حجاب اور دین – حناطہ عثمان




(حجاب کا لفظ قرآن مجیدمیں سات بار آیا ہے؛ اعراف: ۴۶، اسراء: ۴۵، مریم: ۱۷، احزاب: ۵۳، ص: ۳۲، فصّلت: ۵، اور شوری:۵۱.) قرآن:
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ۚ ذَ‌ٰلِكَ أَدْنَىٰ أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا
ترجمہ: اے نبی اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے مونہوں پر نقاب ڈالا کریں یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ پہچانی جائیں پھر نہ ستائی جائیں اور اللہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے۔۔

سورہ احزاب کی یہ آیت کے نزول کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کی بیویوں، بیٹیوں اور مومن عورتوں کو حکم دیا گیا کہ دوسروں کی اذیت سے بچنے اور اپنی شناخت کرانے کیلیے جلباب پہن لیں۔«ذلک اَدْنی اَن یعْرَفْنَ» یعنی مؤمن عورتیں کن لوگوں سے پہچانی جا‎ئیں اس بارے میں مفسروں کے مابین ایک نظریہ نہیں ہے۔ بعض لوگ آیت شریفہ کی شأن نزول کو مدنظر رکھتے ہو‌‎ئے کہتے ہیں کہ مدینہ کی خواتین کو آوارہ لوگوں کی طرف سے بری حرکات اور آداب و نزاکت کے دا‎ئرے سے باہر کی حرکتوں کا سامنا کرنا پڑا اور اعتراض کرنے پر ان کی طرف سے کنیز سمجھ کر مرتکب ہونے کا عذر پیش کرنے کی وجہ سے جلباب، آزاد عورتوں کو کنیزوں سے پہچاننے اور آوارہ لوگوں کی اذیت اور آزار سے بچنے کے لئے وسیلہ قرار دیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کنیزوں کو چھیڑنے سے شارع راضی ہو۔ان کے مقابلے میں بعض مفسروں کا کہنا ہے کہ جلباب پہننا دوسری عورتوں کے مقابلے میں پاکدامن اور باعفت خواتین کی نشانی ہے۔جبکہ اہل سنت کے بہت سارے مفسرین اور فقہا‌ء اور بعض شیعہ مفسرین اور فقہا‌ء نے بھی حجاب کے الزامی ہونے کو آیہ جلباب سے تمسک کیا ہے۔

جبکہ بعض اور فقہاء کی نظر میں اس آیہ میں یہ حکم نہ واجب ہے اور نہ ہی عام، بلکہ جلباب عورتوں کو پاکدامن اور «آزاد» دکھانے اور انکی شخصیت محفوظ کرنے کا ایک وسیلہ ہے۔ اور شاید اسی وجہ سے مدینہ کی بعض خواتین نے اس کا استقبال کیا قرآن: سورۃ الاحزاب:59
جلباب: عربی زبان کے ماہرین اور مفسروں نے جلباب کے لئے مختلف معانی ذکر کئے ہیں ان میں سے کچھ یہ ہیں:
سر سے پا‎‎‎ؤں تک ‎ڈھانپنے والا لباس جیسے بڑی چادر ….. وہ ڈھیلا لباس جو عورتیں کپڑوں کے اوپر پہنتی ہیں جو پاوں تک پہنچتا ہے۔ لحاف، مقنعہ اور سکارف جو عورت کا چہرہ اور سر کو ‎ڈھانپ لیتا ہے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مردوں کے بعض کپڑوں کو بھی جلباب کہا جاتا ہے۔ اس آیہ شریفہ کے حکم میں جلباب سے مراد پورا بدن ‎ڈ‎ھانپنے والا (جیسے چادر یا لحاف) کپڑا ہونے کا احتمال قوی ہے۔ جِلباب ایک لمبا ڈھیلا ڈھالا لباس ہے جو بہت سی مسلمان عورتیں پردہ یا حجاب کے لیے گھر سے باہر نکلتے ہوئے پہنتی ہیں۔ یہ برقع سے کافی ملتا جلتا ہے اور اس لباس کو جلباب عام طور ہر صرف عرب ممالک میں کہا جاتا ہے۔ اسے جُبہ بھی کہا جاتا ہے۔جدید جلباب چہرہ، سر اور ہاتھوں کے علاوہ تمام جسم کو ڈھیلے ڈھالے انداز میں ڈھانپ دیتا ہے۔ سر اور گردن کو ایک علاحدہ ٹکڑے سے جسے خمار کہتے ہیں ڈھکا جاتا ہے۔ بعض خواتین نقاب سے چہرہ اور ہاتھ بھی ڈھانپ لیتی ہیں۔

حجاب: حجاب کے لغوی معنی پردہ اوٹ،نقاب اور ڈھانکنا یا چھپاناہے۔ کئی ایشیائی اور مغربی ممالک میں حجاب سے مراد خواتین کا سر، چہرہ یا جسم کا ڈھکنا یا چھپانا لیا جاتا ہے۔ اسلامی فقہ میں حجاب کا تعلق پردہ سے ہے جس کو شرم و حیا اور اخلاقی اقدار کے تحفظ کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔
بُرقَعہ: بُرقَعہ اسلامی تہذیب میں خواتین کا بیرونی پیراہن ہے۔ بالخصوص اس کا استعمال پردے کے روپ میں ہوتاہے۔ اس طرح کا پردہ دنیا کے تمام مسلم گروہوں میں پایا جاتا ہے۔ البتہ الگ الگ مقامات میں الگ الگ نام سے پردہ کا اہتمام ہو رہا ہے۔ برقع، عرب ممالک اور بر صغیر میں استعمال عام ہے۔
برقعینی: برقعینی خواتین کا لباس تیراکی ہے جسے خاص طور پر مسلمان خواتین کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس کا مقصد تیراکی کے لیے باحیا لباس فراہم کرنا ہے۔ یہ تمام جسم کو ڈھانپتا ہے۔ مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلم خواتین میں بھی اس کے استعمال کا رواج ہے۔
فقہی اہمیت: فقہ اسلامی کے مسالک میں چہرے کے پردے کے بارے میں علما میں اختلاف ہے۔

بعض علما کے مطابق یہ لازمی ہے اور بعض کے مطابق عورت کی مرضی پر منحصر ہے۔ کچھ مغربی ممالک میں اسلام سے نفرت کا اظہار نقاب پر پابندی لگا کر کیا گیا ہے۔ ان ممالک میں فرانس اور کینیڈا کا فرانسیسی صوبہ کیوبیک شامل ہیں۔
حجاب میں ذہنی سکون: جو قرآن اور احادیث کی تصریح کے مطابق ذہنی سکون، معاشرے میں اخلاقی اقدار کی حفاظت اور عفت اور حیاء کی قدر قیمت اور اہمیت کو اجاگر کرنا ہے- پر غور و فکر سے حجاب کے احکام کے مختلف مراحل پر تحلیل کی جا سکتی ہے۔ قرآن، احادیث کے لحاظ سے نامحرم مردوں اور عورتوں کا ایک دوسرے سے حیا اور عفت کی رعایت اور بعض دیگر امور (جیسے نامحرم مرد اور عورت کا ایسے جگہے میں خلوت کرنا حرام ہونا جہاں تیسرے شخص کے آنے کا امکان نہ ہو، مردوں کو شہوت نگاہ سے نامحرم کی طرف دیکھنے سے شدید منع کرنا، عورتوں کو نامحرم سے پردہ کرنے اور معاشرے میں ہر قسم کی تحریک آمیز رفتار جیسے تحریک آمیز باتوں اور زینت سے اجتناب کرنے) پر زور دینا عفت اور حیاء کا حجاب کے سے گہرے رابطے کی نشاندہی کرتا ہے۔

حجاب حکومت کی ذمہ داری: “عورت سے علم چھین لیا جائے تو جہالت نسلوں میں سفر کرے گی اور اگر علم کے نام پر پردہ چھین لیا جائے تو بے حیائ نسلوں میں سفر کرے گی”
اگرچہ حجاب اور پردہ کرنا قرآن اور دین کی طرف سے ایک حکم ہے کہ جو بالغ افراد کے اوپر واجب ہے، لیکن اس حکم کی ماہیت معاشرتی ہے اسی لئے اس کی رعایت کرنا اور رعایت نہ کرنا معاشرتی شکل میں ظاہر ہوتا ہے. دوسری طرف فردی اور معاشرتی دینی احکام کے دلائل اس بات کا اقتضا کرتا ہے کہ معاشرے میں تمام قوانین جاری ہوجائیں اور شارع دین کے احکام کی رعایت نہ کرنے پر راضی نہیں ہے. اس بات کا لازمہ یہ ہے کہ اسلامی معاشرے میں لوگوں کے اخلاقیات کی پاسداری اور شریعت کے احکام کو معاشرتی زندگی میں جاری کرنے کی ذمہ داری حکومتوں کی بنتی ہے اور معاشرتی قوانین کی رعایت کرنے پر پابند ہوجائیں اور دینی تعلیمات کا احترام کریں اور جس طرح سے اسلامی حکومتی طور پر جیسے شراب پینے کی اجازت نہیں دے سکتی ہے بلکل اسی طرح حجاب کی رعایت نہ کرنے کی بھی حمایت نہیں کر سکتی ہے؛ کیونکہ حجاب صرف مومنین کیلئے ایک حکم کے علاوہ اسلامی معاشرے کی اقدارمیں سے بھی شمار ہوتی ہے.

حکومت کی طرف سے اس کام میں مداخلت کرنے کے مخالف لوگوں کا کہنا ہے کہ بے حجابی سے روکنا فقہ اور تاریخ میں کہیں نہیں ملتا ہے اور اس دور میں بھی حجاب کی رعایت کرنے کی پابندی نہیں تھی اور وہ صرف نصیحت اور تذکر دینے پر اکتفا کرتے تھے اور کبھی بھی بے حجابی کے لئے سزا دینے کا حکم صادر نہیں کیا ہے. اس بات کے جواب میں کہا گیا ہے کہ عصر جدید سے پہلے خواتین کا حجاب متمدن دنیا میں رائج اور عام تھا. اور مسلمان حکومتیں ماضی میں اس مسئلے میں مشکل سے دوچار نہیں تھیں اور صرف آخری صدی میں غربی دنیا میں بدلتی حالات کی وجہ سے اسلامی ممالک میں حجاب کو ہٹانے کے لئے مختلف تحریکیں چلیں.
دین اور حجاب: قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَ‌ٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ
ترجمہ: ایمان والوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہ نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کو بھی محفوظ رکھیں یہ ان کے لیے بہت پاکیزہ ہے بے شک اللہ جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں۔(سورۃ النور)

نامحرم سے حجاب کا حکم : عورت پر واجب ہے کہ اپنا چہرہ اور ہاتھ جو انگلیوں کے نوک سے کلائی تک اور پاوں کی انگلیوں سے ٹخنے تک کے علاوہ اپنا پورا بدن نامحرم سے چھپائے لیکن چہرہ اور ہاتھوں کو انگلیوں سے کلائی تک چھپانے اور اسی طرح پاوں کو چھپانا واجب ہونے میں اختلاف ہے. نامحرم سے اصل بال چھپانا واجب ہے لیکن مصنوعی بال، بال کے کلیپس، اور وہ زیورات جو بال سے ملے ہوئے ہیں ان کو چھپانا واجب ہونے میں اختلاف ہےاور وہ سن رسیدہ خواتین جو بڑھاپے کی وجہ سے شادی کی کوئی امید ان میں نہیں پائی جاتی ہے قرآن مجید کی نص کے مطابق جو حجاب کا حکم ہوا ہے اس سے یہ مستثنا ہیں. اور اتنی مقدار میں بال کا نہ چھپانا جو اس عمر کی خواتین کے لئے عادی ہیں جیسے بعض بال اور بازو- ان کے لئے جائز ہے. لیکن شرط یہ ہے کہ اس کام کا مقصد اپنی نمایش کرنا نہ ہو اگرچہ اسی مقدار کو بھی ان کے لئے چھپانا افضل ہے. بی بی کلثوم فرماتیں ہیں: “زیادہ تر گناہوں کی شروعات عورت کے بے پردہ ہونے سے ہوتی ہے”

نماز میں پردہ: نماز کے علاوہ دوسری حالت میں پردہ کرنے میں فرق ہے. جیسے نماز میں پردہ کرنا واجب ہے اگرچہ دیکھنے والا کوئی نہ ہو لیکن نماز کے علاوہ نامحرم سے چھپانا واجب ہے. نماز کے بغیر پردہ ہر اس چیز سے ہوجاتا ہے جس کے ذریعے دوسروں کی نظروں سے بچ بجائے لیکن نماز میں مجبوری کی حالت کے علاوہ پردہ کپڑے کا ہو. اور گھاس یا درخت کے پتے کا پردہ یا کیچڑ سے پردہ کرنا مجبوری کے علاوہ بھی صحیح ہے یا صرف مجبوری کی حالت میں ہےاور اگر صرف مجبوری کی حالت میں ہو تو عام حالت میں ایسا شخص بے پردہ کہلائے گا اور اس میں اختلاف ہے۔۔
لباس میں حیاء: “سر پہ ڈوپٹہ رکہنے سے عورت اللہ کی رحمت کے سائے میں رہتی ہے حیاء بڑی دولت ہے جو عورت اس دولت کو سنبھال سنبھال چلتی ہے کبھی کنگال نہیں ہوتی نہ حسن کے معاملے میں نہ کشش کے معاملے میں”
مرد اور عورت کے ایک دوسرے کے مخصوص کپڑوں کو پہننا اس صورت میں حرام ہے کہ ایک دوسرے مشابہت کرے لیکن ایسے کپڑوں میں نماز باطل ہونے میں اختلاف ہے.مرد کے لئے سلا ہوا کپڑا۔۔اور عورت کے قفّازین (ایک قسم کا دستانہ) احرام کی حالت میں حرام ہے اور عدّہ وفات میں زینت کے کپڑے پہنا عورت کے لئے حرام ہے۔
پردہ احادیث کی روشنی میں: پردے کے متعلق بہت سے مواقعوں کے مطابق بہت سی احادیث ہیں چند یہ ہیں:
رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نماز فجر ادا كرتے تو آپ كے ساتھ مومن عورتيں بھى اپنى چادريں لپيٹ كر نماز ميں شامل ہوتيں، اور پھر وہ اپنے گھروں كو واپس ہوتى تو انہيں كوئى بھى نہيں پہچانتا تھا ” صحيح بخارى حديث نمبر ( 365 ) ، صحيح مسلم حديث نمبر ( 645)

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ:
” ہمارے پاس سے قافلہ سوار گزرتے اور ہم رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ احرام كى حالت ميں ہوتيں، تو جب وہ ہمارے برابر آتے تو ہم ميں سے عورتيں اپنى چادر اپنے سر سے اپنے چہرہ پر لٹكا ديتى، اور جب وہ ہم سے آگے نكل جاتے تو ہم چہرہ ننگا كر ديتيں ”
سنن ابو داود حديث نمبر ( 1833 )
صفيہ بنت شيبہ بيان كرتى ہيں كہ عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كہا كرتى تھيں: جب يہ آيت نازل ہوئى :
اور وہ اپنى اوڑھنياں اپنے گريبانوں پر ڈال كر ركھيں . تو ان عورتوں نے اپنى نيچے باندھنے والى چادروں كو كناروں سے دو حصوں ميں پھاڑ ليا اور اس سے اپنے سروں اور چہروں كو ڈھانپ ليا ” صحيح بخارى حديث نمبر ( 1448)
“میں ڈوپٹہ بھی اوڑھتی ہوں، بال بھی سوارتی ہوں، پردہ بھی کرتی ہوں، سنگھار بھی کرتی ہوں، میں اوڑان بھی رکھتی ہوں، میں اپنی حد بھی جانتی ہوں، میں بغاوت اور آزادی کے فرق کو پہچانتی ہوں، کیونکہ میں مسلمان ہوں”

اپنا تبصرہ بھیجیں