من یطیق ما تطیقین یا ام عمارہ! – عائشہ فہیم




یہ خاتونِ احد ہیں۔۔۔ وہ وقت جب بڑے بڑے بہادروں کے قدم لڑکھڑا رہے تھے، یہ شیر دل خاتون استقامت کا پہاڑ بن کر میدانِ جنگ میں ڈٹی رہتی ہیں۔ جنگ کا آغاز ہے اور یہ بھی دوسری خواتین کے ساتھ مشکیزوں میں پانی بھر بھر کر مجاہدین کو پلا رہی ہیں اور زخمیوں کی خبر گیری کررہی ہیں۔ لیکن اچانک ہی جنگ کا پانسہ پلٹتا ہے۔

مجاہدین انتشار کا شکار ہوجاتے ہیں ……. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گنتی کے چند سرفروش باقی رہ جاتے ہیں۔ یہ مشکیزہ پھینکتی ہیں، تلوار اور ڈھال سنبھال کر حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ کر کفار کے سامنے سینہ سپر ہوجاتی ہیں۔ میدانِ جنگ گرم ہے۔ ایک مشرک آتا ہے اور ان کے سر پر تلوار کا وار کرتا ہے۔ یہ اسے اپنی ڈھال پہ روکتی ہیں اور پھر اس کے گھوڑے کے پاؤں پر تلوار کا ایسا بھرپور ہاتھ مارتی ہیں کہ گھوڑا اور سوار دونوں زمین پہ آرہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ ماجرا دیکھ رہے ہیں۔ ان کے بیٹے کو آواز دیتے ہیں “عبداللہ اپنی ماں کی مدد کر!” بیٹا لپکتا ہے اور تلوار کے ایک ہی وار سے دشمن کو جہنم واصل کرتا ہے۔۔ عین اسی لمحے دوسرا مشرک آیا اور بیٹے کا بازو زخمی کرتا ہوا نکل گیا۔

یہ خاتون اپنے ہاتھ سے بیٹے کا زخم باندھتی ہیں اور فرماتی ہیں “بیٹے جاؤ! جب تک دم ہے لڑو۔”زمین و آسمان اس عورت کی شجاعت پہ متحیر ہیں۔۔رسولِ خدا اپنی آنکھوں سے یہ سب دیکھ رہے ہیں۔۔اور ایک عورت کی شان میں کیا ہی پیاری بات فرماتے ہیں

“من یطیق ما تطیقین یا ام عمارہ!” (اے امِ عمارہ جتنی طاقت تجھ میں ہے اور کسی میں کہاں ہوگی۔)

اسی دوران ایک پتھر آکر پیارے نبی کو لگتا ہے، دندان مبارک شہید ہوجاتے ہیں۔ابھی مسلمان اسی کرب میں مبتلا ہیں کہ ابن قیمیہ نامی ایک کافر آتا ہے اور رسول اللہ پہ وار کرتا ہے۔رخسار مبارک زخمی ہوگیا، اور خون کی دھاریاں پھوٹ نکلیں۔کیسا کربناک منظر ہے۔۔ رسول اللہ کے چاہنے والوں کے دل مٹھی میں آجاتے ہیں۔ایسے میں امِ عمارہ بے تاب ہوکر آگے بڑھتی ہیں اور اس پہ حملہ کردیتی ہیں۔اس حملے میں خود آپ رضی اللہ عنھا کا کاندھا زخمی ہوگیا۔ جس سے خون کا پرنالہ بہہ رہا ہے۔لیکن وہ دشمن ابن قیمیہ وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا۔جنگ ختم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم امِ عمارہ کی خیریت دریافت کرنے جاتے ہیں، اور فرماتے ہیں:

احد کے دن میں دائیں بائیں جدھر نظر ڈالتا، امِ عمارہ ہی امِ عمارہ لڑتی نظر آتی تھیں!”

(بحوالہ: تذکار صحابیات از طالب ہاشمی)

اپنا تبصرہ بھیجیں