محبت کی طلب – سیدہ ابیحہ مریم




” میں جانتی ہوں آپ مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں۔” وہ نماز کے بعد سلام پھیر چکی تھی۔
“بلکہ آپ ہی تو مجھ سے سب سے زیادہ پیار کرتے ہیں ۔۔۔ مجھ سے ۔۔۔ اپنے سب بندوں سے ۔۔۔” اور اب سجدے کی حالت میں اپنے رب سے مخاطب تھی۔

“پیارے اللہ تعالیٰ! میں بہت پریشان ہوں آج کل۔ میرا کسی بھی کام میں دل نہیں لگتا۔ میرے دل کو سکون کی تلاش ہے لیکن سکون کہیں نہیں ملتا۔۔۔ مگر میں جانتی ہوں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔۔” اس نے ایک گہری سانس لی۔
“کیونکہ میں آپ کی بہت بری بندی ہوں۔ میں نماز تو پڑھتی ہوں مگر بے خیالی میں۔۔۔ میں قرآن پاک تو پڑھتی ہوں مگر مجبوراََ۔۔۔ میں آپ سے دعا مانگنے کا ارادہ کرتی ہوں تو مجھے اپنے تمام دنیاوی کام یاد آ جاتے ہیں۔۔۔ شاید اس ہی لئے میرے وقت میں برکت نہیں ہے اللہ تعالیٰ! کہ میں اپنے چوبیس گھنٹے میں سے آپ کے لئے وقت نہیں نکال پاتی۔۔۔ چند منٹ جو صرف آپ کے لئے ہوں، خالصتاً آپ کے لئے۔۔۔” وہ اب اٹھ کر بیٹھ گئی تھی۔

“لیکن اللہ تعالیٰ! اس میں میری کیا غلطی ہے؟؟ میں تو چاہتی ہوں کہ آپ کی عبادت حسن کے ساتھ کروں، سب نمازیں وقت پر ادا کروں۔۔ دل سے۔۔ مگر شیطان کبھی مجھے ایسا کرنے نہیں دیتا۔۔” قبلہ کی جانب رخ کئے جائے نماز پر بیٹھی وہ لڑکی ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں آسمان و زمین کے رب سے مخاطب تھی۔ اس کا کمرہ تاریک تھا اور دروازہ اس نے بند کر رکھا تھا۔ گویا اللہ تعالی کے علاوہ نہ کوئی اسے دیکھ سکتا تھا نہ کوئی اسے سن سکتا تھا۔
“اللہ تعالیٰ۔۔ میں آپ سے آپ کی محبت۔۔ آپ کے ساتھ کا سوال کرتی ہوں۔۔ میں جانتی ہوں آپ میرے اللہ تعالی ہیں، میری دعا کبھی رد نہیں کریں گے۔۔۔ آپ میرے دل میں اپنی محبت، اپنے دین کی اور اپنے رسول کی محبت ڈال دیجئے۔” خدا سے اس کی محبت کا سوال کرتے ہوئے۔۔۔ اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے، اس نے آنکھیں بند کر لیں جیسے کسی اور دنیا میں پہنچ چکی ہو۔

“مجھے اپنے مقرب بندوں میں شامل کر کے شیطان کے حملوں سے بچا لیجئے اللہ تعالٰی ۔ نیک بنا لیجئے، اطاعت گزار بنا لیجئے۔ وہ لوگ جو ‘سبقون السبقون’ ہیں ۔ جو سبقت لے جانے والے ہیں، ان میں شامل کر دیجئے ۔ مجھے دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈالنے پائے اللہ تعالی!!! ” آنکھیں کھولیں تو آنسو اس کے گالوں کو بھگانے لگے لیکن وہ انہیں صاف نہیں کرنا چاہتی تھی ۔ آج وہ چاہتی تھی کہ چہرہ بھیگ جائے ۔ وہ جی بھر کر رو لے ۔ اللہ کے سامنے رونا اس کے بندوں کے سامنے رونے کی نسبت کافی سہل تھا۔ ” آپ مجھے ‘اشد حب للہ’ بنا لیجئے اللہ تعالیٰ ، اپنی محبت میں شدید ۔۔۔ میں جانتی ہوں کہ آپ مجھے مایوس نہیں کریں گے میرے پیارے اللہ!” آج جب وہ رب سے رب کو مانگ رہی تھی تو بے ساختہ اسے دادی جان یاد آئی تھیں ۔ وہ کہتی تھیں کہ ،

“جب رب ہمارا ہوگا تو سب ہمارا ہوگا۔” جائے نماز اٹھاتے ہوئے اس نے کھڑکی سے جھانکتی ہوئی سورج کی روشنی کو دیکھا۔ دل کو اطمینان مل گیا تھا شاید ۔۔۔ اور کیسے نہ ملتا جبکہ مانگنے والا مخلص اور بانٹنے والا وھاب (سب کچھ عطا کرنے والا) تھا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں