ہم آج وہ قصہ کہتے ہیں، جو تم لوگوں کو بھول گیا…..




جویریہ سعید
٥ فروری ، یوم یکجہتی کشمیر
ایک دھندھلاتا ہوا لہو رنگ منظر،
چپکے سے بھلاے جانے والی ایک محبت، ایک رشتہ،
زندہ رہنے، اور اپنی مرضی سے زندہ رہنے کے پہلے  بنیادی انسانی حق کے لئے لڑی جانے والی ایک اعصاب شکن جنگ، جس کا ساتھ دینے والوں کے قدم تھکنے لگے ہیں،
کہ داستان میں اب وہ رنگینی وہ مزہ نہ رہا،
ایسے ایسے پر فریب موڑ اے، کہ منزل بھی سراب کی مانند لگی.
کہانی کو اتنا طول دیا گیا، کہ اس میں نت نئے موضوعات سر اٹھانے لگے،
نت  نئے مسائل، پر پیچ معاملات، اس طرح کہ کہانی جہاں سے شروع ہوئی تھی، وہ ابتدا نئے انے والوں کی نظروں سے اوجھل ہونے لگی ہے.
دیکھنے والے بور ہوتے ہیں، پر پیچ مسائل اور دقیق مباحث ان کی توجہ اور دلچسپی کم کرتے جاتے ہیں.
چلنے والوں کو اپنا سفر،راستہ، منزل سب مشتبہ معلوم ہوتا ہے.
مایوسی، تھکن، اور عدم دلچسپی کی بدولت  ایک درد ناک داستان، عزم و ہمت کا لازوال سفر، خاک میں پنہاں ہو جانے والے بے شمار لالہ و گل، تاریخ کے بوسیدہ صفحات میں گم ہونے لگتے ہیں…..
ہم کہ جنہوں نے، ایسی لازوال داستانوں کو زندہ رکھنے، عزم و ہمت کے سفر کو اپی مقدور بھر کوششوں سے قوت بخشنے ، اور شہدا  کی قربانیوں کے قصے کہنے کا بیڑا اٹھایا ہے…..
ہم کہ جو ایک بدن کی مانند درد کو محسوس کرنے والے،  درد کہنے والے ہیں،
آج کے روز پھر کچھ چراغ جلاتے ہیں.
ہم کہ جن کے پاس کرنے کو کچھ اور “بڑے بڑے” اور “اہم” کام نہیں،
ہم کہ جو زمانے بھر کے لئے بیکار ہیں….
ہم وہ قصہ کہتے ہیں…. جو اب کوئی نہیں کہتا.
ہر قصہ کا کوئی امین ہوتا ہے، کوئی محافظ.
ہم اس قصے کے امین ہیں…
کہانی، کتنا بھی طول پکڑے، کیسی ہی گنجلک ہو جاے، منزل کسقدر بھی دھندھلانے لگے…..
ہم  ایک ہی قصہ کہتے ہیں،
وہ کچھ لوگ ہیں، جو اپنی مرضی سے زندہ رہنا چاہتے ہیں،
ان کو اپنی مرضی سے “زندہ” رہنے کا حق دیا جاے…..
سلام ہے حریت پسندوں کو…
ہوا کے دوش پر اڑتی ہوئی یہ نرم سرگوشی،
سلاخوں کے اس پار آزادی کا خواب دیکھتے چہروں سے ٹکراتی ہے،
“غم نہ کرو، ہم تمھارے ساتھ ہیں.”

اپنا تبصرہ بھیجیں