نکاح اور ہمارا معیار – ایمن طارق




ہو سکتا ہے یہ ڈسکشن کچھ بے چین سا کر دے لیکن اچھی بات یہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں کسی بھی مرحلے میں ناکامی اور وقتی رکاوٹ کے بعد ہمیشہ بہتر ہونے اور بہتر کرنے کا دروازہ کھلا رہتا ہے ۔ بشرط زندگی ۔ تمہید باندھتے ہوے ساری خواتین کے چہرے پر نظر ڈالی ۔ کچھ سنجیدگی کچھ اداسی کچھ شوق کچھ تجسس ۔ ایک ہلکا سا قہقئہ بھی لگا ۔ ہم تو سب اب شادی شدہ ہیں اب کیوں پرانے درد چھیڑ رہی ہیں کیا فائدہ ؟

آج کا موضوع تھا لڑکیوں کی شادی کے لیے رشتے تلاش کرتے ہوے والدین کی زمہ داری اور ترجیح کس چیز کو دیں ۔ تم بالکل ٹھیک کہتی ہو کہ ہمارا وقت گزر گیا ۔ کسی غلط فیصلے کے نتیجے میں اگر ہم بے چین ہیں تو اپنے لیے تو دعا کر سکتے ہیں اور امید کہ مشکل کے ساتھ آسانی بھی ہے ۔ لیکن ہمارے سامنے اب ہماری بیٹیاں ہیں جو بڑی ہوں گی اور یہی وقت دہرایا جاۓ گا تو چلو آؤ آج مل کر سوچیں کہ جو غلطی زندگی کا وہ اہم فیصلہ کرتے ہوے ہم سے یا ہمارے والدین سے ہوئ اُس کو ہم نہ دہرائیں ۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کو ہم سب جانتے ہیں لیکن اُن کی والدہ کون تھیں اور ان کی نانی کون تھیں کبھی سنا ؟ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں وہ رات کے وقت معمول کے گشت پر تھے کہ انہوں نے ایک ماں اار بیٹی کی گفتگو سنی جسمیں ماں بیٹی کو یہ کہہ رہی تھی کہ دودھ کے بزنس میں پرافٹ کم ہے اور اگر ہم کچھ پانی ملادیں تو مقدار بڑھ جاۓ گی اور نفع زیادہ ہوگا ۔

بیٹی اس پر راضی نہیں تھی کہ یہ ملاوٹ کی جاۓ اور اللہ تعالی کی نافرمانی مول لی جاۓ ۔خلیفہ وقت نے یہ گفتگو سنی ، اگلے دن دودھ منگوا کر چیک کیا کہ ملاوٹ نہیں تھی ۔ ماں بیٹی کو اپنے پاس بلوایا ۔ اور اپنے بیٹوں کو مخاطب ہوکر کہا :

یہ وہ بہترین لڑکی ہے جو اچھی ماں بنے گی اور میں اس سے بہتر کردار کی لڑکی کو نہیں جانتا ۔زندگی میں مراتب سے زیادہ کردار کی اہمیت ہے اور میں چاہتا ہوں کہ تم میں سے کوئ ایک اس سے شادی کر لے ۔ اُن کے تیسرے بیٹے نے ہامی بھری اور یوں یہ شادی ہوئ ۔ ان خوف خدا رکھنے والی خاتون کی بعد میں ایک بیٹی فاطمہ ہوئ اور حضرت عمر بن عبدالعزیز انہی کے بیٹے تھے ۔ اس واقعے سے کیا سمجھ آتا ہے ؟ ہمارا معیار کیا ہے جب ہم اپنے بچوں کے لیے اُن کی زندگی کے ساتھی چُنتے ہیں ؟حسن ، مال ،فیملی ، جاب ، پراپرٹی ، اسائشات ۔۔۔۔۔۔۔ یا دین ؟؟رشتہ تلاش کرتے ہوے دنیاوی چیزوں کو بھی مد نظر رکھنا کوئ گناہ نہیں اور نہ ہی غلط ہے لیکن کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم دنیاوی معیارات کی لسٹ بناتے ہوے دین اور خوف خدا کو لسٹ میں رکھتے ہی نہیں ؟؟ہر دوسرا فرد اپنی بیٹی اور بیٹے کے رشتے کے لیے پریشان ہے ۔ عمر بڑھ رہی ہے لیکن معیار اور والدین کی ڈیمانڈ ز میں کمی آتی نظر نہیں آتی ۔

