ہوا ہے دل کا تقاضا کہ ایک نعت کہوں – شفا ہما




اُن کو پتھر مارے جارہے تھے… اُن پر لعن طعن کی جارہی تھی… محلے کے اوباش لڑکے اُن کے پیچھے لگے ہوئے تھے..دنیا کے محترم ترین انسان کو گالیاں دی جارہی تھیں..اُن کے پاؤں خون آلود ہوگئے تھے… آسمان دیکھ رہا تھا.. آسمانوں کا خدا دیکھ رہا تھا.. کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سراپا التجا بن گیا تھا…

” اے دو جہاں کے مالک… دنیا کے سب سے پیارے انسان کے ساتھ یہ سلوک کیوں….!”

فرشتوں کے سردار رحمتہ العالمین کے سامنے حاضر ہوئے تھے..
“اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم.. اگر آپ کہیں تو ان نادان انسانوں پر زمین لپیٹ دی جائے…؟”
اور رسولِ مہرباں صلی اللہ علیہ وسلم دھیرے سے مسکرائے تھے…
” نہیں.. یہ ایمان نہیں لائے… مگر ان کی نسلوں میں سے مومنین ضرور نکلیں گے…”
اُس پیارے انسان کی لامتناہی برداشت کو سلام… گالیاں سُن کر دعائیں دینے والے اُس عظیم انسان کو سلام…

صلی اللہ علیہ وسلم….
“میری اور تم لوگوں کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی روشنی کے لیے.. مگر پروانے ہیں کہ اُس پر ٹوٹ پڑتے ہیں جل جانے کے لیے.. وہ کوشش کرتا ہے کہ یہ کسی طرح آگ سے بچیں مگر پروانے اس کی ایک نہیں چلنے دیتے.. ایسا ہی میرا حال ہے کہ میں دامن سے پکڑ پکڑ کر تمھیں کھینچ رہا ہوں.. اور تم ہو کہ آگ میں گرے پڑتے ہو.. ” (بخاری، مسلم)
راتوں کو نمازوں میں امت کے لیے رونے والے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم… جن کا رحم ان کے غضب پر بھاری تھا.. جن کا درگزر کرنا اور معاف کردینا لاکھوں انسانوں کو اسلام کے دامنِ رحمت میں لے آتا تھا… اُن کی ٹرپ.. اُن کا حلم… اُن کی لگن… اُن کا ایثار..

ہوا ہے دل کا تقاضا کہ ایک نعت کہوں…
میں اپنے زخم کے گلشن سے تازہ پھول چنوں..
پھر ان پہ شبنمِ اشکِ سحر گہی چِھڑکوں…
پھر اُن سے شعر کی لڑیاں پرو کے نذر کروں…
میں ایک نعت کہوں، سوچتا ہوں کیسے کہوں…

فتح مکہ کے بعد اپنے بدترین دشمنوں کو معاف کردینے والے سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم.. کبھی کسی پر بہت شدید برہم بھی ہوتے تو بس اتنا کہتے.. ” اِسے کیا ہوا ہے.. اسکی پیشانی خاک آلود ہو..” کبھی کسی پر غصہ نہیں کیا سوائے دین کے دشمنوں کے..

عفو و رحم کا سمندر تھے وہ..
محبت و شفقت کا بحرِ بے کراں تھے وہ..

اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والوں.. فتنوں کے دور میں اللہ کے نبی کی حرمت بار بار اچھالی جائے گی.. بار بار توہینِ رسالت کرکے مسلمانوں کو بھڑکایا جائے گا.. ہم کیوں خود کو اتنا مضبوط نہیں کرلیتے کہ دشمنانِ اسلام ایسی جرات ہی نہ کرسکیں.. امتِ محمدیہ کے وارثوں… کیوں خود کو اللہ کے نبی جیسا نہیں بنا لیتے.. ہم میں سے ہر کوئی اپنا اپنا دین بنا کر اپنے خودساختہ اصولوں کی پیروی کرتا ہے.. اور خود کو مسلمان کہتا ہے.. ہمارے پاس برداشت نہیں ہے.. ہم اپنا غصہ کنٹرول نہیں کر سکتے.. انفرادی زندگیاں بے سکونی کا شکار ہیں… خاندان ٹوٹ رہے ہیں.

ہر انسان سماجی و ذہنی اضطراب کا شکار ہے. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والے خود کو اگر سنتوں کی تکریم و پیروی کرنے کا پابند نہیں کرسکتے تو ایسی محبت کا کیا فائدہ. جو صرف نام کی ہو.. جو صرف دکھاوا ہو…. سوشل میڈیا پر پوسٹس شئیر کرنا محبتِ رسول کا ایک ذریعہ ضرور ہوسکتا ہے لیکن یہ کافی نہیں ہے… کردار کی مضبوطی.. اخلاق کی بلندی… صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہ کی نمایاں خصوصیات ہوا کرتی تھیں… خود کو رحمتہ العالمین صلی اللہ علیہ وسلم جیسا بنانے کی کوشش کریں… سنتوں پر عمل کرنے کی کوشش کریں… محبت و شفقت سے معاملات کو حل کرنے کی کوشش کریں… اللہ کے نبی نے معاف کرنا سکھایا ہے.. اللہ کے نبی نے توبہ کرنا سکھایا ہے..

اسلام کے وارثین ہم ہی ہیں… ہم اللہ کے رسول سے بے تحاشہ محبت بھی کرتے ہیں.. لیکن ہمارے پاس عمل کے میدان میں کچھ بھی نہیں ہے… روزِ محشر حوضِ کوثر پر اللہ کے نبی کا سامنا کیسے کرینگے اگر ان جیسا بننے کی کوشش بھی نہیں کرسکتے.. کوشش مطلوب ہے آپ کے رب کو… صرف کوشش… آغاز کیجیے اپنے آپ سے… کسی اور کو وعظ و نصیحت سے پہلے اپنا محاسبہ کیجیے… سماوات و ارض کا رب نیتوں کو بھی قبول کرتا ہے… سب ٹھیک ہوجائے گا اگر ہم نے خود کو ٹھیک کرلیا تو..

سلام اس پر کہ اسرارِ محبت جس نے سکھلائے….
سلام اس پر کہ جس نے زخم کھا کر پھول برسائے..
سلام اس پر کہ جس نے خوں کے پیاسوں کو قبائیں دیں…
سلام اس پر کہ جس نے گالیاں سن کر دعائیں دیں…
صلی اللہ علیہ وسلم….

اپنا تبصرہ بھیجیں