دہرمیں اسم محمدﷺسے اجالا کردے – قدسیہ ملک




یورپ میں ایسے لوگ بھی بہت ہیں کہ جنھوں نے تعصب کی عینک اتار کر جب حیات طیبہ پر نگاہ ڈالی تو انہیں یقین ہو گیا کہ آنجناب ﷺہی کی ذات اقدس عظیم ترہے ۔وہ مجبور ہوگئے کہ آپ امام الانبیاء ہی نہیں آپ سیدّ البشر بھی ہیں۔ اور بجا طور پر دنیا کی امامت و قیادت کے آپ مالک ومختار ہیں۔

انیسویں صدی کے ہیروپرست انگریز مصنف ٹامس کا رلائل میں جرمن زبان وادب کے مطالعے سے شخصیت پرستی کا رجحان بڑھا اور اس نے مرد کامل کی تلاش میں دنیا کے عظیم رہنمائوں کے حالات زندگی کا مطالعہ کیا۔ کارلائل نے لندن میں شخصیت پرستی کے موضوع پر لیکچر دئیے۔ اس نے جس روز ہیرو بحیثیت پیغمبرکے موضوع پر لیکچر دینا تھا تو ہر کوئی امید لگائے بیٹھا تھا کہ وہ حضرت عیسی علیہ السلام کو منتخب کرے گا مگر کارلائل نے اس منصب جلیل کے لئے جناب مصطفی ﷺ کا نام نامی اور اسم گرامی پیش کیا تو اس کے اکثر سامعین ناراض ہو کرہال سے باہر نکل گئے مگر جب کارلائل نے جناب مصطفی ﷺ کی حیات طیبہ کے سنہرے اوراق پلٹے تو ناراض سامعین ایک ایک کرکے واپس آ گئے اور وہ محمد مصطفی ﷺکی سیرت پاک کے واقعات سن کر عش عش کر اٹھے۔

بیس پچیس برس پہلے کی بات ہے کہ جب مائیکل ہارٹ نے تاریخِ انسانی کی اہم ترین سوشخصیات کا انتخاب کیا تو اس نے سرفہرست آنجناب ﷺکی ذات مبارکہ کو رکھا۔اپنے اس انتخاب کی تشریح کرتے ہوئے مائیکل ہارٹ نے کہا کہ میں نے تاریخ انسانی کی ایک سوچنیدہ ہستیوں میں پہلے نمبر پر جناب مصطفی ﷺ کا اسمِ گرامی رکھنے کا سبب یہ ہے کہ تاریخ انسانی میں وہ واحد ہستی ہے جو دینی ودنیاوی دونوں میدانوں میں کامیابی وکامرانی سے ہمکنار ہوئی۔ ایک معمولی سے پس منظر سے تعلق رکھنے کے باوجود محمد ﷺ نے دنیا کے بہت بڑے مذہب کی طرف نہ صرف دعوت دی بلکہ انتہائی موثر سیاست دان کی حیثیت سے بھی اپنا لوہا منوایا اور آج تیرہ صدیاں گزر جانے کے باوجوداُن کا اثر نہ صرف قائم ہے بلکہ بڑھتا جا رہا ہے ۔

مشہور بیورو کریٹ اور ادیب قدرت اللہ شہاب نے اس سلسلے میں مسلمانوں کے جذبات کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’ رسول خدا کے متعلق اگر کوئی بد زبانی کرے تو لوگ آپے سے باہر ہوجاتے ہیں اور کچھ لوگ تو مرنے کی بازی لگابیٹھتے ہیں،اس میں اچھے، نیم اچھے ، بُرے مسلمان کی بالکل کوئی تخصیص نہیں، بلکہ تجزیہ تو اسی کا شاہد ہے کہ جن لوگوں نے ناموس رسالت پر اپنی جان عزیز کو قربان کردیا، ظاہری طور پر نہ تو وہ علم و فضل میں نمایاں تھے اور نہ زہدوتقویٰ میں ممتاز تھے، ایک عام مسلمان کا شعور اور لاشعور جس شدت اور دیوانگی کے ساتھ شانِ رسالت کے حق میں مضطرب ہوتا ہے، اس کی بنیاد عقیدے سے زیادہ عقیدت پر مبنی ہے، خواص میں یہ عقیدت ایک جذبے اور عوام میں ایک جنون کی صورت میں نمودار ہوتی ہے۔‘‘

