میرا پیمبر عظیم تر ہے – حمادیہ صفدر




رسول اللہ ﷺ وہ ذاتِ مقدسہ ہیں ، جن کو رہتی دنیا تک کے لوگوں پر عظمت حاصل ہے ۔ آپﷺ کی ولادت باسعادت یک شنبہ ٩ ربیع الاول بمطابق صبح صادق کو ہوئی ۔ دادا عبدالمطلب نے آپ کا نام محمدﷺ رکھا ۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام سیدہ آمنہ اور والد کا نام عبداللہ تھا ۔ آپﷺ نے ایسی زندگی بسر کی ، جوقیامت تک کےلوگوں کے لیے راہِ روشن ہے ۔

آپﷺ ایسے منارہءِ نور ہیں کہ آپﷺ خود تو دنیا چھوڑ کر چلے گۓ مگر آپ ﷺ کے اخلاق و کردار کو مؤرخین نے اس طرح نقل کیا یوں محسوس ہوتا ہے کہ آپﷺ کو ایسا کرتے ہوۓ اپنے سامنے موجود پایا ہو ۔ آپﷺ کے افعال آپﷺ کے اقوال ایسی روشن قندیلیں ہیں جن کےذریعے اہلِ دنیا راہِ ہدایت پر ہیں ۔ ہر اک فعلِ نبیﷺہے تا قیامت قابلِ تعمیل اور ہر ہر قول موتی قیمتی نایاب ہیرا ہے . آپﷺ کے منور کردار کے باعث اللہ تعالٰی نے آپﷺ کو دنیا کے انسانوں کیلیے روشن چمکتے ہوۓ سورج سے تشبیہ دی ۔

يٰۤـاَيُّهَا النَّبِىُّ اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ شَاهِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِيۡرًاۙ‏ ﴿۴۵﴾الاحزاب
اے پیغمبر ہم نے تم کو گواہی دینے والا اور خوشخبری سنانے اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے  ﴿۴۵﴾

اور سورة الاحزاب میں مزیدایک ایسا ارشاد فرمایا ، جس میں آپﷺ کی حیات کو تمام لوگوں کیلیے نمونہ بنا کر یوں واضح کر دیا کہ قیامت تک آنے والے لوگ آپﷺ کے کیے ہوۓ عمل اور آپﷺ کے فرامین پر عمل پیرا ہوں ۔۔ چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا
حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لئے رسول اﷲ کی ذات میں ایک بہترین نمونہ ہے، ہر اُس شخص کیلئے جو اﷲ سے اور یومِ آخرت سے اُمید رکھتا ہو، اور کثرت سے اﷲ کا ذکر کرتا ہو۔

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کی زندگی آپکےافعال اخلاق و کردار ، عدل ، حیا نیز ہر معالہءِ زندگی قابلِ تعمیل ہیں ۔ آپﷺ کی حیاتِ مبارکہ کے کچھ پہلو ۔۔۔آپﷺ کااخلاق اتنا اچھا تھا کہ خود خالقِ کائنات نے آپﷺ کے اخلاقِ کریمانہ کا تذکرہ کرتے ہوۓ فرمایا:۔

وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْم ۔۔القلم

حدیث میں حضرت انس بن مالک سے روایت ہے سیدہ عائشہ ؓفرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اپنے ہاتھ سےکسی غلام یاخادم کو نہیں مارا ، سواۓ جہادِ فِیْ سَبِیْلِ اللہ کے ۔ نہ آپﷺ نے انتقام لیا جس سے آپﷺ کوکوئی تکلیف پہنچی ہو ۔ سواۓ اسکے کہ اللہ کی حرمتوں کو توڑا گیا ہو ۔ آپﷺ اللہ کی خاطر انتقام لیتے تھے ۔ (المؤطا۔۔۔1677)۔ آپﷺ نے شرم و حیاکےزیورسےآراستہ ایسی طیب حیات بسرکی کہ حیاکی مثالیں قائم کردیں۔ سیدناابوسعیدؓنےبیان فرمایاکہ رسولﷺکنواری لڑکی کےاپنی چادرمیں چھپ کرشرم کرنےسےبھی ذیادہ شرم وحیاوالےتھے۔(بخاری۔6119)

“بخاری شریف”میں ایک واقعہ نقل ہوتاہےکہ ابھی آنحضرتﷺابھی اپنےبچپن میں تھےکہ آپﷺاپنےچچاکےساتھ مل کراینٹیں اٹھانےکاکام کررہےتھے۔آپﷺکاتہہ بندباربارپاؤں میں اٹک رہاتھاسب نےمشورہ دیاکہ آپ اپناتہہ بنداتاردیں ۔جب آپﷺنےایساکیاتوحیاکی وجہ سےآپ ﷺبےہوش ہوگۓاورجب ہوش آیاتوبس یہی الفاظ زبانِ اطہرپررواں تھے۔مجھےمیراتہہ بنداوڑھادومجھےمیراتہہ بنداوڑھادو۔ ( رقم الحدیث۔ 1582) ۔ آپ ﷺایسےنرم خوتھےکہ سورة آلِ عمران میں اللہ رب العزت نےارشادفرمایا۔۔۔

