خسارا خسارا ہے – ایمن طارق




“والعصر کی قسم انسان بڑے خسارے میں ہے ۔سواے اُن لوگوں کے جو ایمان لاے ، اور نیک عمل کرتے رہے ۔ اور حق لی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے ۔”
زندگی کے انوکھے رنگ دیکھنے کو ملے جب سے ۲۰۲۰ کا یہ سال طلوع ہوا …….. ایسی دنیا بدلی کہ کتنوں کہ اندر باہر ہلچل مچ گئ ۔ ناممکن ممکن اور ممکن ناممکن ہوے ۔ انسان کو خود اپنے اندر جھانکنے کا وقت ملا ۔ شاید یہ سب سے اچھا ہوا ۔ ادھر اُدھر دیکھنے سے فرصت ہی نہ ملتی تھی ۔ چلتی پھرتی بھاگتی دنیا کے ساتھ ہم بھی سب بھاگتے دوڑتے اچانک رُک گۓ یا روک دیے گۓ اور سوچنے کے لیے سامنے سورت العصر آگئ ۔
کیا محفل کی جان تھے ہم
اتنے متحرک کہ نچلے نہ بیٹھتے
یا ملٹئ ٹاسکنگ ہماری پہچان
اپنے شعبے کے ماہر
اپنے حلقے کے ستارے
لیکن اگر یہ چار کام ہماری زندگی کی پہچان نہ تھے تو واقعی خسارے میں رہے ۔ ایمان تھا لیکن اس لفظ کی ادائیگی سے ہی واقفیت تھی ۔ کیسا یقین ؟ کس پر یقین ؟ وہ کہاں ہے اور کیا حق ہے اُس کا جس پر یقین اور پھر جب پہلی سیڑھی ہی کمزور ہو تو دوسری پر جانے سے پہلے ہی لڑکھڑا جاتے ۔ ایمان کو نہ جانا تو عمل سے ڈرتے رہے حق کی نصیحت تو کیا ہی کرتے خود حق سے بھاگتے رہے اور یوں صبر جیسے کسی مرحلے سے ناآشنا ۔
پروڈکٹیویٹئ ( productivity )کی جتنی تعریفیں ڈکشنریز میں موجود ہیں سب پر پورا اُتر بھی جائیں اور سورت العصر کی روشنی میں زندگی کا مقصد نہ سمجھ سکیں تو خسارا ہی خسارا ۔ یہ لاک ڈاون زحمت تو تھا لیکن وقتی جب اس سے باہر نکل کر آئیں ہیں تو دعا ہے کہ سوچ کے در کھولنے اور وقت کے مقصد کو سمجھنے کی خصوصی بصیرت کے لیے یہ مددگار ہو جاۓ ۔ آواز بڑے زور سے آتی ہے
خسارا خسارا ہے سواے اُن کے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں