روح کا انکار کرنے والے – جویریہ سعید




روح کا انکار کرنے والے۔۔۔ روح کو اپنے اندر سے کھرچ کر، پھاڑ کر ، کاٹ کر نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اس طرح ثابت کریں گے کہ روح کا تو وجود ہی نہیں ۔ اور سمجھتے ہیں کہ اس طرح انہیں سکون مل جائے گا؟ یہ تو غصے میں اپنی ہی انگلیاں چبا رہے ہیں۔

میں مسجد کی محراب تلے اپنے گھٹنے سینے سے لگائے بیٹھا ہوں۔۔۔ توہین پر تلے، منہ سے کف اڑاتے، بپھرے ، دانت کچکچاتے، ہجوم کے اظہار بے بسی اور نفرت کو دور سے دیکھتا ہوں۔۔۔ اس قسم کی حرکتیں بے بسی اور جھنجھلاہٹ کا اظہار ہی تو ہیں۔ ادھر کوٹ پینٹ ٹائی میں ملبوس سنجیدہ شکلیں بنائے لوگ وحشیوں اور نفرت کے علمبرداروں کو سپورٹ کر رہے ہیں ۔۔

یہ وہی ہیں جو کیمیائی اور ایٹمی ہتھیار بنا کر، دنیا پر جنگیں مسلط کر کے امن و انسانیت کے بھاشن دیتے ہیں۔ آج بھی دے رہے ہیں۔ میں آنکھیں موند کر سوچتا ہوں۔۔۔ اس ساری اچھل کود کے نتیجے میں کسی ایک بھی ایمان والے کے دل سے ایمان کی شمع بجھا سکو تو واقعی جشن منا لینا۔ ابھی تو یہ سارا ہنگامہ تمہاری بے بسی اور جھجھلاہٹ کا تماشہ ہے۔۔۔ روح کے انکار کی دلیلیں دیتے ہوئے گڑبڑا کر روح کو نوچ کر نکال پھیکنے والوں پر مجھے ہنسی آتی ہے۔

احمقو! واپسی کا کوئی دروازہ تو کھلا رہنے دو!

اپنا تبصرہ بھیجیں