نبیﷺ کے عمر – مریم خالد




وہ روایت میں نے تین قسطوں میں پڑھی۔ اتنا درد سہا نہیں جاتا ، میں کیا کروں ؟ وہ بار بار آنکھوں کے آگے آئی اور میں نے دامن بچاتے ہوئے نگاہیں پھیر کر نکل لینے کی کوشش کی مگر اس نے کھینچ کر روک لیا اور اشک اشک بھگو کے درمیان راستے کے چھوڑ دیا۔ مجھے اس نے رلایا بہت۔ ہر بار رلایا۔ میرے ضبط کو بڑی شدت سے آزمایا۔

ایک انصاری صحابیؓ کا جنازہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے خود نمازِ وداع میں دعائیں دے کے رخصت کیا۔ ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ اور علی ؓ سمیت سب ہی آئے تھے ساتھی کو الواداع کرنے۔ آقا نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔ ایک غم تھا جو ہر سمت چھا رہا تھا۔ آپ آہستگی کے ساتھ دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھنے کے لیے اس کے قریب ہوئے۔ مگر وہ یہودی! نجانے کہاں سے آیا اور ایک دم آپ پہ جھپٹ پڑا۔ میرے نبی کو بیٹھتے ہوئے ان کے گریبان سے پکڑ کے جھٹکے سے جکڑ لیا۔ غصے میں سرخ چہرے کے ساتھ زبان سے انگارے اُگلے، “اے محمد! میرا قرضہ ادا نہیں کرو گے کیا؟” میرے اپنے گلے پہ دباؤ پڑنے لگا۔ سانسیں دبنے لگیں۔ بس …….. ضبط کا یارا نہ رہا۔ آگے پڑھنے کی سکت نہ رہی۔

وہ کہ مکہ میں بےبس تھا تو بھی گالیاں سنتا تھا۔ وہ مدینہ میں سلطان بنا لوگ بے دریغ اس کے دیوانوں کے لشکر میں شامل ہونے لگے، وہ تب بھی ظلم سہتا تھا۔ آہ! ظالموں نے میرے آقا کو سمجھا کیا تھا۔عرصے بعد یہ روایت نگاہوں کے آگے آئی، مجھے پڑھنے کی تاب نہ تھی مگر اس نے مجھے کھینچ لیا۔ ایک سطر پڑھی اور دھندلائی ہوئی آنکھیں جواب دے گئیں۔ اس یہودی نے فقط گریبان نہ کھینچا تھا۔ اس نے انگاروں پہ زبانی بارود بھی چھڑکا تھا۔ اس نے کہا تھا، “تم عبدالمطلب کی اولاد ہو ہی ایسی۔ چیزیں لے لیتے ہو پھر ٹالتے پھرتے ہو۔ مجھے تمہارے لین دین کا پہلے ہی پتہ تھا۔” ہائے! یہ طعنہ! کس کو دیا! اور کس کا دیا! کیا لوگوں کو بھول گیا تھا عبدالمطلب کی داد و دہش کا عالم؟ وہ جو سو اونٹ مرکز میں ذبح کر کے خالی ہاتھ گھر لوٹ آیا تھا؟ اور طعنہ دیا بھی کس کو؟ جس کے پاس وہ لوگ اپنا مال رکھواتے تھے جو اس کے خون کے پیاسے تھے۔ انہوں نے کس جگر کے ساتھ یہ سنا ہو گا۔ مجھ سے تو کتاب میں لکھی سطر پڑھی نہ گئی۔

مدت بعد تیسری مرتبہ یہ روایت نگاہوں کے آگے پھر چلی آئی۔ میں نے بہت بچنا چاہا مگر اس نے پھر جا لیا۔ مجھے اپنا بنا لیا۔
وہ سب کچھ سہہ کر مسکرائے تھے! میری آنکھوں کے کنارے ڈبڈبائے تھے۔عمرؓ کی آنکھیں دہک رہی تھیں، یہودی کو گھور کر دھاڑے، “اے الله کے دشمن! تم رسول اللہ ﷺ سے کیا کہہ رہے ہو جو میں سن رہا ہوں؟ اور کیا کر رہے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ مجھے اپنے وار کے خطا ہونے کا خدشہ نہ ہوتا تو اپنی تلوار سے تمہارا سر اڑا دیتا۔” اور نیچے نہایت اطمینان سے بیٹھے رسولِ حق ﷺ مسکراتے ہوئے کہہ رہے تھے، “عمرؓ! میں اور یہ شخص دونوں تمہاری طرف سے بہتر طرزِ عمل کے مستحق تھے۔ تم مجھے حسنِ ادا کی تلقین کرتے اور اسے طریقۂ طلب کا بہتر انداز سکھاتے۔” میری آنکھیں حیرت سے پھیلنے لگیں اور منہ کھل گیا۔ عمرؓ رسول اللہ ﷺ کو حسنِ ادا سکھاتے؟ یہ کہا گیا؟

خوشبو کی لہر ابھی جاری تھی، “اب جاؤ عمرؓ! اور اسے اس کا قرض ادا کر دو۔ اور اسے اپنے دھمکانے کی تلافی کے لیے اپنی طرف سے بیس صاع زیادہ ادا کر دو!” عمرؓ نے یہودی کو لے جا کر یہ سب عطا کر دیا۔ داستان ابھی جاری تھی۔ میری آنکھوں میں اتنی ٹھنڈک اتر رہی تھی کہ دل تک کو سرشار کر رہی تھی۔ وہ کہہ رہا تھا، “عمرؓ! مجھے پہچانتے ہو؟” عمرؓ کہتے تھے، “نہیں۔ ہو کون تم؟” “زید بن سعنہ ہوں۔” عمرؓ کا خون پھر شعلے جلانے لگا، “یہودی عالم! کس چیز نے تمہیں اکسایا کہ تم رسول اللهﷺ سے وہ کہو جو تم نے کہا اور وہ کرو جو تم نے کیا؟” وہ کہہ رہا تھا، “عمرؓ ! میں نے جب رسول اللهﷺ کو دیکھا تو ان کے چہرے سے ہی پہچان گیا تھا۔ وہ سب نبوت کی علامات تھیں۔ مگر دو نشانیاں نہ پا سکا تھا۔ ایک یہ کہ آپکا حلم آپ کے غضب سے بڑھا ہوا ہے اور دوسرا یہ کہ دوسروں کا انتہائی جاہلانہ رویہ آپ کے حلم میں اضافہ کر دیتا ہے۔ آج یہ نشانیاں بھی پوری طرح عیاں ہو گئیں۔

گواہ رہو عمرؓ! قد رضيت باللہ ربا و بالاسلام دينا و بمحمد نبيا! میں اپنے علاقے میں سب سے بڑھ کے مالدار ہوں۔ گواہ رہو عمرؓ! میرا آدھا مال امتِ محمد کے لیے صدقہ ہے!” اور عمرؓ کہتے تھے، تمہارا آدھا مال سب کو کافی نہ ہو گا۔ کہو کہ میرا مال بعض لوگوں کے لیے صدقہ ہے۔ عمرؓ زید بن سعنہؓ کو لے کر واپس دربارِ رسالت میں حاضر ہوئے۔ وہی مٹی تھی، وہی فضا ، وہی لوگ۔ اب اس کی آواز گونجی، اور مجھ سمیت ہر کسی کی سماعت میں وہ الفاظ منجمد ہو گئے،

اشهد ان لا اله الا الله و ان محمد عبده و رسولہ ………… میری آنکھوں کی ٹھنڈک اشکوں کے ساغر میں بہہ رہی تھی۔ میں نے پیدا ہونے سے بھی پہلے کون سی نیکی کی تھی کہ اللہ نے مجھے اپنے آخری رسول کی امت سے اٹھایا ؟ آقا ! آپ کا نام مجھے جینے اور مرنے کو کافی ہے۔

بحوالہ: دلائل النبوۃ لابي نعيم: 1/91-93

اپنا تبصرہ بھیجیں