مقصد حیات – سمیرا غزل




وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (القرآن)
ترجمہ: اور میں نے جن اور آدمی اسی لئے بنائے کہ میری عبادت کریں۔

جب جب انسان اس مقصد کو بھولا اس نے زمین میں فساد برپا کیا۔ کبھی دولت کے پیچھے کبھی شہرت کے پیچھے کبھی نفسانی خواہشات کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہو کر کبھی اپنی انا کے بت کو پوجتے ہوئے اپنا جھوٹا بھرم رکھنے کی خواہش نے۔ اور وہ بھول گیا کہ،

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ (القرآن)
ترجمہ: تو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بیکار بنایا اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے؟

ایک طرف تو وہ لوگ ہیں جو صرف دنیا دار ہیں اور پوری تن دہی سے دنیا بنانے کی خاطر سیاہ کو سفید، سفید کو سیاہ کرتے جارہے ہیں۔
مگر ایک طرف وہ لوگ بھی ہیں جو بظاہر دین دار ہیں ظاہری اعمال دین دار لوگوں جیسے ہیں، مگر صاف نظر آتا ہے کہ دنیا کی ہوس، مقابلہ بازی نے انھیں اندھا کر رکھا ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:
“اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:اے انسان!تو میری عبادت کے لئے فارغ ہو جا میں تیرا سینہ غنا سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی کا دروازہ بند کر دوں گا اور اگر تو ایسانہیں کرے گا تو میں تیرے دونوں ہاتھ مصروفیات سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی کا دروازہ بند نہیں کروں گا۔” (الحدیث)

سوال یہ ہے کہ ہوس سے چور منہ پھاڑے ہوئے لوگوں پر محتاجی کا دروازہ کیسے بند ہو؟ اور ان کا سینہ غنا سے کیسے بھرے گا؟ آپ صہ نے ارشاد فرمایا:
“جس کے اندر امانت نہیں اس کے اندر ایمان نہیں۔”(مسند احمد)

امانت کیا ہے؟ کیا صرف یہ مال سے منسوب ہے؟ نہیں اس میں زندگی کے تمام پہلو اور ضابطے سامنے آتے ہیں، کسی کے راز کسی کے ساتھ کیے گئے عہد و پیمان،بحقوق و فرائض کی ادائیگی کے معاملات، کسی پر ناحق دباؤ ڈالنا، کسی پر جبر کی خواہش رکھنا، اپنی ناحق خواہشات کو منوانا، دوسرے کو اپنا تابع بنانے کی خواہش رکھنا، انسانی حقوق سے صرف نظر کرنا، کسی ایسی جگہ تسلط جمانے کی خواہش رکھنا جو اس کی اپنی نہیں ہے۔
ان تمام معاملات کے ساتھ ان ہی جیسے جتنے بھی معاملات میں ہم خیانت کے مرتکب ہوں گے وہاں ہم اللہ رب العالمین اور سنت رسول صہ سے خیانت کے مرتکب ہوں گے کیوں کہ امانت داری کا حکم وہیں سے ہمیں ملا ہے۔

ایک حدیث میں ارشاد نبویؐ ہے۔
“مجھے تم سب میں سب سے زیادہ اچھا وہ شخص لگتا ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں اور سب سے برا میرے نزدیک وہ ہے جو برے اخلاق کا حامل ہے۔”

سو برے اخلاق کا حامل شخص امانت دار کیسے ہوسکتا ہے؟جس کے دل میں کھوٹ ہو، لالچ ہو، کجی ہو وہ اللہ کی طرف یکسو کیسے ہوسکتا ہے؟ اس کا اخلاق کیسے اچھا ہوسکتا ہے؟ وہ کیسے کسی کو بدل دینے کا خواہاں ہوسکتا ہے؟ زمین میں ہونے والے فساد میں وہ بھی اتنا ہی حصے دار ہے کہ جتنا ایک دنیادار۔۔۔ بلکہ جو شعور رکھنے کے باوجود ان کاموں کو نہ چھوڑے اس کی پکڑ یقیناً زیادہ ہوگی۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی پیدائش کے مقصد کو سمجھنے اور اس مقصد کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔

اپنا تبصرہ بھیجیں