خون کی گواہی




 تحریر :بتکرِ نور

۲۷ ربیع الثانی۱۴۳۴ ؁ھ
۱۰مارچ ۲۰۱۳ ؁ ء
خون کی گواہی

اس تحریر کا ٰآغاز میں سلیم منصور خالد کی مرتب کردہ کتاب البدر کے شروع میں دیے گئے الفاظ سے کرتا ہوں:
اس لہو کے نام۔۔۔
جو۔۔۔ پاکستان کے لیے بہا
اور ۔۔۔پاکستان کے لئے اجنبی ٹھہرا
کتاب کے اگلے صفحے پر سورہ احزاب کی آیت ۲۳ درج ہے:(فَمِنھُم مَن قَضٰے نَحْبَہٗ وَمِنْھُمْ مَّنْ ےَنْتَظِرْ)
ترجمہ: ان میں کوئی اپنی نذر پوری کر چکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے۔۔۔
جن آشفتہ سروں نے مشرقی پاکستان میں اپنے سروں کو جلا کر نفرت و بے دینی کے گھور اندھیروں میں اجالا کرنے کی کوشش کی ان کی تعریف میں اس آیت کا انتخاب عین حق ہے۔ �آج جو لاوہ بنگلہ دیش میں ابل پڑا ہے وہ اسی گرم لہو کی آنچ کے باعث ہے جو ۱۶ دسمبر ۱۹۷۱ ؁ کے بعد پوری شقاوت و بے رحمی سے بہایا گیا۔
تفصیل برطرف کہ اس کے لیے ایک مضمون تو کیا ضخیم کتب بھی ناکافی ہوں گی، اسے کسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھتے ہیں۔ سرِدست کچھ اہم امور جو کہ فوری توجہ کے طالب ہیں پیشِ خدمت ہیں۔
جب سے بنگلہ دیش میں اسلام پسندوں اور بے دینی کے علمبرداروں کے مابین حالیہ مناقشت نے زور پکڑاہے؛ وطنِ عزیزمیں بھی طرح طرح کے اخباری و غیر اخباری ’دنیا‘ کے ’لال‘ بھجکڑوں نے بنگالی بے دینوں کی حمایت او ر تاریخ کو مسخ کرنے کی جسارت کی ایک اور قسط پیش کرنا شروع کر دی ہے۔ لیکن قرائن بتاتے ہیں کہ اب یہ آخری قسط ہی ہو گی۔
مفصل تاریخ میں جائے بغیر مختصراََ یہ ہے کہ ۱۹۷۰ ؁ ء سے مسلسل بگڑتے ہوئے حالات کے پیشِ نظر اسلامی جمعیتِ طلبہ مشرقی پاکستان (جسے بنگلہ زبان میں اسلامی چھاترو شنگھو کہا جاتا تھا) کے نظم نے ۱۰ مارچ ۱۹۷۱ ؁ ؁ء کو ڈھاکہ میں صوبائی مجلسِ شوریٰ اور ناظمینِ اضلاع کا اجلاس طلب کیا اور صوبے کے صورتِ حال کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعدتین ممکنہ راستوں میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے پر غور ہوا کہ اس وقت تین ہی راستے تھے:
۱۔ حالات کے رخ پر بہتے ہوئے کھل کر علیحدگی پسندوں کا ساتھ دیا جائے۔۔۔یا
۲ ۔ حالات کو اپنے رخ پر بہنے دیا جائے اور غیر جانبدار رہا جائے۔۔۔۔یا
۳۔ حالات کا رخ موڑنے، پاکستان کی سالمیت اور مظلوم عوام کے تحفظ کے لئے میدانِ عمل میں اتر کر اپنی زمہ داریوں کو ادا کیا جائے۔
ان تینوں تجاویز پر تفصیلی بحث و مباحثہ ہوا اور آاخرِ کاریہ طے پایاکہ:
’اسلامی جمعیتِ طلبہ مشرقی پاکستان، سالمیتِ پاکستان اور شہریوں کی جان و مال و آبرو کے تحفظ کے لئے آگے بڑھے گی۔ مشرقی پاکستان کے شہری دو طاقتوں کے درمیان پِس رہے ہیں، جن میں ایک جانب دشمن گماشتے، انتہا پسند ہندو ایجنٹ اور خونی انقلاب کے علمبردار کمیونسٹ ہیں جو ملک کی آزادی کو پارہ پارہ کرکے اسے ہندوستان کا زیرِ نگیں بنانا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان کی سول اور فوجی انتظامیہ میں شامل کئی قسم کے غلط عناصر بھی ہیں۔ ان دونوں طبقوں کے خلاف بہ یک وقت سرگرمِ عمل ہونے کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہے کہ ہم ایک جانب اسلامی جذبے کے ساتھ دشمن کی طاقت سے میدانِ عمل میں ٹکر لیں اور دوسری جانب طاقت کے قریب پہونچ کر اس کی اصلاح کی اپنی سی کوشش کریں۔ ہمارا یہ فیصلہ پاکستان کے بے گناہ شہریوں کی جان و آبرو بچانے کا فیصلہ ہے۔‘
