لو ایک پھول اور کھلا




اس وقت جب آسمان پر ڈوبتا سورج دلکش رنگ بکھیر رہا ہے. منفی ١٢ سینٹی گریڈ میں برف سے ڈھکے پٹ پاتھ پر میں تیز تیز چلتی ٹرین کے سٹیشن کی طرف جا رہی ہوں… دل کا جام ایک انوکھی مسرت سے لبریز ہے… کسی بھی لمحے چھلک جانے کو بیتاب.
آج کا دن بہت سی نو مسلم خواتین کے ساتھ اس مزیدار اور منفرد سی گیٹ ٹو گیدر میں گزارا ہے. باتیں، باتیں اور باتیں. خواتین کو بھلا اور کیا چاہیے؟ اس کے بعد اپنے بارے میں بہت کچھ بتانا… اف… ہر ایک کے پاس بتانے کو کتنا کچھ تھا؟
دین اسلام کے بارے میں سب سے پیاری بات جو مجھے ہمیشہ متاثر کرتی ہے…
میری زندگی کی وہ آزمائش جو میرے لئے چلینج بنی… میں نے کیسے اس کا مقابلہ کیا.
میرے پاس آپ کو دینے کے لئے کیا ہے؟
یہ اور ایسے کتنے ہی دلچسپ سوالات. جو سب نے سب کو بتاے.
اور چاولوں کی وہ مزیدار سی ڈش جو ایک سسٹر مشھور و معروف “بریانی” کہہ کر بنا لائیں. اور پاکستانی خواتین ہنس ہنس کر تصیح کرتی رہیں، یہ وہ “پاکستان والی” بریانی نہیں ہے…
ان ڈاکٹر، انجینئیر، سائکولوجست، استاد، ریکروٹر، اور بہت سے دیگر شعبوں میں کام کرنے والی خواتین کے لئے اس دین کی سب سے متاثر کن بات ” اسلام میں عورت کا مقام” تھی.
“مجھے اس بات نے ہمیشہ حیران کیا کہ ماں کا درجہ باپ سے بھی تین گنا زیادہ ہے.”
“میرے لئے سب سے خوبصورت بات یہ کہ اپنے والدین کو اف تک نا کہو… “.
“میرے دین میں عورت کا کردار بحیثیت ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے کتنا اہم ہے.
“میری آنکھیں بھر آئیں، جب میں نے سنا کہ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ اچھا ہے.”
“مجھے یہ اب پتہ چلا کہ تحفہ دینا اور مسکرانا بھی سنت ہے.”
” میرے لئے معافی سب سے اچھی بات ہے… آپ سے جو بھی ہو جاے. آپ کا رب توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھتا ہے.”
” میرے لئے اسلام کی وسعت نظری اور وسعت قلبی سب سے متاثر کن ہے.”
“مسلمان اپنی کمیونٹی کا بہت خیال رکھتے ہیں. یہ خوبی دوسروں میں کمیاب ہے.”
“میرے لیے سب سے اہم مسلمان کی عاجزی ہے. سب کچھ کر کے بھی ہر کام کو اللہ کی طرف منسوب کرنا…. کسقدر خوبصورت ہے.”
“الحمدللہ، انشا الله ماشااللہ اور جزاک اللہ کتنے خوبصورت جملے ہیں.. کیا آپ لوگوں کو احساس ہے کہ اپ کے پاس کہنے کو کتنے خوبصورت کلمات ہیں؟”
“نیت کی اعمال پر برتری… آپ کتنا کچھ بھی کر لیں، آپ کی نیت کا کس کو اندازہ ہوتا ہے.. وہ سب جو آپ کے دل پر گزرتی ہے… مگر آپ کے رب کے نزدیک نیت اعمال پر مقدم ہی نہیں، بلکہ اعمال کا مدار ہی نیت پر ہے… ”
جو نو مسلم تھیں وہ دین کی نعمت کو پا کر خوش تھیں، اور جو پیدائشی مسلمان تھیں (گویا کہ سونے کا چمچہ منہ میں لئے پیدا ہونے والیاں ) وہ کہہ رہی تھیں کہ ہم دین کو سیکھنا چاہتے ہیں. مسلمان گھرانوں میں پیدا ہونے کا مطلب یہ کب سے ہوا کہ ہم سب زمہ داریوں سے بری الزمہ ہو گئے.
ان چھوٹے چھوٹے جذبات سے لبریز جملوں میں کیا کیا کچھ تھا.. اور اس ہنستی مسکراتی گفتگو میں کتنی اپنائیت تھی..
زندگی کتنی خوبصورت ہے… ہر صبح ایسا کچھ لاتی ہے، جس سے زندگی پر اعتبار کچھ اور بڑھتا ہے، انسانوں سے محبت کچھ اور گہری ہوتی ہے….. کھڑکی سے باہر کی دنیا تیزی سے پیچھے کو دوڑ رہی ہے… اور مجھ کو ایسا لگ رہا ہے کہ ٹرین میں بیٹھا ہر شخص بہت قیمتی ہے… اپنے اندر امکانات کی ایک پوری دنیا سموے، حیران کر دینے والی خوشی چھپاے… مجھ سے خود کو چھپا لینے کی کوشش کرتا ہوا… میں شرارت سے مسکرا رہی ہوں…
مجھے لگتا ہے، میں تم کو جان رہی ہوں!

اپنا تبصرہ بھیجیں