سورہ النجم …….. ستارے کی داستان – عائشہ فہیم




لفظ “نجم” ستارے / ستاروں کے مجموعے کو کہا جاتا ہے ۔ اور تارے کے غروب ہونے سے کیا مراد ہے ؟ معارف القرآن کے مصنف لکھتے ہیں کہ “ستارے کا گرنا دراصل اس کا غروب ہونا ہے ۔” یہاں جو لفظ “ھویٰ” ہے ، اس سے مراد ستاروں کا گرنا (stars falling) ہے۔
آپ نے غور کیا کہ اللہ تعالیٰ ایک ایسے تارے کی قسم کیوں کھا رہے ہیں جو غروب ہوا ہو ……. ! کیونکہ عرب کے لوگ ستاروں اور ان کے گرنے کو غیر معمولی اہمیت دیا کرتے تھے ۔ ستاروں کے گرنے سے ان کی دعائیں اور امیدیں associate ہوا کرتی تھیں ۔ انہیں یہ بھی لگتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی astrologist (علم نجوم کا جاننے والا) یہ کلام لاکر دیتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ عربوں کی اس نفسیات کے مطابق اس لفظ کا استعمال کررہے ہیں۔ چونکہ ان کی نظر میں ایسے تاروں کی غیر معمولی اہمیت تھی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ اسی کی قسم کھاکر بات شروع کرتے ہیں، تاکہ مخاطب اس کا ذکر سن کر چونک جائے، متوجہ ہوجائے۔
اس سے ایک بات یہ بھی سیکھنے کو ملتی ہے کہ جب آپ مخاطب سے کسی موضوع پہ بات کررہے ہوں، اپنی کوئی بات پہنچانا چاہ رہے ہوں، اس کی اصلاح کرنا چاہ رہے ہوں، تو اس کے لیول کو سمجھیں، جس بات کو وہ اہمیت دیتا ہو اسے اہمیت دیں، اس کو اُسی کی مثالوں کے ذریعے بات سمجھائیں اور پھر مدعا بیان کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں