حجاب عورت کی معراج – صبا احمد




حجاب انسانیت اور عورت پر نہ صرف رحمت ہے ۔ بلکہ اس کی معراج ہے ۔ عورت کے معنی ہے ڈھکی ہوٸی اور چھپی ہوٸی چیز یا مخلوق کے ۔ جب اللہ تعالی نے حضرت حوا کو بنایا تو ان کو چادر سے ڈھانپ دیا ۔ جب حضرت علیہ السلام کو دکھایا تب بھی وہ ڈھکی ہوئی تھی ۔

اللہ تعالی کو بھی عورت چادر میں ڈھکی ہوٸی پسند ہے ۔ امی ثنا کو بتا رہی تھیں …… وہ فرسٹ ائیر میں تھی ہر شادی اور خاندان کے فنگشن پر بال کھول کر جاتی چونکہ بال لمبے اور گھنے تھے ۔لمبا قد گلابی رنگ ، ہر ایک کی منظور نظر تھی ۔ میرے ساتھہ بازار گٸی تو میں نی کہا بیٹا بال کھول کر بازار جانے کی کیا منطق ہے ؟ اس عمر میں لڑکیوں کو بننے سنورنے کا شوق تو ہوتا ہے مگر حدود کے اندر ہی سب کچھہ اچھا لگتا ہے ۔ میں عبایا پہن کر آٸی تو امی آپ ہر جگہ عبایا میں جانا ہوتا ہے ۔ اپنی ساری لک خراب کر دیتی ہیں ” ثنا نے کہا ۔ اللہ کا بھی حکم ہے ”حیا نہ کرو تو جو چاہے کرو “ اللہ تعالی بھی انسان کی رسی دراز کر دیتا ہے ۔ اس سے بے نیاز ہو جاتا ہے ۔مجھے رب کو راضی کرنا ہے دنیا کو لک نہیں دیکھانی “ امی نے جواب دیا ”٤ ستمبر یوم حجاب ہے آپ تو خواتین کی ریلی میں جاٸیں گی “۔امی سے ثنا نے کہا ”جو ممغربی تنظیمیں ہماری خواتین کو بھڑ کاتی ھیں ۔کہ اسلام خواتین کو تھیلے میں خلاف میں قید کر کے رکھتے ہیں ۔ قید میں گھر کی چار دیواری مگر اس کے باوجود اسلام نے عورت کو ہر طرح کے حقوق سے نوازا ہے ک دنیا تصور بھی نہیں کر سکتی ۔

امریکہ میں ان کے اسکارف کھیچے گۓ اور فرانس میں حجاب پر جرمانہ مروہ شرینی کو جرمنی کی عدالت میں شہید کیا گیا “ “امی نے کہا ”ثنا بولی مغرب نہیں آپ کو کچھ کہتا بلکہ آپ کے اپنے لوگ بھی کہتے ہیں ۔“ امی نے تعجب سے پوچھا ! کون ! …. اس دن بازار میں جب دکان پر مجھے کوٸ لباس پسند نہیں آیا ۔تو دکانداری نے کہا کہ ”ماں عبایا میں گھوم رہی ہے ۔ بیٹی جینز میں “تو بیٹا مجھے بات سننی پڑی آپ کی وجہ سے اگر آپ میرے کہنے پر عبایا پہن لیتی تو یہ نہ سننا نہ پڑتا ہم ماٶں کی آجکل یہی بد فسمتی ہے ۔کہ اولاد کو مغری لباس میں ترقی اورجدت نظر آتی ہے ۔“ امی نے کہا ”اسلام تو مردوں کو بھی عورتوں کی طرح اپنی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیتا ہے ۔سورت النور مگر مسلم مرد تو بھی اللہ کے حکم کی نافرمانی کرتے ہیں ۔ثنا نے کہا ، پھر عورتوں کو بھی اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنی چاہیے خود کو اور دوسروں کو بھی گناہ سے بچانا چاہیے ۔ امی” سنبل باجی کی شادی کی خریداری بہت مشکل ہو رہی ہے ۔ کل مہندی کا اور پرسوں شادی کا فنگشن ہے ۔سب کزنز نے خاندان کی پہلی شادی پر میوزک اور ڈانس کا پروگرام رکھا ہے تب ہی تو اتنی تیاریاں ہو رہی ہیں ۔ دولھے والوں سے مقابلہ ہے“ ۔ثنا نے بتایا ۔تمھارے ددیال کے ان فضول فنگشن ہی تو مجھے پسند نہیں اسی لیے میں کہیں نہیں جاتی ہے ۔“ امی نے کہا ۔“ ثنا جلدی تیار ہو جاٶ امی نے کمرے میں داخل ہوتے ہوۓ کہا پھر آپ نے بال کھلے چھوڑی ہیں ۔ مت کیا کرو بیٹا ہماری مذہب میں منع ہے۔

حدیت ہے کہ ًعہد صحابہ رضوان اللہ اور تابعین کے بعد جتنے بھی مفسرین گزرے ھیں انہوں نہے اور امام طبری نے بھی اس آیت کامفہوم بتایا ک شریف عورتیں اپنے لباس میں لونڈیوں سے مشابہ بن کر گھروں سے نہ نکلیں کہ ان کے چہرے اور سر کے بال کھلے ہوۓ ہوں بلکہ انہیں چاھیے کہ کہ اپنے اوپر چادروں کا ایک حصہ لٹکا لیا کریں تاکہ کوٸ فاسق ان کو چھیڑنے کں جرأت نہ کرے ۔(تفہیم القراآن ج ٤ ص ١٢٩ )۔ امی ” پھر درس “ ثنا نے کہا امی ”میں اپنا فرض ادا کرتی رہوں گی “. چلو شادی میں دیر سے پہنچے گیں پھو پھو ناراض ھونگی ۔ولیمے سے فارغ ہ ہونگے تو دعوتیں بھی سب کی کرنی ہیں ۔ امی چلیں ۔ میں تیار ہوں ۔اللہ کرکے شادی سے فارغ ہو ۓ تو مہمانوں کوتفریح کے لئے اور شاپنگ کیلیے لے جانے کا مرحلہ شروع ہو گیا ۔ کیونکہ دوسرے شہروں سے آۓ رشتوں داروں کا یہ مشغلہ ہوتا ہے . لارنس گارڈن گۓ سب لڑکیوں نےپھر بال کھلے چھوڑے ماٶں کے منع کرنے کے باوجود ۔مگر وہاں دوتین کو تو سبق مل گیا ۔وہاں درختوں کو دواٸ لگاٸ گی تھی کیونکہ وہ ایک ڈیرہ صدی پرانے تھے ۔ اور انہیں دیمک لگ رہی تھی ٹریمنٹ کیا تھا ۔ دواٸیاں لگاٸی گٸی تھیں ۔ کوٸی نوٹس بھی نہیں لکھہ کر لگایا ھوا تھا ۔ تصویرں لینے کے لیے ۔لڑکیاں حسب عادت درختوں کے پاس کھڑے ھوٸیں دواٸ ان کے بالوں سے چپک گٸ بال چپک گے اتنا دھویا مختلف تیل لگاۓ شیمپو کیے ۔

مگر بال الگ نہ ہوۓ آخر کار کاٹنے پڑے ۔ان کو سزا تو مل گٸ تھی اللہ کی نافرمانی کرنے کی اور امی نے انہیں باور بھی کروایا ۔ ثنا کے بہت زیادہ بال گرنے لگے پریشان رہنے لگی تو امی نے کہا ” اللہ تعالی سے معافی مانگو ۔ ھندوں کی کتاب میں بھی لکھا ہے کہ دنیا ختم ہونے یا قیامت کے قریب عورتیں اپنے بال کھول کر پھیریں گی اور زمین پر پاٶں پٹختی پھیریں گی ۔یعنی بڑی بڑی ایڑھی کی جوتیاں پہنیں گی زمین پر چلنے سے آواز پیدا ہوتی ہے یہ بھی غرور کی نشانی ہے جو اللہ کو زمین پر پسند نہیں ۔۔۔تو آجکل یہی ہورہا ہے ۔“ثنا کو اپنی نافرمانیاں یاد آٸیں کے میں امی کی ہر بات پر دنیاوی دلاٸل دیتی ہوں ۔ اللہ اور آخرت کو بھول بیٹھی ہوں ۔ایک بال کم ہونے پر میں پریشان ہوں ۔ اللہ تو ستر ماٶں سے زیادہ پیار کرتا ہے اس کو کتنا دکھہ ہوتا ہوگا کہ اللہ ﷻ اور نبی ﷺ کی امت کی بیٹی اس کے حکم کی پاسداری نہیں کرتی ……. سب کچھ جانتے ہوۓ انجانے میں انسان لاعلم ہوتا ہے اس سے غلطی سر زرد ہو تو سمجہ آتی ہے جانتے ہوۓ کرنے پر تو اللہ تعالی بھی معاف نہیں کرتا ۔۔اس نے اللہ تعالی سے رو رو کر معافی مانگی ۔ اور عبابا لینا شروع کر دیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں