منصوبہ ساز کون – سمیرا غزل




،کوئی ایک لمحہ ہمیں نکالتا ہے , دائرے میں قید لوگوں کو , زندگی کو ایک مخصوص ضابطے میں قید کرنے والوں کو اس وقت ہمیں احساس دلایا جاتا ہے کہ انسان ایک غافل منصوبہ ساز ہے۔ پھر انسان کی زندگی کے ستون کی میخیں اکھڑنے میں دیر نہیں لگتی ۔۔۔۔۔ اس کے اصول ٹوٹنے میں دیر نہیں لگتی ۔۔۔۔۔۔۔ اسے ہوش کی دنیا میں واپس لانے کے لیے اللہ تعالی بس ایک لمحہ ہی تو لگاتے ہیں اور انسان ایک جھٹکے میں اپنی حقیقت جان لیتا ہے۔ کچھ ایسا ہی میرے ساتھ بھی ہوا , میں جو اپنے لیے اہداف کا تعین کرکے چلنے کی عادی ہوں ، کون سی کتاب پڑھنی ہو، فیس بک چلانا ہو ۔۔۔۔۔۔۔ کس طرح کی سرگرمیوں میں حصہ لینا ہے ؟ کس وقت کیا پڑھنا ہے ؟ کیا لکھنا ہے ؟ کیا با مقصد ہے؟ کیا فضول ہے ؟ کیا وقت کا ضیاع ہے ؟ یہ سب ساتھ لے کر چلنے کو اور عمل کرنے کو ہم اپنی بڑی کامیابی سمجھتے ہیں۔ پھر ایک دن ایسا ہوتا ہے کہ کوئی واقعہ ، کوئی حادثہ ، کوئی سانحہ ہماری زندگی میں رونما ہوتا ہے اور سب کچھ بدل جاتا ہے ۔ ایک مختلف صورتحال ہماری منتظر ہوتی ہے، ایک مختلف کیفیت سے ہم دوچار ہوتے ہیں۔ بھائی جان کے ہم سے جدا ہونے کے بعد میری زندگی کا شیڈول بھی اسی طرح متاثر ہوا۔ نہ کسی کتاب میں دل لگا ، نہ کسی فلسفے میں ، لکھنے کا سلسلہ یکسر رک گیا ایک ہی موضوع رہ گیا بھائ بھائی بھائی اور بس بھائی۔ نماز اور قرآن پاک تو پڑھنا ہے ہی ہر درد کا مداوا لہذا وہ تو جاری رہا لیکن مطالعہ قرآن کورس جو اپنے آخری مراحل میں تھا۔ اس کے پورے ایک ہفتے کے لیکچرز مس ہوگئے’تمام کالمز تمام پیجز اور ان تمام لوگوں کی وال جو پہلی ترجیح میں ہوتے تھے یکسر بھلا دیئے گئے ۔ ایک ہفتے بعد جب چیزوں کو چھونا شروع کیا تو جیسے لگا کہ بھائ کے جانے کے بعد اب دھول مٹی ہوگیا ہو۔ جب سے ارطغرل دیکھنا شروع کیا تھا بے چینی سے اگلی قسط کا انتظار رہتا تھا آج تک اس کی طرف رغبت نہیں ہوئی۔ اب پہلی توجہ مطالعہ قرآن کورس پر دی ہے۔ درحقیقت یہ بشری کمزوریاں ہیں جو کبھی کبھی مقصد تک بھلادیتی ہیں باقی کاموں کی تو بات ہی چھوڑتے ہیں۔ لیکن یہ ہمیں یہ باور بھی کراتی ہیں کہ اختیار صرف اللہ رب العالمین کے پاس ہے ۔۔۔۔۔ ہم اپنی مرضی سے ایک پتہ بھی نہیں ہلاسکتے’مگر ہم اپنے اپنے منصوبے لیے یہ بھول ہی جاتے ہیں کہ زندگی اب نئے اصولوں پر چلائی جائے گی۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ کسی دن کوئی اور نہیں ہم سے ہماری سب سے قیمتی اور عزیز ہستی ہی مانگ لی جائے گی اور ہمیں لگے گا کہ یہ ہی کیوں ؟ ایسا ہی کیوں؟مگر عقل ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں دے پائے گی۔ مگر پیچھے مڑ کر دیکھیں تو ہمیشہ اسماعیل طلب کیے جاتے رہے ہیں کہ اللہ نے عاشقوں کے لیے آسمانوں میں نئے سفر رکھے ہیں اور دنیا والوں کے لیے ہر آن نئی نئی مثالیں دینا اس کا مقصود اس لیے رہا ہے کہ نئے آنے والے پرانوں سے عزیمت اور رخصت کے راستے کو پہچان سکیں۔ یہ برگزیدہ انسانوں کے لیے اعلی مقام ہے اور ہم جیسے کمزور انسانوں کے لیے غفلت سے بیداری کا عمل ہے کہ اللہ رب العالمین بتادینا چاہتے ہیں کہ کُن اور فیکُن کا اختیار میرے پاس ہے اور تم ایک غافل منصوبہ ساز ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں