توکل علی اللہ – ڈاکٹر میمونہ حمزہ




توکل علی اللہ، صادقین کی عبادت اور مخلصین کا راستہ ہے۔ اللہ تعالی نے اپنے انبیاء المرسلین اور اولیاء المؤمنین کو اس کا حکم دیا۔ توکل علی اللہ ، اہل ِ ایمان کی وہ صفت ہے جس کی بنا پر وہ پوری انسانیت کی قیادت کرتے ہیں۔ مومن کا ایمانی تقاضا ہے کہ وہ صرف اللہ پر توکل کرے۔ قرآن ِ کریم ’’توکل علی اللہ‘‘ کو ایک مستقل عنوان دیتا ہے، اور کہتا ہے:

’’وعلی ربّھم یتوکلون‘‘ (۴۲:۳۶)(اور وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں)۔

مومن یہ سمجھتا ہے کہ اس کائنات میں کوئی شخص اپنی مرضی سے کچھ نہیں کر سکتا، اور یہاں اللہ کے اذن کے بغیر ایک پتہ بھی نہیں حرکت کر سکتا، لہذا وہ اللہ پر توکل کرتا ہے۔ یہی اس کا یقین بھی ہے اور بھروسہ بھی! وہ نہ کسی اور سے امید رکھتا ہے نہ کسی کے خوف کا شکار ہوتا ہے۔ مشکلات اس کے راستے میں آجائیں تو بڑی پامردی سے ان کا مقابلہ کرتا ہے، نہ اس کا سر کسی کے آگے جھکتا ہے نہ وہ اکڑ کر چلتا ہے، وہ ایک مطمئن نفس کی سی زندگی گزارتا ہے، نہ خوشحالی اس کے انداز کو تبدیل کرتی ہے نہ بدحالی۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’اللہ پر بھروسا رکھو اگر تم مومن ہو‘‘۔ (المائدہ، ۲۳)

اللہ تعالی پر بھروسے کی قدرو قیمت یہ ہے کہ یہ صفت بندے کو جرأت مند بنا دیتی ہے، اور وہ بڑے سے بڑے جبار کو بھی خاطر میں نہیں لاتا۔ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں سات (۷) مرتبہ فرمایا: ’’اور مومنوں کو اللہ پر ہی بھروسا کرنا چاہیے‘‘۔

توکل کے لغوی معنی

توکل کے معنی اپنے آپ کو عاجز سمجھنا اور کسی دوسرے پر بھروسہ کرناہے۔اور’’ توکل علی اللہ‘‘ کے معنی ہیں، اپنی عاجزی کو محسوس کرنا اور اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کر دینا۔جرجانی کا قول ہے ’’توکل کے معنی ہیں کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے اس کا مکمل یقین اور اس پر کامل بھروسہ ہو، اور جو لوگوں کے ہاتھ میں ہے اس سے مایوسی ہو‘‘۔ (تعریفات، ۷۴)

پس توکل کے معنی ہیں: اولاً آدمی کو اللہ کی رہنمائی پر کامل اعتماد ہو اور وہ سمجھے کہ حقیقت کا جو علم، اخلاق کے جو اصول، حلال و حرام کے جو حدود، اور دنیا میں زندگی بسر کرنے کے جو قواعد و ضوابط اللہ نے دیے ہیں، وہی برحق ہیں، اور انہیں کی پیروی میں انسان کی خیر ہے۔ثانیاً، آدمی کا بھروسا اپنی قابلیت ، اپنے ذرائع و وسائل ، اپنی تدابیر، اور اللہ کے سوا دوسروں کی امداد اعانت پر نہ ہو، بلکہ وہ پوری طرح یہ بات ذہن نشین رکھے کہ دنیا اور آخرت کے ہر معاملے میں اس کی کامیابی کا اصل انحصار اللہ کی توفیق و تائید پر ہے۔ثالثاً، آدمی کو ان وعدوں پر پورا بھروسہ ہوجو اللہ تعالی نے ایمان و عملِ صالح اختیار کرنے والے اور باطل کے بجائے حق کے لئے کام کرنے والے بندوں سے کئے ہیں۔ (تفہیم القرآن، ج۴، ص۵۰۷)

قرآن کریم میں ہے: ’’تم ان کی پرواہ نہ کرو اور اللہ پر بھروسا رکھو، وہی بھروسے کے لئے کافی ہے‘‘۔ (النساء، ۸۱) یعنی اللہ ہی بھروسے کے لئے کافی ہے، جس کا وکیل اللہ ہو اسے کوئی گزند نہیں پہنچا سکتا، نہ کوئی سازش اس پر اثر کر سکتی ہے۔ نہ خفیہ چالیں اس کا کچھ بگاڑ سکتی ہیں، اور نہ ہی ظاہری کوششیں۔ دشت ِ فاران میں خیمہ زن بنی اسرائیل کو جباروں کے مقابلے میں شہر میں داخل ہونے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:

’’ان جباروں کے مقابلے میں دروازے کے اندر گھس جاؤ، جب تم اندر پہنچ جاؤ گے تو تم ہی غالب رہو گے۔اللہ پر بھروسہ رکھو ، اگر تم مومن ہو‘‘۔ (المائدہ، ۲۳)

یہاں آکر معلوم ہو جاتا ہے کہ اللہ پر بھروسے کی قدروقیمت کیا ہے؟ اور شدت اور خطرات میں ایمان اور یقین کی کیا اہمیت ہوتی ہے۔ اللہ سے ڈرنے والوں اور جباروں سے ڈرنے والوں کے موقف میں کیا فرق ہوتا ہے۔ اس لئے کہ اللہ کسی شخص کے دل میں دو ڈر نہیں ڈالتا کہ وہ اللہ جل شانہ سے بھی ڈرے اور وہ لوگوں سے بھی ڈرے۔ پس جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ کسی اور سے نہیں ڈرتا۔اللہ پر توکل ایمان کی خاصیت بھی ہے اور اس کی علامت بھی۔ یہی ایمان کی منطق بھی ہے اور اس کا ایمان کا تقاضا بھی ہے۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے:
’’سچے اہل ِ ایمان تو وہ لوگ ہیںجن کے دل اللہ کا ذکر سن کرلرز جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے رب پر اعتماد کرتے ہیں‘‘۔ (الانفال، ۲)

توکل اور اسباب کو اختیار کرنا
اللہ تعالی پر مکمل بھروسہ کرتے ہوئے تین چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے:

۱۔ توکل اسباب اختیار کرنے کے منافی نہیں ہے؛ حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے ایک شخص نے سوال کیا: میں اسے باندھ کر اللہ پر توکل کروں یا اسے کھلا چھوڑ کر توکل کروں؟ یعنی اپنی اونٹنی کو۔رسول اللہﷺ نے فرمایا: اسے باندھو اور توکل کرو۔( رواہ الترمذی)

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے، کہا : اہل ِ یمن حج کے لئے جاتے تو زادِ راہ ساتھ نہ لیتے، اور وہ کہتے تھے: ہم توکل کرنے والے ہیں، اور جب وہ مکہ پہنچتے تو لوگوں سے مانگتے، پھر اللہ تعالی نے آیت نازل فرمائی: ’’اور زادِ راہ لے لو، بے شک بہترین زادِ راہ تقوی ہے‘‘۔(البقرہ، ۱۹۷) (رواہ البخاری، ۱۵۲۳)

ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک سفر میں حضرت معاذ بن جبلؓ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے، اور باہم کلام کرتے ہوئے جب رسول اللہ ﷺ نے ان کے سامنے ایک خوشخبری کا ذکر کیا تو معاذؓ نے پوچھا: کیا میں یہ بات لوگوں کو بتا دوں؟ تو آپ نے فرمایا: انہیں یہ خوشخبری نہ سناؤ، تاکہ وہ اسی پر توکل نہ کر لیں‘‘۔ (صحیح مسلم، ۷۳)

۲۔ اسباب کو اختیار کرنا اگرچہ وہ کمزور ہوں

حضرت ایوبؑ نے جب اللہ تعالی سے اپنی بیماری میں دعا کی ، تو اللہ تعالی نے انہیں حکم دیا: ’’اپنا پاؤں زمین پر مار،یہ ہے ٹھنڈا پانی نہانے کے لئے اور پینے کے لئے‘‘۔ (ص، ۴۲)

اللہ تعالی نے انہیں زمین کو پاؤ ںسے ٹھوکر مارنے کو کہا، اور کیا ایک ٹھوکر سے زمین سے چشمہ ابلتا ہے؟ اللہ تعالی اس کے بغیر بھی چشمہ جاری کر سکتا ہے، لیکن وہ سبب اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے، اگرچہ وہ کمزور ہی ہو۔

اسی طرح حضرت مریمؑ کو حالتِ زچگی میں کھجور کا تنا ہلانے کا حکم دیا: ’’تو ذرا اس درخت کے تنے کو ہلا، تجھ پر پکی ہوئی کھجوریں ٹپک پڑیں گی، پس تو کھا پی اور آنکھیں ٹھنڈی کر‘‘۔ (مریم، ۲۵)یہ کائنات بھی اللہ کی، اور حکم بھی اسی کا، لیکن وہ کمزور اسباب کو بھی اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے۔

۳۔ اعتماد اپنی کوشش پر نہیں، بلکہ اللہ تعالی کی قدرت پر ہو . اللہ تعالی کو مسبب الاسباب جانے، اور ہر آسان اور ہلکے کام میں بھی بھروسہ اپنی طاقت پر نہیں بلکہ اللہ تعالی پر رکھے۔اللہ چاہے تو سبب اور اس کے اثر کے درمیان حائل ہو سکتا ہے، جیسے حضرت ابراہیمؑ کو آگ میں ڈالا گیا، اور یہ اللہ کی منشا تھی کہ آگ نے آپ کو گزند نہ پہنچائی۔اور ابراہیمؑ نے تو بیٹے کی گردن پر چھری چلا دی تھی، مگر اللہ تعالی نے انہیں بچا لیا۔

اس لئے بندہ اسباب کو اختیار کرتے ہوئے بھی توکل اللہ پر کرے کہ وہی اس میں اثر ڈال سکتا ہے۔ امام بن بازؒ کہتے ہیں کہ توکل علی اللہ میں دو چیزیں شامل ہیں۔ پہلی: اللہ پر اعتماد اور اس پر ایمان کہ وہی مسبب الاسباب ہے، اور اس کی تقدیر نافذ ہوتی ہے، اس کے ہاں ہر چیز کی تقدیر ہے، اور اس نے ہر شے کا شمار کر رکھا ہے، اور اپنے پاس اسے لکھ لیا ہے۔

دوسری: اسباب کو ترک کر دینا توکل نہیں ہے۔ توکل یہ ہے کہ سبب کو اختیار کیا جائے اور بھروسہ اللہ کی ذات پر کیا جائے۔ جو توکل کرتے ہوئے کوشش سے دستبردار ہو گیا، اس نے شریعت کے بھی خلاف کام کیا اور عقل کے بھی۔اللہ تعالی نے تمام انسانوں حتی کہ اپنے انبیاء و رسل علیھم السلام کو بھی اسباب اختیار کرنے کی تلقین کی۔اور اسی فطرت پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔اسی لئے اس نے عفت کو قائم رکھنے کے لئے نکاح کا طریقہ عطا فرمایا۔گھر بسانے کے لئے زوجین کو پورا عائلی نظام دیا جہاں انکی فطری تقاضے بھی پورے ہوں اور اولاد کی نعمت پا کر اگلی نسل کی آبیاری کا اہتمام بھی ہو۔اسی طرح کسی گوشے میں بیٹھ کر رزق کا انتظار کسی بھی طرح پسندیدہ نہیں ہے بلکہ رزق حاصل کرنے کے لئے کوشش کرنا اور تقدیر پر یقین رکھتے ہوئے محنت کرنا توکل کے عین مطابق ہے۔شریعت نے بندوں کو ’’ایاک نعبد وایاک نستعین‘‘ (الفاتحہ، ۴)کی تلقین کی ہے۔ اور یہی عبادت اور استعانت دنیا اور آخرت میں سعادت پانے کا راستہ ہے۔ (مجموع فتاوی ومقالات، ۴۲۷،۴)

کسی دانا کا قول ہے کہ اولیاء اللہ کے تین خصوصی اوصاف ہیں:

۱۔ ہر بات میں اللہ پر اعتماد۔
۲۔ ہر شے میں اللہ کی محتاجی۔
۳۔ ہر معاملے میں اللہ کی جانب رجوع۔

بندے کو آخرت کے معاملے میں اللہ کی باتوں پر یقین رکھنا چاہیے اور دنیا کے معاملات میں اس پر توکل اختیار کرنا چاہیے۔ اسے رزق کے معاملے میں بے اعتمادی اور اور خوف کے اندیشے نہیں رکھنے چاہیے، اور اسے اعمال کی جزا کے بارے میں بھی اللہ پر یقین رکھنا چاہیے، مگر اس کے خوف کے ساتھ کہ اس کے اعمال قبولیت پائیں گے یا نہیں۔

توکل کے منافی اعمال

اللہ تعالی پر ایمان اور اس پر یقین جتنا زیادہ ہو گا ، اتنا ہی توکل بڑھے گا۔ کچھ اعمال توکل کو بتدریج کم کر دیتے ہیں۔

۔ اپنی حاجات پوری کرنے کے لئے بندوں پر زیادہ اعتماد۔
۔ معصیت اور گناہوں میں پڑ جانا اور نفسانی لذات میں مگن ہو جانا۔
۔ایمان میں ضعف آ جانا اور اللہ کی اطاعت میں کمی کرنا۔
۔ اللہ تعالی کے اسماء وصفات اور اسکی قدرت کے کمالات سے ناواقف ہونا، اور جاہلوں کی سی زندگی اختیار کرنا۔
۔ انسان کا اپنے مال و جاہ پر غرور اور یہ سمجھنا کہ اسے یہ سب اس کی مہارت اور عقل کی بنا پر ملا ہے۔
۔ اسباب کے اوپر ایسا بھروسہ کہ ان سے لازماً یہی مفید نتیجہ نکلے گا۔
۔ سبب پر اعتماد شریعت کے منافی نہیں ہے، مگر اس پر کلی اعتماد توکل علی اللہ کے منافی ہے۔
۔ مردوں اور روحوں پر اعتماد بھی توکل علی اللہ کے منافی عمل ہے۔

