ستارے کی داستان – عائشہ فہیم




نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی۔ مشرکین اسے جھٹلاتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ مثالوں اور شواہد کے ذریعے یہ یقین دلارہے ہیں کہ وہ عین برحق ہے! کیسے !
* کیونکہ انہوں نے وحی لانے والے فرشتے کو صبحِ روشن اور بیداری کی حالت میں افقِ اعلیٰ پہ دیکھا تھا ۔۔ واضح اور صاف!م
* اس سب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داخلی حالت بھی مکمل ہوش و حواس میں تھی۔ ایسا کوئی خیال پہلے سے ان کے ذہن میں نہ تھا ۔
* جس ہستی کو دیکھا، اسے پہلی مرتبہ دیکھا، جس کا تصور بھی ذہن کے نقشے پہ پہلے کبھی نہ ابھرا ۔۔
* جو تعلیم انہوں نے دی، کسی شیطان سے ویسی تعلیم کی توقع نہیں کی جاسکتی ۔۔

تو اگر تمہاری بصارتوں میں بصیرت نہیں ہے، اور تم حق کو پہچان نہیں پارہے ، تو کیا اس سے حقیقت باطل ہو جائے گی ؟ نہیں ! بلکہ رب کائنات تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توصیف کررہے ہیں کہ اس کی نگاہوں نے جو کچھ دیکھا ، اسے ویسے ہی بیان کردیا ، کانوں سے جو سنا ویسے ہی آگے پہنچا دیا ۔ یہ ادراک و فہم اس کے “قلب” پہ ہوا تھا۔ اور اس کے دل نے جھوٹ نہیں بولا تھا ۔۔۔ جو دیکھا اس میں کذب کی آمیزش نہیں کی ۔ اور یہی وہ نکتہ ہے جس پہ آکر مشرکینِ مکہ کے قدم جکڑ جاتے تھے، زبانیں گنگ ہوجاتی تھیں ، کہ اس شخص کو “جھوٹا” کیسے کہہ دیں !! جس کی پوری زندگی صدق و امانت کی تصویر بنی رہی ……..

آپ نے غور کیا کہ اس میں ہمارے لئے سیکھنے کا ایک لطیف سا نکتہ ہے ؟ یہ کہ جو دیکھیں اور سنیں، اسے بلا کم و کاست آگے پہنچائیں ، دل اس میں جھوٹ کی ملاوٹ نہ کرے۔ قلبی میلان تعصب کا شکار ہورہا ہو تب بھی “قولاً سدیداً” کو پکڑے رہیں ۔ سیدھی اور سچی بات! مبالغہ آرائی نہ کریں۔ باتوں کو آگے پہنچاتے ہوئے اُسے اس کے مَحل سے نہ پھیریں ………. یہ امانت ہے! ⁦
(النجم، آیات 11,12)

اپنا تبصرہ بھیجیں