اس فیصلے کا باقاعدہ اعلان ناظمِ ڈھاکہ جمعیت، سیدشاہ جمال چودھری شہیدؒ نے۱۴ مارچ ۱۹۷۱ ؁ ؁ء کوجامع مسجد ڈھاکہ یونیورسٹی میں اجتماعِ کارکنان میں کیا اور کارکنانِ جمعیت اس مقصد پر یکسو ہو گئے۔ اگلے دن ۱۵ مارچ کو کارکنانِ جمعیت پر مشتمل ایک رضا کار فورس کا قیام عمل میں لایا گیا جسے فی الوقت کوئی نام نہ دیا گیا لیکن بعد میں میجر ریاض حسین ملک، جنہوں نے پاک فوج کی جانب سے سب سے پہلے اس تنظیم سے ربط قائم کیا، نوجوانوں کے جذبے کو دیکھتے ہوئے اس فورس کو البدر کا نام دیا۔
البدر اور اس کی برادر تنظیم الشمس(جو کہ جماعتِ اسلامی مشرقی پاکستان کے محبِ دین و وطن بنگالی و بہاری کارکنان پر مشتمل تھی) نے اپنے حلف کا پاس رکھا اور سچے مسلمان اور کٹر پاکستانی کی حیثیت سے جان کی بازی لگا کر پاک فوج کے شانہ بشانہ لڑتے ہوئے مادرِوطن کا دفاع کیا۔ ہماری ہی صفوں میں موجود وہ بدبخت جو میر جعفر و میر صادق کی روایات کے امین ہیںآج پوری بے شرمی سے ان محبِ وطن لوگوں کو قابلِ گردن زدنی قرار دے رہے ہیں جنہوں نے اپنی سرزمین کے دفاع کی جنگ لڑی، وہ جنگ جو کسی بھی ملک کاذمہ دار شہری ، دہشت گردوں ، غیر ملکی جارح افواج اور ان کے پروردہ مقامی گماشتوں(یعنی وطن کے غداروں) کے خلاف لڑنے کا بھر پور حق رکھتا ہے۔
میں ان عقل کے اندھوں اور نفرت کے بیوپاریوں کے سامنے کچھ سوالات رکھنا چاہتا ہوں جن کی بابت مجھے پورا یقین ہے کہ ان کے پاس ان کا کچھ جواب نہ ہوگا علاوہ آئیں بائیں شائیں کرنے اور ہونٹ کاٹنے کے!
میر جعفر ذرا بتا ئیں کیا اگر کراچی پر غیر ملکی افواج کے amphibious ، فضائی اور چھاتہ بردارحملے کے دوران غیر ملکی حمایت یافتہ انواع و اقسام کے مقامی لسانیت پسند، فرقہ پرست اور دیگر شر پسند گروہ قتل و غارت اور نجی ، سرکاری و فوجی املاک پر حملے شروع کر دیں اور ان کے جواب میں کراچی کے محبِ وطن ایک مسلح تنظیم بنا کر فوج کی حمایت میں ان دہشت گردوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں لیکن قابض غیر ملکی افواج اور ان کے حمایت یافتہ مقامی دہشت گردوں کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہو جائیں، نتیجتاََ، خاکم بدہن کراچی بھی مشرقی پاکستان کی طرح ہاتھ سے نکل کر جناح پور، اردو دیش ، Neo Karachi یا کسی اور نام سے آزاد مملکت بن جاتا ہے، تو پاک فوج کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کے خلاف لڑنے والے عام شہریوں کے ساتھ مخصوص لسانی و فرقہ پرست گروہ کیا سلوک کریں گے؟ کیا وہ شہری بھی اردو دیش یا ایم آئی سِکسِستان کے غدار اور مجرم قرار دے کر کسی نام نہاد ٹرائبیونل کے ذریعے پھانسی چڑھا دیئے جائیں گے؟ کیا تم اس عمل کو بھی اپنی لعنت ذدہ ذہنیت کے مطابق حمایت فراہم کرو گے؟ کیا بلوچستان میں بی ایل اے یا بلوچ ریپبلکن آرمی؛ گریٹر بلوچستان کے لئے کسی ایسی ہی کامیابی سے دوچار ہونے کے بعدمحبِ وطن بلوچوں اور بچے کچھے پنجابیوں اور پٹھانوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرے تو تمہاری نظر میں کیا وہ حق بجانب ہو گا؟ بالفرض تحریکِ طالبان پاکستان؛ فاٹا کے علاقے میں کامیاب ہونے کے بعدپر قبضہ کے بعدامارتِ اسلامی وزیرستان قائم کر دیں اوران تمام قبائلیوں کو جنہوں نے لشکر بناکر پاکستانی فوج کا ساتھ دیاہے انہیں امارتِ اسلامی سے غداری کے جرم میں چن چن کر زبح کرنا شروع کر دیں تو کیا پھر بھی تم انہی کو ظالم اور طالبان کو مظلوم اور فریڈم فائٹر قرار دو گے؟
یاد رکھو اے میر جعفرو! مشرقی پاکستان میں محبِ وطن افراد نے اپنے وطن و آبرو کو بچانے کی خاطر ذمہ دار شہریوں کی مانند اپنے وطن کے دفاع میں حصہ لیا اور مقامی لسانیت پسند، وطن دشمن دہشت گردوں اور جارح بھارتی افواج کے خلاف مسلح جدوجہد کی حتیٰ کہ شکست کا اذیت انگیز لمحہ آن پہونچا، اور البدر و الشمس سے وابستہ ہزاروں افراد کو چن چن کربھیانک ترین اذیتیں دے کر شہید کیا گیا، کھلے میدانوں میں، چوراہوں پر میلے لگااجتماعی قتل کی تقاریب منعقد کی گئیں اور مکتی باہنی کے تازہ تازہ ’حریت پسندوں‘ نے ان عاشقانِ پاک طینت کو بھیڑ بکریوں کی طرح زبح کیا۔ اب اگرکوئی پھر بھی انہیں غدار اور ظالم قرار دے تو اسے احمق ہی کہا جا سکتا ہے کیونکہ ان سے بہتر محبِ وطن گروہ مشرقی پاکستان میں موجود نہ تھا۔
رہی بات جنگی جرائم کے الزام کی تو سوال یہ ہے کہ گذشتہ ۴۲سال سے بنگلہ حکومت اور عدلیہ کیا بھنگ پی کر سو رہی تھی یا اب ان کواچانک کشف ہواہے کہ جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کی قیادت ان جرائم میں ملوث تھی۔ عقل کا تقاضا یہ تھا کہ اگر یہ لوگ انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث تھے تو نام نہاد انقلابی ۷۱ء میں ہی ایک ٹرائبیونل بنا کر ان کو ٹانک دیتے، تب تو لاتعداد گواہ اور ڈھیروں ثبوت بھی مل جاتے ، تب تو ان کے مظالم کے شکا ریا ان کے رشتہ دارتو موجود ہی ہوتے ، تب تو ان کے خلاف نفرت کا لاوہ بھی ابل رہا تھااور فوری طور پر اس قسم کابندوبست کر کے انہیں ٹھکانے لگانا کچھ مشکل نہ تھا ،اب تو جو گواہ بھی میسر آئے ہیں وہ بھی دھڑادھڑمنحرف ہو رہے ہیں اور جو نہیں ہوئے ان کے بیان آپس میں نہیں ملتے! پھر بھلایہ ڈرامہ رچانے کی کیا ضرورت تھی؟
بات بالکل واضح اور آسان سی ہے، یہ سارا ڈرامہ بنگلہ دیشی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کا اسلام اور پاکستان سے نفرت اور بھارت سے محبت کا شاخسانہ ہے۔بھارت کے لئے کسی بھی صورت میں اپنے مشرق میں ایک راسخ العقیدہ مسلم قابلِ قبول نہیں ہے، اور بھارت کی نظر میں اس راسخ العقیدگی اور اسلام سے محبت کو پروان چڑھانے کی ذمہ دار جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش ہے، لہٰذا ان لوگوں کو نشانِ عبرت بناکر نہ صرف سیاسی بلکہ سٹریٹیجک فوائدبھی حاصل کرنے کا ارادہ کر لیا گیا ہے ،ڈھاکہ میں موجود بھارتی ہائی کمیشن کھلے عام عوامی لیگ اور دیگر اسلام دشمن عناصر کی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے، لیکن اللہ سبحانہ وتعالٰی بھی تواپنی چالیں چلتا ہے! بجائے اس کے کہ عوامی حمایت حاصل ہوتی الٹاعوامی غیض و غضب ان کے گلے کی ہڈی بن گیا ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ ہمارے دانشور بھی ریت سے سر نکالیں اور نوشتہء دیوار پڑھ کر اس حقیقت کا اقرار کریں جسے جان بوجھ کر گذشتہ ۴۲ سال سے چھپایا جاتا رہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ دین و وطن پر جان نچھاور کرنے والوں کا اصل جرم اسلام سے محبت اور یسے ایک وظیفہء حیات کے طور پر پہچان کراس کو معاشرے میں رائج کرنے کی کوشش تھی اور پاکستان وہ مقدس سر زمین تھی جہاں اس نظامِ حیات کو نافذ کرنے کا تجربہ کیا جانا تھا، اسی لئے انہوں نے جی جان سے اس مقدس سر زمین کا دفاع کیا۔ اور یہ جرم ایسا ہے کہ ابلیس نہ کسی پیغمبر کو معاف کرتا ہے نہ اس کے ماننے والوں کو۔ازل سے خدا کے نام کے علمبرداروں اور ابلیس کے پیروکاروں کے درمیان یہ کشاکش چلی آرہی ہے، البدر تو محض ایک اور عنوان تھااہلِ حق کے لئے!
از
بکترِ نور
(نوٹ :یہ مضمون مورخہ ۱۰ مارچ کو لکھاگیا تھا، معمولی ردو بدل کے بعدموجودہ حالات کے تناظرمیں پھر حاضرِ خدمت ہے)

خون کی گواہی” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں