ایسا کہاں سے لاؤں؟ – بنتِ سحر




وہ ایک غریب چرواہا تھا ۔ جنگل میں بکریاں چرانے والا، جس کی کُل کائنات اس کی بکریاں تھیں۔ ایک ایک بھیڑ ، ایک ایک بکری اس کے لیے اہم تھی۔ کہ کھو جاتی تو لیتا کیسے؟ وہ اس کی آمدن کا ذریعہ تھیں۔ پھر ایک دن یوں ہوا کہ وہ جنگل میں اپنی بھیڑ بکریوں کو چرا رہا تھا۔
اچانک ایک جانب سے بھیڑیا نکلا اور ایک بکری کو اچک کے لے گیا۔ بدنصیب چرواہا روتا رہا ، روتا رہا، آنسو تھے کہ بہتے جا رہے تھے ۔ اچانک خاموش ہوا یوں جیسے کوئ خیال گزرا ہو۔پھر انگلی اٹھا کر آسمان کی جانب اشارہ کرتے ہوۓ بولا:
“عمر فاروق (رض) وفات پا گۓ”۔
اورہاں ـــــــاس روز شہر میں منادی کرادی گئ کہ خلیفۂ وقت عمر ابن خطاب رض وفات پاگۓ۔ جانتے ہو عمر فاروق رض کون تھے ؟ خلیفۂ وقت !! کیا تعارف تھا اس شخص کا جسے دنیا عمر بن خطاب رض کے نام سے جانتی ہے؟ بہادر …….. دلیر ……… جری …….. جوشیلا ……… نڈر ………. بے باک جوان …….. عادل حکمران اور ………. عظیم فاتح !! حق کا اعلان باآواز بلند کرنے والا
ایمان لایا تو نماز اعلانیہ ہونے لگی قیصر و کسریٰ جیسی ناقابل تسخیر قوتوں کو شکست فاش دینے والا، بیت المقدس کا محافظ، قوم کی بیٹیوں کی داد رسی کرنے والا، بیواؤں اور یتمیوں کو حقوق دلوانے والا ، جو دریا کےکنارے پڑے کتے کی بھی ذمہ داری لیتا تھا وہی عمر رض !!! حکمرانِ وقت بائیس لاکھ مربع میل کی شاندار اور وسیع سلطنت کا مالک
یا عمر بن خطاب !! ایسا کہاں سے لاؤں تجھ سا کہیں جسے ؟ (رضی اللہ عنہ)

اپنا تبصرہ بھیجیں