توکل علی اللہ کے مواقع

مسلمان اللہ تعالی پر ہر وقت اور ہر حال میں بھروسہ کرتا ہے، اور اسی سے ڈرتا اور اسی سے امید رکھتا ہے، لیکن ہر مشکل وقت اور بے بسی کی کیفیت میں توکل علی اللہ مزید بڑھ جاتا ہے۔بندہ جب سونے کے لئے بستر پر جائے تو اللہ پر بھروسہ رکھے، اور وہ اس کا اظہار بھی کرے کہ ’’اے اللہ میں تیرے نام سے جیتا اور مرتا (سوتا اور بیدار ہوتا) ہوں، گھر سے نکلے تو ’’بسم اللہ توکلت علی اللہ‘‘ کہتے ہوئے نکلے، جب بھوک لگے تو اسی سے مانگے، اور جب میسر ہو تو اسی کی حمد کرتے ہوئے کھائے اور اسی کا شکر ادا کرے، جس نے کھلایا اور پلایا، اورمسلمان بنایا (ان نعمتوں کی قدردانی بھی اسلام ہی کی تعلیم ہے)۔اگر کوئی مشکل یا مصیبت پیش آجائے تو بھی اپنا معاملہ اسی کے سپرد کردے، ’’اور جو اللہ پر بھروسہ کرے، وہ اس کے لئے کافی ہے‘‘ (الطلاق،۳) اور اسے کوئی ناگہانی آفت بھی آجائے تو شگون نہ لے، جب لوگ اس سے کنارہ کشی کر لیں یا شر اور دشمنی پر آمادہ ہوں تو بھی وہ توکل علی اللہ کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے۔انبیاء و صالحین کا اعتماد بھی یہی تھا اور ان کا ہتھیار اور اسلحہ بھی توکل تھا، نہ وہ تلواروں کے سائے میں گھبرائے اور نہ بڑی بڑی چالوں سے لرزہ بر اندام ہوئے ۔چند مثالیں حسب ذیل ہیں:

۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب آگ میں پھینکا جا رہا تھا تو ان کی زبان پر آخری کلمات یہ تھے: ’’حسبی اللہ ونعم الوکیل‘‘۔ (اللہ ہی میرے لئے کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے۔)

۔ حضرت موسی علیہ السلام جب مدین پہنچے تو ایک درخت کے سائے میں بیٹھ کر انہوں نے اللہ سے دعا مانگی: ’’پروردگار، جو خیر بھی تو مجھ پر نازل کردے میں اس کا محتاج ہوں‘‘۔ (القصص، ۲۴)اور جس رب پر توکل کر کے انہوں نے دعا مانگی تھی، ان کے ہاتھ نیچے کرنے سے پہلے عالم ِ بالا میں اس دعا کو قبول کر لیا۔

۔ حضرت موسیؑ اپنی قوم کو لیکر مصر کی سرزمین سے نکلنے کو تھے ، کہ فرعون نے تعاقب کر کے انہیں جا لیا، سامنے سمندر تھا اور پیچھے دشمن ، بنی اسرائیل نے گمان کیا کہ وہ ہلاک ہو جائیں گے، مگر موسی علیہ السلام کا توکل جس خدا پر تھا اس نے انہیں بچا لیا اور ان کے دشمن کو ان کی نگاہوں کے سامنے غرق کر دیا۔

۔ مدینہ کی مختصر سی آبادی پر جب احزاب( لشکروں )نے حملہ کیا، اور فوجیں ان پر چڑھ آئیں، اور جب خوف کے مارے آنکھیں پتھرا گئیں اور کلیجے منہ کو آگئے، تو اللہ تعالی نے اپنے رسول اور مومنین کی مدد ان فوجوں سے کی جو کسی کو نظر نہ آتی تھیں، اور یہ توکل علی اللہ ہی کا صلہ تھا۔

۔ اسی خدا نے ہجرت کے سفر میں غار میں ان کی مدد کی جب دشمن غار کے دھانے پر پہنچ چکے تھے، اور ایک ساتھی دوسرے کے خوف کو یہ کہہ کر دور کر رہا تھا: ’’لا تحزن، ان اللہ معنا‘‘ یعنی غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ (التوبۃ، ۴۰)

الفیروز آبادی نے اپنی کتاب ’’بصائر ذوی التمیز فی لطائف الکتاب العزیز‘‘ میں بعض مقامات کا ذکر کیا ہے:

۱۔ نیند کے وقت

رسول اللہ ﷺ نے بستر پر لیٹنے کے بعد اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دینے کی دعا سکھائی، اور سورۃ البقرۃ کی آخری دو آیات پڑھنے کی بھی تلقین کی اور معوذتین بھی۔

۲۔ لوازمات ِ حیات کی فراہمی

حضرت ابراہیم ؑ کا اللہ پر کیسا توکل تھا کہ فرماتے ہیں: ’’میرے تو یہ سب دشمن ہیں بجز ایک رب العالمین کے۔جس نے مجھے پیدا کیا، پھر وہی میری رہنمائی فرماتا ہے، اور جب میں بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے، جو مجھے موت دے گا اور وہی مجھ کو زندگی بخشے گا‘‘۔ (الشعراء، ۷۷۔۸۱)

اللہ تعالی سے ایسی ہی کفالت ، گہری شفقت اور محبت کا احساس ہی مکمل سپردگی اور کامل اطمینان سے ملتا ہے۔یہی آدابِ نبوت ہیں، اور اللہ کے بندے اسی نقشِ قدم کو اختیار کرتے ہیں۔

۳۔ دشمن کا سامنا کرتے ہوئے

اللہ تعالی نے دشمن کے مقابل توکل اختیار کرنے کی تلقین کی:

’’اور اللہ پر بھروسہ رکھو، اللہ بھروسے کے لئے کافی ہے‘‘۔ (النساء، ۸۱) جس کا وکیل اللہ ہو اسے کوئی گزند نہیں پہنچا سکتا، نہ اسے کوئی سازش نقصان پہنچا سکتی ہے۔

۴۔ لوگوں کے اعراض کرنے پر

اگر انسانوں سے عدم توجہ اور بے رغبتی کا سامنا ہو تو بھی تمہارے لئے اللہ ہی کافی ہے۔ ’’اب اگر یہ لوگ تم سے منہ پھیرتے ہیں، تو اے نبیؐ ، ان سے کہہ دو کہ ’’میرے لئے اللہ ہی کافی ہے، کوئی معبود نہیں مگر وہ، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہ مالک ہے عرشِ عظیم کا‘‘۔ (التوبۃ، ۱۲۹)
۵۔ صلح کرتے ہوئے
صلح کرتے ہوئے بھی اللہ ہی پر توکل کرو۔

’’اے نبیؐ ، اگر دشمن صلح سلامتی کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کے لئے آمادہ ہو جاؤ، اور اللہ پر بھروسہ کرو۔ یقیناً وہی سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔

۶۔ دشمنوں کے ہجوم میں
دشمنوں کے ہجوم میں بھی رسولوں نے اللہ کی قوت پر بھروسہ کیا اور اس کا علی الاعلان اظہار بھی کر دیا۔ ’’ان کے رسولوں نے ان سے کہا: (۔۔)اور یہ ہمارے اختیار میں نہیں کہ تمہیں کوئی سند لا دیں۔ سند تو اللہ ہی کی طرف سے آتی ہے۔ اور اللہ ہی پر اہل ِ ایمان کو بھروسہ کرنا چاہیے۔اور ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں جب کہ ہماری زندگی کی راہوں میںاس نے ہماری رہنمائی کی ہے؟ جو اذیتیں تم لوگ ہمیں دے رہے ہو ان پر ہم صبر کریں گے اور بھروسہ کرنے والوں کا بھروسہ اللہ ہی پر ہونا چاہیے‘‘۔ (ابراہیم، ۱۱۔۱۲)

توکل کے ثمرات

۱۔ نصرت
اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

’’اللہ تمہاری مدد پر ہو تو کوئی طاقت تم پر غالب آنے والی نہیں، اور وہ تمہیں چھوڑ دے، تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کر سکتا ہو؟ پس جو سچے مومن ہیں ان کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے‘‘۔ (آل عمران،۱۶۰)