ایک عام مسلمان کا حضور اکرم ﷺکے ساتھ عقیدت ومحبت کا یہ عالم ہے کہ وہ ناموس رسالت پر کٹ مرنے کو اپنے لئے سرمایہ فخر سمجھتا ہے اور مولانا محمد علی جوہر کی ایمانی غیرت و حمیت کے یہ الفاظ تقریباً ہر مسلمان کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں:’’ جہاں تک خود میرا تعلق ہے، مجھے نہ قانون کی ضرورت ہے، نہ عدالتوں کی حاجت۔سرور کونین ﷺاور باعثِ تکوین دو عالم ﷺ کا تقدس میرے دل میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے، اگر کوئی بدبخت اس کا اتنا پاس بھی نہیں کرتا کہ اس برگذیدہ ہستی کی توہین کرکے میرے قلب کو چور چور کرنے سے احتراز کرے… تو مجھ سے جہاں تک صبر ہوسکے گا ، صبر کروں گا، جب صبر کا جام لبریز ہوجائے گا تو اٹھوں گا اور یا تو اس گندہ دل ، گندہ دماغ، گندہ دہن کافر کی جان لے لوں گا یا اپنی جان اس کی کوشش میں کھودوں گا۔‘‘( مولانا محمد علی جوہر، آپ بیتی اور فکری مقالات، صفحہ :۲۳۲)

دنیا بھر میں ماہ ربیع الاول میں ایک بار پھر طاغوت یک زبان ہوکر مسلمانوں کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف صف بندی کرچکا ہے۔آئے روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی اور اس کے ردعمل کے طورپر مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے پرتمام دنیاکے مسلمان سراپا احتجاج ہیں۔بنگلہ دیش میں فرانس کے خلاف بڑا احتجاج کیاگیاجس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور میکرون کے بیانات کے خلاف ہزاروں لوگ سڑکوں پر آ گئے۔ اطلاعات کے مطابق مظاہرے میں 50 ہزار لوگوں نے شرکت کی اور شدید احتجاج کیا۔ فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا۔بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے زیراہتمام ڈھاکہ، چٹاگانگ، کومیلا اور غازی پور سمیت مختلف شہروں میں فرانسیسی حکومت کی سرپرستی میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف بڑے احتجاجی مظاہرے۔ فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ اور سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیاگیا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے جریدے “وطن امروز” کے صفحہ اول پر “پیرس کا ابلیس” کے عنوان سے فرانسیسی صدر میکرون کا خاکہ شائع کیا گیا ہے۔ اس خاکہ پر یورپی مفکرین کافی سیخ پا ہیں۔ فرانس کے صدر ملعون میکرون پر فلسطینیوں کی جانب سے شدید احتجاج دیکھنے میں آیاہے۔اسرائیل میں موجود عربوں کا پیغمبر اسلام ﷺسے شدید محبت کے اظہار میں مظاہرے کئے گئے۔یمن ہو یا لیبیا کی عوام سب عشق رسول ﷺمیں ہاتھ میں فدِاکَ اَبی و اُمی یا رسول اللہ صلی اللہُ علیہِ و آلہِ وسلِم کے پینرز پوسٹر اور کارڈز اٹھائے موسم کی سختی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنی اولاد واہل خانہ کے ہمراہ گستاخوں کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروارہے ہیں۔اردن کے تاجروں نے فرانس سے معاشی بائیکاٹ کرتے ہوئے اپنے بڑے بڑے اسٹورز سے فرانس کی تمام اشیاء کی کاروباری ترک تعلق کا عزم کیاہے۔وہاں کے بڑے بڑے تاجروں کا کہناہےکہ اگر انہیں اظہار رائے کی آزادی ہے تو پھر ہمیں بھی اظہار رائے کاپوراحق ہے۔

