کوئی سمجھے تو ایک بات کہوں عشق توفیق ہےگناہ نہیں! – شاذیہ ظفر




آج کل تحفظ ناموسِ رسالت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے حوالے سے بہت سی پوسٹس سامنے آ رہی ہیں ۔ ہر امتی اپنے انداز میں آقا کریم (ص) کے لیے اپنی عقیدت اور محبت کا اظہار کر رہا ہے۔۔۔فرانس کے وزیراعظم کے بیان کی پر زور مذمت کر رہا ہے۔۔ لیکن ایک بات سمجھ میں نہیں آ رہی کہ بہت سے ساتھی رجحان کو اتنی ناقدانہ نظر سے کیوں دیکھ رہے ہیں ۔۔۔

آخر کیوں اس موضوع پر اتنے تنقیدی بیانات جاری کیئے جا رہے ہیں کہ جناب پہلے اپنے کردار کو سنت کے سانچے میں ڈھالیے۔۔ امۃ مسلمہ کی کھوئی ھوئی عظمت کی بحالی میں بحیثت مسلمان ذرا اپنے گریبان میں جھانکیے۔۔ دین کی سر بلندی کے لیے آپ کے کیا کارھائے نمایاں ھیں پہلے انہیں واضح کیجئے۔۔۔اچھا ذرا اپنی دینداری کی سند تو لایئے۔۔۔فرانس کے وزیراعظم پر واویلا مچانے کے بجائے اپنے معاشرے میں سے اخلاقی برائیوں کو دور کیجیئے اپنے کردار کو سنواریئے ۔۔سنیئے محترم آپ کی تو داڑھی ھی نہیں پہلے چہرے کو سنت سے تو سجایئے پھر حرمت رسول کی بات کجیئے گا۔۔ اور محترمہ آپ تو سر پہ حجاب بھی نہیں لیتیں لہذا آپ کے منہ سے آقا کریم کی ناموس پہ نچھاور ہونے کی باتیں زیب نہیں دیتیں۔۔۔ارے آپ کو تو آقا کریم(ص) سے محبت جتانے سے پہلے سو بار سوچنا چاھیئے آپ کی زندگی تو بالکل بھی دین کے مطابق بسر نہیں ھو رھی ۔۔

آپ کس منہ سے فرانس کی چیزوں کے بائیکاٹ کی بات کر رھے ھیں۔۔ آپ تو خود غلفت میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔۔۔پہلے اپنی سوئی ہوئی حمیت کو تو جگایئے۔۔ تو معزز ساتھیو۔۔۔آپ کی اس بات سے بالکل بھی انکار نہیں کہ ھر صاحب ایمان کے لیے اتباعِ سنت لازمی امر ہے۔۔سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور اسوہ حسنہ کو عملی زندگی کا حصہ بنانا سنت کا احیاء کرنا ھمارے تقاضائے ایمانی ہے ھمارے مذھب کی اساس ہے۔۔۔ لیکن کیا ضروری ہے کہ ہم ہر موقعہ پر لوگوں کو لیکچر پلانا شروع کر دیں۔۔ طنز و طعنوں سے ایمان کی رمق ھی ختم کر دیں۔۔ جتا جتا کر کٹہرے میں کھڑا کرنا شروع کر دیں۔۔ فتوے لگانا شروع کر دیں۔۔ یہ کیا بات ہوئی کہ کوئی مسلمان اگر ” حرمت رسول پہ جان بھی قربان ھے ” کہتا ہے تو جوابا استہزاء کے ساتھ یہ ردعمل سامنے آئے کہ پہلے اپنی جان کو اس قابل تو بنا لو۔۔۔

کیا غیرتِ ایمانی صرف دینی حلقوں کی میراث ھے ؟؟ وہ تو ھر کلمہ گو میں ایک جیسی ھوسکتی ھے۔۔اور ہوتی ھے۔۔۔ پھر کسی کے دل میں سرکار رسالت آقا کریم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عقیدت کتنی ھے اسے جانچنے کا کوئی پیمانہ نہیں ھے۔۔۔ بظاھر بہت لاابالی اور ماڈرن شخص جس نے کبھی تبلیغی محافل میں شرکت نہ کی ھو۔۔ حدیث کے حلقے نہ لگائے ھوں۔۔۔ درس اور بیان نہ سنے ھوں۔۔ لیکن اگر وہ فرانس کے وزیراعظم کی مذموم حرکت کے بعد بغیر کوئی شور مچائے بغیر اپنی دینداری کا ڈھنڈورا پیٹے صرف اپنی غیرتِ ایمانی کے تحت دل کی آواز پہ لبیک کہتے ھوئے پیرس سے خریدے مہنگے پرفیوم استعمال کرنا ترک کر دیتا ھے تو اسکا یہ عمل یقیناً بہت سے دینداروں اور عبادت گذاروں کی عبادت جیسا ہی یا اس سے بھی ذیادہ مقبول اور مقرب قرار پا سکتا ہے ۔۔

ہم کیسے کسی کے جذبۂ ایمانی پر انگلی اٹھا سکتے ہیں۔۔۔ ٹھیک ہے کہ مسلمان کا عمل اپنی جگہ بہت اھمیت کا حامل ھے لیکن کیا خالص جذبے کی قدر کرنا ضروری نہیں ہے۔۔ نیک عمل کی تلقین ضرور کجیئے لیکن کسی کی خالص نیت پر سوال تو نہ اٹھایئے۔۔ ھم نہیں جانتے کہ بظاھر کسی عام سے مسلمان کا سادہ سا عمل رب کریم کی بارگاہ اور آقاکریم (ص) کی جناب میں کتنا معتبر اور پسندیدہ ٹھہرے۔۔یاد رکھیئے کبھی کبھی معمولی ترکھان کے بیٹے پڑھے لکھوں پر بازی لے جایا کرتے ھیں ۔۔اور کبھی کبھی عبادت گذاری کا فخر اور دینداری کا زعم ساری محنت اکارت کر دیتا ھے۔۔۔۔!!

اپنا تبصرہ بھیجیں