خدا ناراض ہے ہم سے – رفعت عنایت




حرمین شریفین ، ایسا مقام جہاں جانے کی خواہش بار بار جانے کے باوجود کم نہیں ہوتی ۔ رواں برس کے آغاز 27 فروری 2020ء کو وزٹ ویزے پر سعودیہ روانگی تھی ، فلائٹ سے 3 گھنٹے پہلے پی آئی اے سے کال آئی کہ کووڈ 19 کی وجہ سے اب وزٹ ویزے والے بھی نہیں جا سکتے ۔اس وقت اللہ کی طرف سے بلاوا نہیں آیاتھا ۔۔۔

دل مسوس کر رہ گیا ۔۔۔ لبوں پر دعائیں آنکھوں میں نمی ہمیشہ تیرتی رہتی تھی کہ خدا جانے بلاوا پھر کب آئے گا اللہ تعالیٰ بہت جزائے خیر دے . بھانجے (داماد) کو جن کی محنت سے اس بار ویزہ ایک سال کا ملا تھا اور اب اللہ کا بلاوا تھا تو حجاز مقدسہ پہنچ گئے ۔ موجودہ حالا ت میں نئی سم اور اسمارٹ فون کے بغیر عمرہ نہیں ہو سکتا ، دومختلف موبائل ایپس کے ذریعے درخواست بھیجنے کے بعد اجازت ملی اور الحمد للہ ……. اللہ کی مدد سے عمرے کی سعادت نصیب ہوئی ۔ جدہ آ نے کے 15 دن بعد جمعرات 26 نومبر کو لبیک پڑھتے ہوئے مکہ مکرمہ میں جب باب فہد کے سامنے پہنچے ۔ اللہ اکبر ۔۔۔خوشبومیں بسا، نوربرستا خوبصورت حرم لیکن اللہ کے بندے نہ ہونے کے برابر ۔۔۔دل کٹ کے رہ گیا ۔۔۔اندر داخل ہونے پر ہمارا اجازت نامہ چیک ہوا اور آگے بڑھے۔۔۔کعبہ نظر آنے لگا ۔۔۔دل جس کی طرف کھنچ رہاتھا ۔

مطاف میں طواف شروع کرنے کا کہا گیا، ہم لوگوں نے کہا تہیۃ المسجد دو رکعت پڑھنے دیں لیکن وہ کہنےلگے ۔ بعد الطواف ۔۔۔ واضح ہو کہ ہر جگہ نگران کھڑے تھے اور ہم اپنی مرضی سے کچھ نہیں کر سکتے تھے ۔۔۔ کعبتہ اللہ اور مطاف ‘ اس سے بڑی خوش نصیبی کوئی نہیں ۔ والدین ، اولاد ، بہن بھائی ، سارے رشتے دار ، میکے ، سسرال کے اور سب جماعت کے ساتھی اور سب مرحومین شدت سےیاد آئے ۔ ساری دنیا کے مظلوم مسلمانوں کے لیے بھی دعائیں کیں ۔ دل چاہ رہا تھا مطاف اور کعبہ کے سامنے سے کبھی نہ ہٹیں لیکن سات چکر تو بہت جلدی مکمل ہو گئے کیونکہ وہاں تو شاید چند سوافراد ہی طواف کر رہے تھے ۔ جہاں قدم رکھنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی، جہاں رحمٰن اور رحیم کے بندے دیوانہ وار اسکے گھر کے گردطواف کرتے تھے اب وہاں انسانوں کا سمندر نہیں تھا۔ دل خون کے آ نسو رو رہا تھا۔۔۔

یا اللہ ! ۔۔۔ آپ کا حرم کعبہ تو لاکھوں لوگوں کو سمیٹ لیتا تھا۔۔۔ آ ج آپ کا گھر خالی ہے ۔ یا رب !سب کو اپنے در پر حاضری کی توفیق دے دیں ۔ آمین ۔ طواف کےبعد مقام ابرہیم کی نفل کے لیے فرسٹ فلور پر بھیج دیا گیا ۔۔۔گہرے بادل برسنے کے لیے تیارتھے۔۔اور حرم میں بارش کا انتہائی خوبصورت منظرتھا ۔اور کعبہ بہت ہی پیارا لگ رہا تھا، ایک گھنٹہ موسلا دھار بارش ہوتی رہی ۔ سعی کیلئے صفا پرپہنچے ۔۔۔ نبی مہر باں ﷺ کا صفا پر کھڑے ہو کر لوگوں کو اللہ کی طرف بلانا۔۔۔صفا سے مروه جاتے ہوئے بی بی ہاجره کا ایمان اور یقین یاد آیا ۔۔۔الحمدللہ عمرہ تو بہت آسانی سے ہو گیا اور ظہر پڑھ کے لازمی باہر نکلناتھا کیونکہ ہماری مہلتِ عمرہ ختم ہو رہی تھی ۔اور میں یہ ہی سوچتی رہی کہ کبھی پورا پورا دن حرم میں گزارتے تھے،کعبے کو جی بھر کے دیکھتےاوردعائیں کرتے تھے۔

کتنے ہی لوگ تڑپ رہے ہیں اس گھر تک آنے کے لیے ۔۔۔ اے رحمان الرحیم رب !ہماری انفرادی اور اجتماعی خطائیں اتنی بڑھ گئیں ہیں کہ آج اس بیماری کی شکل میں ہم پر تباہی اور بربادی مسلط ہو گئی ہے . اےغفورالرحیم رب !ہمیں معاف فرما۔ ہمارے ایمان میں بی بی ہاجره کے ایمان کی جھلک دے ۔۔۔ ہم نے خاتم النبیین ﷺ کے پیغام کو بھلا دیا کہ خود عمل کر تے ہو ے لوگوں کو اس راہ پر بلانا تھا ۔ نبی پاکﷺ نے فرمایاتھا ! ” ایک وقت آئے گا کہ جب تم نیکی کا حکم دینا اور بدی سے روکنا چھوڑ دو گے توتمہاری دعائیں قبول نہیں ہوں گی ۔۔۔۔ یا اللہ ہم سب کے حال پر رحم فرما ، ہمارے گناہ معاف فرما ،قرآن پر عمل کرنے والا بنااور اس وبا سے ہم سب کونجات دیدے ۔آمین ۔ یہ زندگی تو برف کی طرح گھل رہی ہے ۔ ۔ ۔اس مہلتِ زندگی کو اپنی راہ میں استعمال کرنے والا بنا دے۔آمین یارب العالمین

اپنا تبصرہ بھیجیں