میں بھولی بسری – عائشہ فہیم




عائشہ رضی اللہ عنھا۔۔۔ جو قطب نما ہیں، جن کی ذات سے علم و عمل کی کرنیں پھوٹتی ہیں، جو نسوانی جذبات بھی رکھتی ہیں، ساتھ ہی قوی بھی ہیں! گفتار میں بھی کردار میں بھی۔۔ اصحاب کرام ان سے فیض اٹھاتے ہیں، ان کی ذہانت اور تفقہ فی الدین کے معترف ہیں۔۔جو محبوبہء محبوب صلی اللہ علیہ وسلم ہیں!

جن کو مخاطب کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ، “عائشہ! مجھے تم دو مرتبہ خواب میں دکھائی گئی، تم ریشم کے ایک کپڑے میں میرے پاس لائی گئی، میں نے اسے کھولا تو تم تھی اور مجھ سے کہا گیا کہ یہ آپ کی زوجہ ہیں۔”۔۔۔۔۔ اور فرماتے ہیں کہ، “مجھے جنت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا دکھائی گئی تاکہ موت کی سختی آسان ہوجائے۔۔”

کس درجے کی محبت ہے! موت کی سختی کا تصور ہی جان لیوا ہے۔۔ اور ایسے میں کوئی ایسی ہستی جس سے دلی محبت ہو، جسے آپ ٹوٹ کر چاہتے ہوں، اس کی قربت کا سہارا مل جائے۔۔ گویا وہ ان کے دونوں ہاتھوں کو دیکھ رہا ہو۔۔ اس کو تھام رہا ہو، یا بس اسے تھامنے ہی والا ہو۔ وہ جو سب کے محبوب تھے، وہ ان کی محبوبہ تھیں!

اور جب خود آپ رضی اللہ عنھا کی وفات کا وقت قریب آپہنچا۔ جان کنی کا عالم ہے۔۔۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ ملنے کی خواہش کرتے ہیں۔ تھوڑا ہچکچاتی ہیں، منع کرتی ہیں۔۔ کیسا ڈر ہے؟ یہ کہ وہ آئیں گے اور میرے سامنے میری تعریف کریں گے۔ یہ کیسا عجز ہے، کیسا غنا ہے! وہ وقت جب انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ لوگ اس کے بارے میں اچھی بات کہیں، وہ ڈر رہی ہیں کہ وہ میری تعریف نہ کریں آکر۔اصرار کے بعد اجازت دی جاتی ہے۔ ابن عباس اجازت لے کر اندر داخل ہوتے ہیں۔ “بشارت ہو آپ کو اے ام المومنین! آپ رسول اللہ کو سب سے زیادہ محبوب تھیں، آپ کی برات ساتویں آسمان سے نازل فرمائی گئی” جبریل امین ان آیات کو لے کر اترے، اب اللہ کی مساجد میں سے کوئی مسجد ایسی نہیں جہاں صبح و شام یہ آیت تلاوت نہ کی جاتی ہو۔۔ وہ ان کی خوش نصیبی کی داستانیں سنارہے تھے۔۔ اور وہ بے نیاز بیٹھی تھیں۔۔ کرب سا جیسے ان کے چہرے سے جھلکتا ہو۔۔ اپنی تعریف سن کر گویا ہوتی ہیں:
“چھوڑو اے ابن عباس! میں تو اس وقت بس یہ چاہتی ہوں کہ میں بھولی بسری بن جاؤں۔۔!” اور وہ اسی غنا کے ساتھ رخصت ہوگئیں۔۔

بھولی بسری بن جانے کی خواہش رکھنے والی آج تلک ہماری کتابوں میں، ہماری باتوں میں اور ہمارے دلوں میں بستی ہیں!

(واقعات بحوالہ طبقات ابن سعد)

اپنا تبصرہ بھیجیں