ہر طرف انتہا ہے کہ یا تو والدین بچوں سے کچھ پوچھنا ہی گوارا نہیں کرتے یا بچے والدین سے پوچھنے کی زحمت نہیں کرتے ۔ گھروں میں ان موضوعات پر تبادلہ خیال ہونا اور کھل کر گفتگو کرنا کہ شادی کے جس رشتے میں اولادیں بندھیں گی اُس کے اغراض و مقاصد کیا ہیں ؟ اس کے نتیجے میں جو اولادیں دنیا میں آئیں گئ اُن کے لیے ہمارا طریقہ تربیت کیا ہوگا ۔ اپنے آئیندہ کے نواسے نواسیوں یا پوتے پوتیوں کے لیے کیسے باپ اور کیسی مائیں ہمارے زہن میں ہیں ؟ہمارا داماد خوبرو بھی ہو اور مالدار بھی اور بہو حسین بھی ہو اور کھاتے پیتے گھرانے سے بھی ہو لیکن خوف خدا کا خانہ دونوں جگہ خالی ہو تو سوچیں ہماری آئیندہ کی نسلیں کہاں جائیں گی ؟؟؟؟ داماد نظر بھی اچھا آۓ ……… چھوٹی فیملی بھی ہو ……….. کماتا بھی لاکھ سے اوپر ہو ……….. خوش مزاج بھی ہو ….. گھر بھی شاندار ہو ….. سارے ڈیمانڈ ز پوری ہیں ۔

اچھا دین کی سمجھ ، اللہ کا خوف ، نماز کی پابندی بھی کرتا ہے ؟؟ ارے یہ تو کسی کے دل میں یا گھر میں جھانک کر دیکھنے سے رہے ، مسلمان ہے تو کرتا ہی ہوگا ۔ یہی بے نیازی اور توکل دنیا کے معاملے میں کیوں نہیں ہوتا ؟؟ بائیو ڈیٹا دیکھ کر بھی ہفتوں پاس پڑوس ،دوست احباب ، رشتے دار جاننے والوں سے تفتیش ہوتی ہے کہ جو لکھ کر دیا تھا کہیں وہ جھوٹ فریب نہ ہو ۔ اسی طرح کی تگ و دو دینی سمجھ بوجھ کی بھی کر لیں ۔ دل میں نہ جھانکیں لیکن صحبت دیکھ لیں ، کچھ بات چیت کر لیں کچھ وقت گزار لیں ۔ اچھا تو کیا لڑکا دین کی سمجھ رکھتا ہو تو یہ ضمانت ہے کہ بیٹی خوش رہے گی ؟؟؟ضمانت تو کسی چیز کی نہیں ۔ دنیا سمیٹ کر لے جاۓ تب بھی سو فیصد خوشی اور محبت ملنے کی توقع نہیں رکھی جاسکتی اور اگر دین کی بنیاد پر رشتہ ہو اسمیں بھی آزمائش اور مشکل اسکتی ہے لیکن اللہ کا خوف انسانوں پر ظلم و زیادتی سے محفوظ رکھنے میں رکاوٹ ہے ۔ کوئ زیادتی کرنے پر اتر آۓ تو اسے کم از کم اللہ رسول کا واسطہ دیا جاسکتا ہے لیکن جن گھرانوں میں دین کی نہ اہمیت ہے نہ احترام اُن سے کوئ توقع رکھنا مشکل ہی ہے ۔

اردگرد بہت سی مثالیں اُلٹ بھی ہیں جہاں دین کے نام پر دل ٹوٹے لیکن اُن سے کہیں زیادہ آنکھوں دیکھی مثالیں وہ ہیں کہ جہاں دین کی بنیاد پر رشتہ کیا گیا اور لڑکے یا لڑکی کی دینی سمجھ ، اور شرافت کو معیار بنایا گیا تو دنیا بھی پیچھے پیچھے آئی اور اللہ تعالی نے ہر طرح سے دنیاوی نعمتوں سے بھی نوازا ۔ کسی بھی معاملے میں پر فیکشن ممکن نہیں ، مکمل صرف اللہ کی ذات ہے لیکن ، اللہ و رسول کی محبت واقعی اگر ہمارے دل میں ہے تو ہم اپنے بچوں کے بر تلاش کرتے ہوے اس معیار کو کبھی نظر انداز نہیں کر سکتے ۔ اگر داماد یا بہو قرآن کی سمجھ ، نماز کی ادائیگی اور دین کی شناخت سے محبت رکھیں گے تب ہی اپنی اولادوں میں یہ منتقل کر پائیں گے ورنہ آئیندہ نسلوں کے عقائد کی خیر ہی منا لیں ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
جب تمہارے ہاں کوئی ایسا شخص نکاح کا پیغام دے جس کے دین و اخلاق سے تم مطمعین اور خوش ہو تو اس سے بچی کی شادی کر دو ۔ اگر تم ایسا نہ کرو گے تو زمین میں زبردست فتنہ و فساد برپا ہوگا ۔ (جامع ترمذی )

اپنا تبصرہ بھیجیں