پاکستان نے بھی فرانس کے سفیر کوبلواکر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایاہے۔ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے فرانس کے صدر میکرون کی دماغی صحت پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہاہےکہ میکرون کو دماغ کے علاج کی ضروت ہے،انہوں نے کہا ایسے صدر کے بارے میں کیاکہاجائے جسے عقیدے کی آزادی کی سمجھ نہیں اور اپنے ملک میں بسے لاکھوں لوگوں کے بارے میں ایسا رویہ رکھے جن کا تعلق مختلف عقائد سے ہو۔ترک صدر کے اس بیان پر فرانس نے انقرہ سے اپنے سفیر کو واپس بلوالیا۔ہالینڈ کے وزیراعظم نے صدر رجب طیب ایردوان کے مؤقف کے خلاف فرانس کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔میرے نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی اولاد مال و متاع سے کہیں بڑھ کر ہیں اب جذبات تو کیا جسم و جاں کا پورا وجود خون کے آنسو رو رہاہے۔دل چاہتا ہے کہ پھرسے کوئی ترکھان کا بیٹا مثل غازی علم دین اٹھے اور ان مردودوں کو سبق سکھادے۔

مغرب آج تک مسلمانوں اور اُن کے نبی ﷺ کے درمیان رشتہ ء عقیدت ومحبت کے اس جذبے کو سمجھنے سے قاصر ہے ۔عشق بڑی عجب شے ہے ۔ عشق کا جذبہ اللہ نے ہر انسان کو ودیعت کیا ہے۔ کوئی دل حتی کہ سنگدل بھی اس عظیم جذبے سے خالی نہیں۔ کسی کو انسانوں سے عشق ہوتا ہے ،کسی کو مناظر سے عشق ہوتا ہے کسی کو صنف نازک سے عشق ہوتا ہے مگر یہ بڑی حیرتناک بات ہے کہ دنیا کے طو ل وعرض میں بسنے والے ڈیڑھ ارب مسلمانوں میں سے شاید ہی کوئی بدبخت ایسا ہو جسے محمد ﷺکی ذات بابرکات سے عشق وعقیدت اور محبت والفت نہ ہو۔مسلمان عالم ہو یا عامی ‘مسلمان متقی ہو یا عاصی ،مسلمان افریقی ہو یا امریکی،مسلمان گورا ہو یا کالا ،مسلمان عربی ہو یا عجمی ، مسلمان آقا ہو یا غلام ،مسلمان حاکم ہو یا محکوم وہ رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارکہ سے زبردست عشق رکھتا ہے۔سیاسی علمی مذہبی اور سوشل میڈیاکے محاذوں پر ہمارے لوگ اور ہم سب برسرپیکار ہیں لیکن ان سب کا کتنا نتیجہ نکل رہاہے وہ ہم سب جانتے ہیں۔

لاکھوں کے حساب سے ہرروز ہم اور ہمارے جیسے کتنے ہی مسلمان ٹویٹر فیس بک انسٹاگرام اور مختلف سماجی ویب سائیٹس پر ان ملعونوں کے گروپس پیجز رپورٹ کرتے ہیں لیکن ان کے پیجز بلاک نہیں ہوتے۔لیکن کشمیر کاز ہو یا فلسطین و برما ایشو ہما رے پیجز بلاک کردیئے جاتے ہیں۔ہم جذبات کے ساتھ باہوش ہوکر مسلسل انکے خلاف شکایات درج کروائیں۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جو کام جذباتی ہوکر عشق کروالیا کرتاہے۔عقل محو حیرت ہوتی ہےکہ یہ میں نے کیاکردیا۔اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے عاشق بننے کے لئے ضروری ہے کہ طاغوت کی لگائی ہوئی آگ میں بے خطرکود جایا جائے ۔عقل کا کیاہے وہ تو ابھی تک محوتماشائے لب و بام کھڑی آپ کو آنے والے واقعات سے ڈراتی رہے گی۔

پھر آگ ہے اولاد ابراہیم ہے نمرود ہے
شاید کسی کو پھرکسی کا امتحان مقصود ہے
کودے گا جو اس آگ میں وہ کامراں ہوجائے گا
اسلام غالب آئے گا اسلام غالب آئے گا

حکومتی سطح پر کوئی کچھ کرئے نا کرے،ہم اپنی ذات کے لئے جواب دہ ہیں۔ہم جس شے کے مکلف نہیں اسکے لیے ہماری جواب طلبی نہ ہوگی۔لیکن جو کچھ ہم کرسکتے ہیں اسکے لئے ضرور جوابدہ ہیں۔ کہیں خدانخواستہ روز محشر اللہ رب العزت ہم سے یہ نہ کہے کہ جب میرے محبوب پر حملے ہورہے تھے تو تم اسوقت کیوں خاموش تھے۔ اب وقت آگیاہے کہ ہمارے حکمرانوں کو عوام کی آواز بنتے ہوئے اسلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کی حفاظت کی درست و ٹھوس منصوبہ سازی کرنی ہوگی۔کیونکہ جب اسلامی ممالک کے حکمران منصوبہ ساز نہیں ہوں گے تو پھرامت مسلمہ کا فرد فرد کھڑا ہوگا۔ہم تو یہاں اپنے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں صرف ایک نہیں کئی محاذوں پر صف آراء ہیں۔ یہاں کبھی کتابوں سے خاتم النبیین کے الفاظ ختم کردیئےجاتےہیں۔

کبھی شاتم الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ملک سے باہر بھیج دیاجاتاہے کبھی لبیک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہنےوالے سپاہی کو شاتم الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مارنے کی پاداش میں سولی پر چڑھادیاجاتاہے۔اسلامی ملک کے باشندے ہونے کے ناطے ہم حکومت کے ہر غلط اقدام پر احتجاج بھی کرتے ہیں اور دباو بھی ڈالتے ہیں کہ وہ ایسے سفیروں کو طلب کرکے اپنااور اپنے شہریوں کااحتجاج ریکارڈ کروائے۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم ایسے نہ بن جائیں کہ روز قیامت خدانخواستہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے منہ موڑ لیں اور ہمیں حوض کوثر سے محروم کردیں کہ جب میرے عزت و ناموس پر حملہ ہورہاتھاتو تم خاموش اور مطمئن سب دیکھ کر برداشت کرتے رہے۔تمہارے دل میں تک اس کے خلاف کوئی تکلیف نہیں ہوئی ۔تم جو اپنے والدین یااپنی اولاد تک کی ہجو برداشت نہیں کرسکتے تھے۔

تمام جہانوں کےرب کے محبوب ترین بندے اپنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس پر حملے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرتے رہے۔وہ آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو اپنی امت کے غم میں راتوں کو روتاتھا اس نبی کے امتی ہوتے ہوئے بھی تمہیں اس بات سے حیاءنہیں آئی کہ نبی کی حرمت میں باطل کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوجاو۔ تم نےطاغوت کی لگائی ہوئی نفرت کی آگ میں اس چڑیا کا کردار تک ادا نہیں کیا کہ جو اپنی ننھی چونچ سے آگ میں پانی کا قطرہ ڈالتی تھی کہ روز قیامت اسکا شمار آگ بجھانے والوں میں کیاجائے۔ناکہ آگ لگانے والوں میں۔جان لیجئے یہی وقت ہےکہ باہوش اور دور جدید کی تمام اسلحے سے لیس ہوکر ہر محاذپراپنا احتجاج ریکارڈ کروایئے۔کوشش کرتے رہیئےاس دور کی تمام سماجی ویب سائیٹس پر بتا دیجئے کہ یہ آپ کےنزدیک کتناحساس معاملہ ہے۔اپنے کردارکو سیرت نبوی ﷺکی روشنی میں ایسا جگمگا دیجئے کہ دیکھنے والے تمام ملعونوں کی آنکھیں چندھیاجائیں۔

وہ اتنے بدحواس ہوں کہ خود اپنی لگائی ہوئی آگ میں جل مریں ۔یہ کوئی عام معاملہ نہیں میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کا معاملہ ہے۔دنیاکے تمام معاملات ایک طرف اورایک مسلمان کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کی حفاظت ایک طرف۔ہماری اولین ترجیح بس یہی ہونی چاہیئے۔اپنی اولاد اپنی رعیت، اپنے اہل و عیال،اپنے دوست احباب پڑوسیوں عزیزو رشتے داروں کو اس خوبصورت محبت سے روشناس کروایئے۔اللہ ہم سب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر صحیح معنوں میں چلنے والا بنادے اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کو اپنی زندگی کی سب سے اولین ترجیح بنادے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے لیئے ہردنیاوی مال ومتاع ہر شےہر نفس سے قیمتی کردے۔ہماری زندگیاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےعظیم مشن کے لئے وقف کردے تاکہ روز قیامت رب کے حضور سرخروئی نصیب ہو۔آمین

قوت عشق سے ہر پست کو بالا کردے
دہرمیں اسم محمدﷺ سے اجالا کر دے

اپنا تبصرہ بھیجیں