توکل علی اللہ کی حقیقت یہ ہے کہ قوت ِ فاعلہ ذاتِ باری تعالی ہے۔فتح و کامرانی، اور شکست اور نامرادی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ اس لئے اگر نصرت چاہتے ہو تو اسی سے چاہو اور شکست سے بچنا چاہتے ہو تو اسی کے آگے گڑگڑاؤ۔ اسی کی طرف متوجہ ہو جاؤ، اسی پر بھروسہ کرو، لیکن پوری تیاری کے بعدنتائج سے بے فکر ہو جاؤ اور نتائج و عواقب کو اللہ تعالی پر چھوڑ دو۔(فی ظلال القرآن، نفس الآیۃ)

۲۔ شیطان مردود سے حفاظت
جو اللہ کی حفاظت میں آجائیں، ان پر شیطان اثر انداز نہیں ہو سکتا، ارشاد باری ہے:
’’اسے ان لوگوں پر تسلط حاصل نہیں ہوتا جو ایمان لاتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں‘‘۔ (النحل، ۹۹)

جو لوگ اللہ وحدہ کی جانب متوجہ ہوتے ہیں ان کے دل اللہ کے لئے خالص ہو جاتے ہیں۔ شیطان ان پر غالب نہیں آسکتا، اگرچہ وہ ان پر ڈورے ڈالے کیونکہ ان کا تعلق اللہ کے ساتھ ہوتا ہے، اور اللہ ان کو اس مطعون کے دام سے بچاتا ہے۔ وہ اللہ کے ساتھ ساتھ ہوتے اور اس کی اطاعت کرنے والے ہوتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ان سے کبھی غلطی بھی ہو جاتی ہے لیکن وہ شیطان کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالتے، لہذا وہ تعوذ کے ذریعے اسے بھگاتے رہتے ہیں اور اللہ کی طرف لوٹتے رہتے ہیں‘‘۔ (فی ظلال القرآن، نفس الآیۃ)

۳۔ شجاعت و بہادری
جس کا دل توکل علی اللہ سے بھرا ہو اس میں کوئی ڈر اور خوف کیسے جگہ پا سکتا ہے؟ اسی لئے سید المتوکلین ’’سید الشجعان‘‘(بہادروں کے سردار) تھے۔ حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ نیکی کرنے والے اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔ایک رات اہلِ مدینہ ڈر گئے، اور گھبرا کر آواز کی جانب بھاگے، وہاں پہنچے تو ان سے پہلے وہاں رسول اللہ ﷺ موجود تھے، اور معاملے کو جان چکے تھے، وہ ابو طلحہؓ کے گھوڑے کی ننگی پشت پر تھے، اور آپؐ کی گردن میں تلوار تھی، آپؐ نے فرمایا: ڈرو نہیں، ڈرو نہیں۔ پھر آپ ؐ نے (گھوڑے کے بارے میں ) فرمایا: ہم نے اسے سمندر جیسا پایا، یعنی خوب تیز بھاگنے والا۔ (رواہ البخاری، ۲۹۰۸)

۴۔ رزق
اللہ تعالی نے اپنی مخلوق کا رزق اپنے ذمہ لے رکھا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: ’’زمین میں چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں، جس کا رزق اللہ کے ذمہ نہ ہو‘‘۔ (ھود،۶)بندے کو یقین ہونا چاہیے کہ اس کے مقدر کا رزق اسے مل کر رہے گا، لہذا وہ رزق پانے کی سعی کرے اور توکل اللہ تعالی پر رکھے۔

حضرت عمر بن خطابؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم اس طرح توکل کرو جیسا اس پر توکل کرنے کا حق ہے تو وہ تمہیں اسی طرح رزق دے جیسے وہ پرندوں کو رزق دیتا ہے۔ وہ صبح بھوکے پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو شکم سیر ہو کر لوٹتے ہیں‘‘۔(رواہ الترمذی، حدیث حسن)