فَبِمَارَحْمَةٍمِّنَ اللہِ لِنْتَ لَہُمْ وَلَوْ کُنْتَ فَظّاًغَلِیْظَ الْقَلْبِ لَاانْفَضُّوْامِن حَوْلِکَ۔۔
“پس اللہ کی رحمت کےسبب آپ نرم دل ہیں آگرآپﷺترش روہوتےتولوگ آپﷺسےچھٹ جاتے۔”

اس کےساتھ ساتھ سمجھانے کے انداز میں بھی ایسی نرمی کہ ہر سننے والا آپ ﷺ کی بات سمجھ بھی جاۓ اورعمل بھی کرلے . سیدنا انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک عورت کے پاس سےگزرے جو قبر پہ بیٹھی رو رہی تھی آپﷺ نےفرمایا” اللہ سے ڈرو اور صبر کرو ۔اس نےکہا دور ہو جاؤ مجھ سے ۔ بیشک (تم میری مصیبت کونہیں جان سکتےکیونکہ ) میری مصیبت تم پرنہیں آئی ۔اوراس نے آپﷺ کونہیں پہنچانا تھا۔ پس اسے بتایاگیا کہ وہ رسول اللہﷺتھےوہ آپﷺکی خدمت میں حاضرہوئی اورکوئی دربان دروازےپرنہ پایا . اس نے (آپﷺسے معذرت چاہی اور ) بتایا کہ میں نے آپ کو نہیں پہنچانا تھا ۔(آپﷺنےاسےکچھ نہ کہابلکہ بڑےنرمی والے اندازمیں فرمایا)
صبر صدمے کی پہلی چوٹ پر ہوتا ہے (صحیحین)…..

۔آپﷺچہرےپرمسکراہٹ سجاۓرکھتے، مزاق بھی کرتےمگرکبھی جھوٹ نہ بولتےبلکہ مزاق میں میں حق وصداقت کاخیال کرتے . ایک مرتبہ ایک بوڑھی عورت آپﷺکے پاس آئی اور بولی دعاکریں کہ میں جنت میں چلی جاؤں آپﷺ نےفرمایا بوڑھے لوگ جنت میں نہیں جائیں گے وہ عورت رونےلگی توآپﷺنے پیار بھرے انداز میں فرمایا ۔ اماں بوڑھےلوگ جنت میں نہیں جائیں گے بلکہ اللہ سب بوڑھوں کو جوان کر کے جنت میں داخل فرمائیں گےتو بڑھیا مسکرانےلگی ۔۔(ترمذی۔241) آپﷺ کی زبانِ اطہرسےجو بھی الفاظ ادا ہوتے وہ حق وصداقت کی تمثیلِ اولٰی ہوتے ۔ کبھی فضول گوئی نہ کرتے ۔کبھی اپنی خواہش سےنہ بولتے ۔ یہی وجہ ہے کہ مصحفِ سماوی آپﷺکی لسانِ اطہرکی گواہی دیتا ہے ۔ چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے

وَمَایَنْطِقُ عَنِ الْھٰوٰی ۔اِنْ ھُوَالَّاوَحْیٌ یُّوْحٰی۔(انجم ۔٣۔٤)
اوروہ اپنی خواہشِ نفس سےنہیں بولتے ۔ نہیں (ان کا کلام ) کچھ بھی مگر ایک وحی جوان پرکی جاتی ہے۔

یہ آپ ﷺ کی ذاتِ اطہر میں پاۓ جانے والے اوصافِ حمیدہ ہیں کہ خودربِ اکبربھی مختلف طریقوں سےآپﷺ کو قرآن مقدس میں آپﷺ کا ذکر کرت ےہیں ۔ طہ ۔ یٰس ۔ مزمل ۔ مدثر۔ وغیرہ جیسےالفاظ کےساتھ قرآن میں اللہ آپ ﷺ کو یاد کرتے ہیں ۔۔۔ چنانچہ شاعراپنےاندازمیں اس چیزکایوں تذکرہ کرتاہے۔۔۔ اپنےہی نہیں بیگانے بھی سرکار کی باتیں کرتے ہیں . دشمن بھی میرے آقا کے کردار کی باتیں کرتے ہیں . والشمس کہیں واللیل ………. کہیں والفجرکہیں ، پہ فرما کر قرآن میں رب تعالٰی بھی خود آپکی باتیں کرتے ہیں .

اپنا تبصرہ بھیجیں