ایک قومی شخصیت




تحریر : عطااللہ حسینی
پاکستانی کی تاریخ میں بہت کم لوگ هی ایسے رہے هیں جنهیں هم قومی شخصیات کہہ سکتے هیں جیسے کہ آپ کو معلوم ہے پاکستان قوم نہ صرف لسانیت بلکہ مختلف مسالک کے مجموعے کا بهی نام هے ایسے میں قوم کبهی اپنے سے مختلف زبان بولنے والے تو کبهی دوسرے مسالک کے لوگوں پر قومی یا مزهبی مسائل پر اعتبار نہیں کرتی اور میں سمجھتا هوں اس قوم کی بدنصیبی بهی یہی رہی ہے کیونکہ کوئی بهی قوم اپنی منزل کسی رهنما کے بغیر حاصل نهیں کر سکتی مگر میں نے کم از کم اپنی زندگی میں قاضی حسین احمد جیسی شخصیت دیکهی هے جن کا احترام ہر صوبے اور هر مسالک کے ماننے والوں میں کیا جاتا تها قاضی صاحب کے انتقال پر قومی اسمبلی نے بهی ایک قراداد کے زریئے ان کو ایک قومی شخصیت قرار دیا جبکه اس اسمبلی میں جماعت اسلامی کے انتخابات کے بائیکاٹ کی وجه سے کوئی بهی ممبر پارلیمنٹ نہیں تها ۔
وه خود کسی لسانی اور مذہبی بندشوں سے پاک تهے اور دوسروں کو بهی صرف مسلمان کی عینک سے دیکهتے تهےاور ان کا تصور بهی یہی تھا کہ اس قوم کو یکجہ صرف اسلام کی بنیاد پر هی کیا جا سکتا هےیہی وجه هے کہ هے جب سے وه قومی سیاست کا حصہ بنے انهوں نے جماعت اسلامی سے زیاده قومی مسائل کے لئے اس قوم کو تیار کرنے کی کوشش کیانهوں نے ایک کارکن کی حیثیت سے تو جماعت اسلامی کے لئے دن رات کام بهی کیا هو گا اور اسے کسی مقام تک بهی پہچایا هو گاپر امیر جماعت اسلامی کی حیثیت سے جب ان کو پاکستان میں جانا جانے لگا تو پاکستان کے اہم مسائل مسئلہ کشمیر فرقہ واریت صوبائی تعصبات جیسے مسئلوں میں ان سے ذیادہ کوئی متحرک نهیں رها وہ بیرونی دورے پر جب کسی دوسرے ملک کے سرکاری لوگوں سے ملتے تو کشمیر کا زکر ضرور کرتےمختلف اسلامی ممالک میں جهاں سرکاری سطح پر ان کی پہنچ تهی انهوں نے ان ممالک کو پاکستان کے ساتھ معاشی تعلقات بڑھانے پر زیاده زور دیا قاضی بابا کی سب سے بڑی خواہش اس قوم کو تعلیم کے ذیور سے آراستہ کرنے کی تهی یهی وجہ هے که ان کہ دور میں جماعت اسلامی نے خدمت کے میدان میں سب سے زیادہ اخراجات اسی شعبے میں کئے هیں اور یہ سلسلہ اب اور مضبوط ہو چکا هے۔
پاکستان میں تحقیقاتی کام نه هونے کے برابر هے اس سے وه احساس کمتری میں مبتلا تهے کہ دوسری اقوام سائنس اور ٹیکنالوجی میں کافی آگے جا چکی هے خود ایک دفعہ میں خود ان کے ساتھ چند لوگوں کی نشست میں تها اور ان دنوں جنیٹسک سائنس کا کافی چرچا جوا تها اور قاضی صاحب باتوں باتوں میں جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور همیں کہا کہ جمیعت کے پاس میڈیکل کے شعبے میں ایسے لوگ هوں جو اس فیلڈ میں ٹاپ کرتے هوں تو وہ همیں دے دیں ہم ان کو اس فیلڈ میں پی ایچ ڈی کرنے کے لئے موضوع ممالک میں بهیجے گے قاضی صاحب سیاسی میدان میں بهی اپنی جگہ بنا چکے تهے پر وه حکومتی سطح پر روایتی طریقے سے جیت کے قائل نهیں تهے ان کی پاکستان اسلامی فرنٹ کی کامیاب انتخابی مہم پر سنده کی ایک با اثر شخصیت نے ان کو اپنے ساتھ ملانے کو کها کہ وسائل جماعت اسلامی استعمال کرے ان کے نام کئی نشستیں وه ان کو دلا.دے گے ورنہ سندھ میں یه جلسے بهینس کے آگے بین بجانے کے مترادف هیںبہرحال وه اب اس دنیا میں تو نهیں پر اپنی ذندگی میں جماعت اسلامی کے زریعہ تهوڑا بہت اس قوم کو ضرور دیا اور بهت کچه جو وہ اس قوم کو دینا چاہتے تهے اس کام کیلئے قوم نے ان سے سب کچه چهینے والوں کا ساتھ دیااللہ پاک اس شخص پر اپنی برکتیں نازل فرمائیں جو اس قوم کا تعلق اس سے جوڑنا چاهتا تها ..آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں