ستم کا آشنا تھا وہ سبھی کے دل دکھا گیا




  • تحریر : قدسیہ
     وہ  پانچ اور چھ جنوری کی  درمیانی شب تھی ـ سونے سے پہلے فیس بک چیک کیا تو ایک خبر نے دل دہلا دیا ـ یقین نہیں آیا کہ یہ سچ ہے کہ ہزاروں بلکہ لاکھوں دلوں کی پسندیدہ شخصیت قاضی حسین احمد اپنے رب سے ملاقات کو چل دیے ۔ یہ حقیقت ہے کہ ہر ذی روح نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے ۔ موت جو سب کو آنی ہے ـ قاضی صاحب صرف اپنے چار بچوں کے لیے پایہ شفقت اور محبت کا بے انت سمندر نہ تھے بلکہ ہر نوجوان ان کے بچں جیسا تھا کیا بوڑھے تو کیا جوان , کیا جمعیت طلبہ تو کیا جمعیت ۔۔۔۔۔۔ ان کی بے پایاں محبت اس وقت اور ذیادہ ہو جاتی تھی جب وہ نوجوانوں کے درمیان گھرے ہوتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔
    ان کی آ نکھیں محبت کا ٹھا ٹھیں مارتا سمندر بن جاتی تھیں ۔۔۔وہ شفیق مسکراتا چہرہ اکثر یاد میں آتا ہے اور آنکھو کو بھگو جاتا ہے ۔ اپنے بچپن سے انھیں یوں مصروف دیکھا کہ گویا امت کا تمام درد اللہ تعالی نے ان کی زمہ داری بنا ڈالا ہے , اور انھوں نے حقیقتا اس زمہ داری کو احسن طریقے سے نبھایا اور جب اس دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کے چہرے کا اطمینان اس بات کا ثبوت تھا۔
    ستم کا آشنا تھا وہ سبھی کے دل دکھا گیا
    کہ شام غم تو کاٹ لی سحر ہوئی چلا گیا
    اب بھی ان کا مسکراتا چہرہ دیکھوں تو دل کہتا ہے کہ اتنے پر نور چہرے نے کتنی کوشش کی کہ  اتحاد امت مسلمہ کا کام کر جائیں اور اس کے لیے ان کی عملی کوششیں سب نے دیکھیں اور سراہیں ۔
    مگر ان جیسا جوش و جذبہ کسی اور رہنما میں کم ہی دیکھا ہے ۔ اللہ تعالی ان کی قبر کو نور سے بھر دیں اور ان کو شہداء , انبیاء اور متقین کے ساتھ اپنے عرش میں جگہ دیں ۔ آمین
    ہے وہ موجود گو بظا ہر جگہ جگہ ہے سراغ اس کا
    وہی ہے ساقی ,اسی کی محفل ایاغ اس کا, چراغ اس کا
    ہزاروں دل ہیں کہ جن کے اندر جھلک رہا ہے دماغ اس کا 
    فیس بک پر حلقہ جماعت کے چاہنے والوں نے ان کی یاد کو جس طرح سے شیئر کیا ہے اور سب کو موقع دیا ہے اس نے دل کے غم کو ایک جگہ دی جہاں دل کی بات بھی کر لی اور ایک منفرد طریقے سے ان کو خراج عقیدت بھی پیش ہوگیا ۔۔۔۔
  • آنکھیں بند کروں تو ان کی تلاوت قرآن اب بھی گونجتی ہے کانوں میں ۔ یوں جیسے ابھی خطبہ جمعہ یا عید کی نماز پڑھانے آ جائیں گے ۔ بہت سے مواقع ان کے بغیر ادھورے ہی رہیں گے 

اپنا تبصرہ بھیجیں