ  وارڈ نمبر 5 مہدی پور  ولدیت عبد المطلب عمر 22 سال ، رسل بابو ولدیت دلال حسین عمر 20 سال، عمر فاروق ولدیت شریعت اللہ عمر 19 سال سکنہ عظیم پور گاؤں۔

RTNN : http://www.english.rtnn.net//newsdetail/detail/1/4/56418

6 عوامی لیگ کارکن اپنے ہی پیٹرول بمبوں کا نشانہ بن گئے (10 دسمبر 2013ء)

6 عوامی لیگ کے کارکن اس وقت اپنے پیٹرل بمبوں کا نشانہ بن گئے جب مقامی جماعت اسلامی کے امیر کی ایک دکان  کو آگ لگانے

کی کوشش کر رہے تھے۔ تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ سوموار کی صبح 8:30 بجے صبح  چاودانگا  ضلع کے گاؤں ہاپانیا میں ہوا۔

زخمی افراد کی پہچان کچھ اس طرح ہوئی؛ کھوکھن ولدیت اسماعیل منڈل، عطیع اللہ  ولدیت غلام مصطفی، انتظام الحق ولدیت محمد علی، مینارل ولدیت خواج علی، حسیبل ولدیت اعجاز الدین منڈل اور عبد الغفور ولدیت ادو منڈل۔

مقامی ذرائع کے مطابق  جماعت اسلامی کے امیر کی چائے کی دکان پر تقریباً 10 سے ٍ2 افراد چائے پی رہے تھے جب چند نامعلوم افراد نے  پیٹول بمبوں نے حملہ کیا لیکن بم ان کے قریب پھٹ گئے جس کی وجہ سے وہ خود ہی اپنے بمبوں کا نشانہ بن گئے۔ زخمی ہونے والوں کو  قریبی چاودانگا سردار ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا۔

RTNN: http://www.english.rtnn.net/newsdetail/detail/1/4/56351#.Uq4wNuLD_1U

جمعیت کے مظاہرے کے دوران ملٹری کانوائے پر جبو لیگ کا کارکن حملہ کرتے پکڑا گیا (2 دسمبر 2013ء)

pic 3

30 سال جہانگیر جبو لیگ (یوتھ ونگ عوامی لیگ) کے کارکن اس وقت پولیس نے پکڑ لیا جب وہ فینی میں ملٹری کانوائے پر حملہ کر رہا تھاوہ ملٹری کانوائے پر اینٹیں پھینک رہا تھا۔ تفصیلات کےمطابق  جہانگیر نے اسلامی چھاتروشبر ( اسلامی جمعیت طلبہ ) کے روڈ بند کرنے کے مظاہرے میں حصہ لیا اور شبر کو پھنسانے کے لیے آرمی کانوائے پر اینٹیں پھینکنا شروع کر دیں جس پر شبر کے کارکنان نے اسے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔  جہانگیر  جبو لیگ کے پچگچئیا یونٹ  فینی کا متحرک کارکن ہے۔

Daily Sangram: http://www.dailysangram.com/news_details.php?news_id=133651

اپنا تبصرہ بھیجیں