حیات طیبہ ؐ – شہلا خضر




اللہ عزوجل کا ارشاد ہے
“یقینا تمہارے ہر اس شخص کے لیے رسولؐ میں بہترین اسوہ ئہے۔ جو اللہ اور روز آخرت کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بکثرت یاد کرتا ہو “۔

بے شک رسولؐ کی اطاعت کا نام ہی اسلام ہے جس پر انسان کی فلاح و نجات کا دارومدار ہے۔ حقیقی اطاعت کی بنیاد رسولؐ کی محبت اور تعظیم ہے۔ یہ دونوں جذبات جتنے زیادہ گہرے ہوتے ہیں اطاعت اتنی ہی پائیدار اور کامل ہوتی ہے۔ سرور عالم ؐ سے محبت و عقیدت اور آپ کی عظمت اور برتری کے احسا س کو پیدا کرنے اور پروان چڑھانے کا واحد ذریعہ آپ ؐ کی سیرت پاکؐ کا مطالعہ ہے۔

سلیم الفطرت انسان کے اندر یہ جذبہ سیرت پاکؐ کے مطالعے سے خود بخود پیدا ہوتا ہے، پیدا کرنا نہیں پڑتا۔ آپؐ کی سیرت کا مطالعہ تمام سیرتوں سے بے نیاز کردیتا ہے۔ پوری سیرت طیبہ کا ایک مضمون میں احاطہ کرناناممکن ہے۔ آج ہم نبی آخرازمان تا جدار رسل سرور کونین ؐ حضرت محمدؐ کی نبوت سے پہلے کی زندگی کے بارے میں جاننے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ سنت نبویۀ مطہّرہ ایک انمول نمونۀ عمل ہے جس کے سانچے میں ڈھلنے کی سعئ مسلسل ہماری نجات کا زریعہ ہے ۔ آقائے دوجہان نبیؐ کا خانوادہ اپنے جدّ اعلیٰ ہاشم بن عبد مناف کی نسبت سے خانوادہ ہاشمی کے نام سے معروف ہے۔ ہاشم اپنے خاندان کے بڑے معززاور مالدار شخص تھے۔ انہیں حجاج کرام کو کھانا کھلانے اور پانی پلانے اور ان کی میزبا نی کرنے کا شرف حاصل تھا۔

چاہ زم زم کی بخیریت
عبد المطلب نے خواب دیکھا کہ انہیں زمزم کا کنواں کھودنے کا حکم دیا جا رہا ہے جسے بنو جر ہم کے افراد مکہ چھوڑتے وقت بند کر گئے تھے۔ قریش بھی اس مبارک کھدائی میں حصے دار بننا چاہتے تھے مگر عبد المطلب نے انہیں اس کی اجازت نہ دی کیونکہ اللہ کی جانب سے انہیں اس کام کیلئے مقرر کیا گیا تھا۔ جھگڑے اور فساد کو ختم کرنے کیلئے انہوں نے منت مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے انہیں دس بیٹے دیئے تو وہ ایک کو اللہ کی راہ میں قربان کریں گے۔ نبیؐ کے دادا عبد المطلب کے دس بیٹے تھے اور ان دس بیٹوں میں سے سب سے زیادہ پاک دامن اور خوبصورت اور چہیتے “عبداللہ”نبیؐ کے والد محترم تھے۔ قرعہ نکالا گیا تو عبد اللہ کا نام نکلا اور پھر سب کے روکنے پر ان کے بڑے سو اونٹ کی نظر دی گئی۔

عبد اللہ کی شادی حضرت آمنہؓ سے ہوئی جو قریش کی افضل ترین خاتون شمار ہوتی تھیں۔ شادی کے کچھ عرصے بعد آپ تجارت کی غرض سے ملک شام گئے اور راستے میں مدینہ میں بیمار ہوئے اور وہی ں انتقال ہوگیا۔ رسولؐ کی ولادت مکہ میں 9ربیع الاول عام الفیل ۱؁ یوم دوشنبہ کو صبح کے وقت ہوئی۔

ولادت کے وقت پیش آنے والے واقعات
۱۔ ایوان کسٰرے کے چودہ گنگورے گر گئے۔
۲۔ مجوس کا آتش کدہ ٹھنڈا پڑ گیا۔
۳۔ مجیرہ ساوہ خشک ہو گیا اور اس کیا گرجے منہدم ہو گئے۔

عرب کے رواج کے مطابق نامور گھرانے بچوں کو دودھ پلانے والی بدوی عورتو ں کے سپرد کر دیا جاتا تھا چنانچہ آپؐ کو ہی قبیلہ سعد بن بکر کی دایہ حضرت حلیمہ ؓ کے سپرد کردیا گیا۔ رضا عت کے دوران آپؐ کے قدم قدم اور رحمت برکت کے بے ابہا نزول ہوئے۔ سوکھی بکریاں تندرست و توانا اور دودھ سے لبریز ہو گئیں۔ گھر میں خوشحالی آگئی۔

واقعہ شق صدد (سینہ چاک کرنے کا واقعہ)
چار یا پانچ سال کی عمر مبارک میں آپؐ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ حضرت جبرائیلؑ نے آپ کو لٹا کر سینہ چاک کیا دل کو زم زم سے دھویا اور پھر سے جوڑ دیا۔ دائی حلیمہ اس واقعے کے بعد خوفزدہ ہو گئیں اور محمدؐ کو ان کی والدہ کے حوالے واپس کردیا۔ آپؐ کی عمر مبارک چھ سال تھی تو والدہ ماجدہ حضرت آمنہؓ شوہر کی قبر کی زیارت کے لئے مکہ تشریف لے گئیں۔ واپسی کے سفر کے دوران ابوا کے مقام پر آپ کا انتقال ہو گیا۔ والدہ کے انتقال کے بعد دادا عبد المطلب نے آپؐ کو اپنے سایہ شفقت میں لے لیا لیکن یہ ساتھ بھی زیادہ طویل نہ رہا اور آپؐ کی عمر مبارک آٹھ برس کی ہوئی تو دادا کا بھی انتقال ہوگیا اور پھر آپؐ کو چچا حضرت ابو طالبؓ نے اپنی زیر کفالت لے لیا۔

بچپن کے چند اہم واقعات
۱۔ قحط سالی کے دوران آپؐ سے حضرت ابو طالبؒ نے دعا کروائی تو ایسی دھواں دھار بارش ہوگئی کہ وادی میں سیلاب آگیا۔
۲۔ بارہ سال کی عمر تک آپ بے انتہاذہین ہوچکے تھے۔ عقل میں معمولی گہرائی، روح میں بے پناہ عظمت تھی۔ ابو طالب سخت پریشان و انگشت تھے۔
۳۔ آپؐ کی عمر مبارک بارہ برس ہی تھی چچا ابو طالب ؒ کے ساتھ تجارت کے لئے ملک شام کے سفر پر نکلے۔ قصریٰ کے مقام پر بحیرہ نامی ایک راہب نے نبیؐ کو پہچان لیا اور حضرت ابو طالبؒ کو بتا یا کہ آپ محمد ؐ کو واپس مکہ لے جائیں کیونکہ شام کے یہودی انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
۴۔ پندرہ برس کی عمر میں جنگ فحار میں چچاؤں کے ساتھ حصہ لیا۔ آپ ؐ نے تیر اندازی اور گری میں مہارت حاصل کی۔ یہ جنگ کئی برس جاری رہی۔ آپؐ شریک تو ضرور ہوئی پر کسی پر ہاتھ نہ اٹھایا۔
۵۔ چند قبائل قریش کے درمیان حلف الفضول کا معاہدہ طے پایا جس کے تحت مکہ میں جو بھی مظلوم نظر آئے گا سب اس کی مدد کریں گے۔ نبیؐ اس معاہدے میں شریک تھے۔

پیارے آقا محمد ؐ نے بچپن سے لیکر لڑکپن اور جوانی نہایت جفا کشی کی زندگی گزاری۔ آپؐ اہل مکہ کے لئے بکریاں چرایا کرتے۔ پچیس سال کی عمر میں حضرت خدیجہؓ کا مال تجارت ملک شام لے کر گئے۔شام کے سفر سے واپسی پر حضرت خدیجہؓ نے اپنے غلام میسرہ سے حالات سفر سنے تو نبیؐ کے اخلاق اور راست گوئی سے بے حد متاثر ہوئیں اور شادی کا پیغام آپؐ کے لئے بھجوادیا۔آپؐ کے چچا ؤں نے شادی کے معاملات طے کئے اور شادی ہو گئی۔ آپؐ کی تمام اولاد حضرت خدیجہؓ کے بطن سے پیدا ہوئی۔ صرف حضرت ابراہیم ماریہ قبطیہ کے فرزند تھے۔جب نبیؐ کی عمر مبارک پینتیس برس کی تھی تو سیلاب کی شکست و ریخت کی وجہ سے کعبہ کو دوبارہ تعمیر کرنے کا فیصؒہ کیا گیا۔ تعمیر کے وقت حجرہ اسود کو نصب کرتے وقت جھگڑا شروع ہو گیا۔ ہر کوئی اسے نصب کرنا چاہتا تھا۔ پانچ روز تک یہ چلتا رہا۔

آخر یہ فیصلہ کیا گیا کہ اگلے روز مسجد حرام میں سب سے پہلے جو داخل ہو گا وہی فیصلہ کرے گا۔ دوسرے روز حضرت محمدؐ سب سے پہلے مسجد حرام میں د اخل ہوئے۔ سب نے فیصلہ آپؐ پر چھو ڑ دیا۔ آپؐ نے اپنی عقل و فراست سے ایسا فیصلہ کیا کہ ایک بڑے خونریز جھگڑے سے سب کو بچا لیا۔ آپؐ نے ایک چادر پر حجرہئ اسود رکھا اور تمام سرداروں کو چادر کے کونے پکڑنے کو کہا جب حجرہ اسود مقررہ مقام تک پہنچ گیا تو نبیؐ نے اسے اپنے دست مبارک سے اس مقام پر نصب کردیا۔ آپ ؐ راست گو اور امانت دار تھے۔ آپؐ غور و غوص اور حق کی تلاش میں سرگرداں رہتے۔ آپؐ کو قبائل مکہ اور گردو نواع کی بستیوں میں موجود خرافات اور جاہلانہ رسم و رواج سے سخت بیزاری محسوس کی۔ آپؐ نے پوری بصیرت کے ساتھ زندگی کا سفر طے کیا یعنی لوگوں کا جو کام اچھا ہوتا اس میں شرکت فرماتے ، ورنہ اپنی مقررہ تنہائی کی طرف لوٹ آتے۔

آپؐ کو شروع ہی سے باطل معبودوں سے اتنی نفر ت تھی کہ ان سے بڑھ کر آ پ کی نظڑ کوئی چیز مبغوض نہ تھی حتیٰ کہ لات و عزیٰ کی قسم سننا بھی آپ کو گوارہ نہ تھا۔ نبیؐ اپنی قوم میں شیریں کردار، فاضلانہ اخلاقاور کریمانہ عادات کے لحاظ سے ممتاز تھے چنانچہ آپؐ سب سے زیادہ نامروت سب سے خوش اخلاق سب سے معزز ہمسایہ سب سے بڑھ کر دور اندی، راست گو اور امانت دار تھے حتٰی کہ آپؐ کی قوم نے آپؐ کا نام ہی امین رکھ دیا۔

“وَاِنَّکَ لَعَلیٰ خُلُقٍ عَظِیْم ”
یقینا آپ عظیم اخلاق پر ہیں

آپ ؐ کی جن خوبیوں کا ذکر کیا ہے وہ آپؐ کے کمال اور عظیم صفات کے مظاہر کی چند چھوٹی چھوٹی لکیریں ہیں ورنہ آپؐ کے مجدود و شرف اورشمائل و فضائل کی بلندی اور کمال کا یہ عالم تھا کہ ان کی حقیقت اور تہہ تک نہ رسائی ممکن ہے نہ اس کی گہرائی ناپی جا سکتی ہے۔ بھلا عالم وجود کے اس سب سے عظیم مبشر کی عظمت کی انتہاء تک کسی کی رسائی ہوسکتی ہے جس نے مجدد کمال کی سب سے بلند چوٹی پر اپنا نشیمن بنایا اور اپنے رب کے نور سے اس طرح منور ہوا کہ کتاب الٰہی ہی کو اس کا وصف اور خلق قرا دیا گیا۔ جب حضرت عائشہؓ سے دریافت کیا گیا کہ رسولؐ کے اخلاق کیسے تھے تو انہوں نے فرمایا

“کانُ خلقہُ القرآن”
“بس قرآن ہی آپؐ کا اخلاق ہے۔

حوالہ جات:
۱۔ الرحیق المختوم (مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری)
۲۔ محمد عربی ؐ (محمد عنیایت اللہ سبحانی)

اپنا تبصرہ بھیجیں