اللہ والے – ابنِ فاضل




بچپن میں تدریس قرآن کیلئے بوقتِ عصر مسجد جاتے ، عصر سے مغرب تک قرآن پڑھنا سیکھتے اور مغرب کی نماز پڑھ کر واپس لوٹتے. نماز کیلئے دو صفیں بنتیں، اگلی صف میں بڑے اور پچھلی صف میں بچے. اگلی صف میں عین امام صاحب کے پیچھے ایک سفید ریش بزرگ کھڑے ہوتے جو تلاوت قرآن سنتے تو ہچکیوں سے روتے. ہم ان کے ہلتے ہوئے کندھے دیکھ کر حیران ہوتے.

پھر جب امام صاحب دعا میں قبر اور جہنم کے عذاب کا تذکرہ کرتے تو بھی انکی یہی کیفیت ہوتی. کبھی کبھی عجیب لگتا کہ سارے نمازیوں میں صرف ایک شخص کیوں ایسے بلکتا ہے. وقت گذرتا رہا، ہم نے ناظرہ قرآن مکمل کیا تو اس سفید ریش نے ہمیں مسجد میں قرآن پاک کا ترجمہ پڑھانا شروع کر دیا. درجن بھر لوگوں کے ساتھ ہم بھی ترجمہ سیکھتے رہے. ایک دن پڑھا کہ اللہ کے بندوں کے سامنے جب اس کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو ان پر خوف طاری ہوجاتا ہے. تفسیر میں سیکھا کہ اللہ کے برگزیدہ بندے جب قرآن سنتے ہیں تو ان کے چہرے خوف سے سیاہ اور جلد ڈھیلی پڑ جاتی ہے. تب جانا کہ اللہ کریم کی ایسی محبت اور اس کی باتوں کا ایسا اثر صرف اس کے خاص پاک اور مطہر دل لوگوں کو میسر آتا ہے. دنیا کی کثافتوں سے لبریز دلوں پر ایسے اثرات مرتب نہیں ہوتے..

ہم نے بہت کوشش کہ ایسے ہوسکیں مگر دنیاداری کبھی دل سی نکلی ہی نہیں. اور نہ ہی ارد گرد ویسا کوئی شخص دوبارہ کبھی دیکھا جو قرآن سنے اور ہچکیاں بندھ جائیں. وہ سفید ریش بزرگ محمد فاضل تھے. میرے بابا. آج انکی برسی ہے. اللہ کریم سے دعا ہے کہ انہیں اپنی خاص رحمتوں کے حصار میں رکھیں .

اپنا تبصرہ بھیجیں