اس سے مراد ہے کہ محض ظاہری اسباب پر اعتماد نہ ہوبلکہ اصل اعتماد اللہ کی ذات پر ہو۔ جیسے پرندے رزق کی امید میں گھونسلے میں بیٹھ کر اس کا انتظار نہیں کرتے بلکہ صبح سویرے رزق کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔

۵۔ اللہ کی محبت کا حصول
اللہ تعالی نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالی توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے‘‘۔ (آل ِ عمران،۱۵۹)وہ صفت جسے اللہ تعالی پسند فرماتے ہیں اور اس صفت سے متصف لوگوں کو محبوب رکھتے ہیں، تو اہل ِ ایمان کو اس صفت کا حریص ہونا چاہیے، کہ وہ صفت ان میں بدرجہء کمال پائی جائے۔ اور یہ مومنین کی صفتِ ممتاز ہونی چاہیے۔ توکل علی اللہ اور اللہ کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کر دینا ہی اسلامی تصورِ حیات اور اسلامی زندگی کا خطِ توازن ہے۔ (دیکھیے: فی ظلال القرآن، نفس الآیۃ)

۶۔ جنت کا حصول
توکل کرنا ایک مستقل رویہ ہے جسے ایک صابرانہ رویہ بھی کہا جا سکتا ہے، اللہ تعالی نے متوکلین کے بارے میں فرمایا:

’’جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں، ان کو ہم جنت کی بلند وبالا عمارتوں میں رکھیں گے، جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ کیا ہی عمدہ اجر ہے عمل کرنے والوں کے لئے۔ ان لوگوں کے لئے جنہوں نے صبر کیاہے اور جو اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں‘‘۔ (العنکبوت، ۵۸۔۵۹)

یعنی جو ہر طرح کی مشکلات اور مصائب اور نقصانات اور اذیتوں کے مقابلے میں ایمان پر قائم رہے ہیں۔ اور جنہوں نے بھروسا اپنی جائیدادوں اور اپنے کاروبار اور اپنے کنبے قبیلے پر نہیں بلکہ اپنے رب پر کیا۔ جو اسبابِ دنیوی سے قطع نظر کر کے محض اپنے رب کے بھروسے پر ایمان کی خاطر ہر خطرہ سہنے اور ہر طاقت سے ٹکرا جانے کے لئے تیار ہو گئے۔ جنہوں نے اپنے رب پر اعتماد کیا کہ ایمان اور نیکی پر قائم رہنے کا اجر اس کے ہاں کبھی ضائع نہ ہو گا۔ (تفہیم القرآن،ج۳، ص۷۱۷)

حضرت ابن ِ عباسؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ۔۔ مجھ سے کہا گیا یہ آپؐ کی امت ہے، اور ان کے ساتھ ستر ہزار ایسے آدمی ہیں، جو جنت میں بغیر حساب اور عذاب کے داخل ہوں گے۔(۔۔) آپؐ نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہوں گے جو نہ خود جھاڑ پھونک کرتے ہیں نہ کسی اور سے کرواتے ہیں، اور نہ بدشگونی لیتے ہیں اور صرف اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں‘‘۔(رواہ البخاری،ومسلم)

توکل علی اللہ ایمان کا نچوڑ ہے۔ آدھا دین توکل علی اللہ ہے اورباقی آدھا رجوع الی اللہ سے عبارت ہے۔توکل علی اللہ کہہ کر باہر نکلنے والے کو فرشتوں کی معیت ملتی ہے، جو خیر کی قوتوں کو اس کی مدد کی تلقین کرتے ہیں اور شر کی قوتوں کو اس کے راستے سے ہٹا دیتے ہیں، اور جو زندگی کی شاہراہ پر توکل علی اللہ کو اپنا شعار بنا لے، اسے یقیناً اللہ تعالی کی معیت حاصل ہو گی۔ اور پرندوں کی مانند توکل کرنے والوں کے اطمینان اور سکون کا کیا کہنا !!

اپنا تبصرہ بھیجیں