Home » رمضان رحمت کا مہینہ – حناطہ عثمان
اسلامیات

رمضان رحمت کا مہینہ – حناطہ عثمان

ماہ رمضان کی آمد آمد ہے، یہ برکتوں والا مہینہ ہے۔ اس ماہ کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن مقدس کا نزول اسی پاک مہینے میں ہوا، رمضان المبارک کی فضیلت اور اس کے تقاضے یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اس ماہِ مبارک کی اپنی طرف خاص نسبت فرمائی ہے۔

رمضان کے معنی : ”رمضان“ عربی زبان کالفظ ہے، جس کے معنی ہیں ”جھُلسادینے والا“ اس مہینے کا یہ نام اس لیے رکھا گیا کہ اسلام میں جب سب سے پہلے یہ مہینہ آیا تو سخت اور جھلسادینے والی گرمی میں آیا تھا۔ لیکن بعض علماء کہتے ہیں کہ اس مہینے میں اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی خاص رحمت سے روزے دار بندوں کے گناہوں کو جھلسادیتے ہیں اورمعاف فرمادیتے ہیں، اس لیے اس مہینے کو ”رمضان“ کہتے ہیں۔ (شرح ابی داؤد للعینی ۵/۲۷۳)
رمضان رحمت کا خاص مہینہ : اللہ تعالیٰ نے یہ مبارک مہینہ اس لیے عطا فرمایا کہ گیارہ مہینے انسان دنیا کے دھندوں میں منہمک رہتا ہے جس کی وجہ سے دلوں میں غفلت پیدا ہوجاتی ہے، روحانیت اور اللہ تعالیٰ کے قرب میں کمی واقع ہوجاتی ہے، تو رمضان المبارک اللہ کی عبادت کرکے اس کمی کو دور کرسکتا ہے، دلوں کی غفلت اور زنگ کو ختم کرسکتا ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرکے زندگی کا ایک نیادور شروع ہوجائے، جس طرح کسی مشین کو کچھ عرصہ استعمال کرنے کے بعداس کی سروس اور صفائی کرانی پڑتی ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کی صفائی اور سروس کے لیے یہ مبارک مہینہ مقرر فرمایا .

رمضان کا بابرکت مہینہ شروع ہوچکا ہے ، یہ صیام و قیام ، رحمت و مغفرت اور جہنم سے خلاصی کا مہینہ ہے ، یہ قوت ایمانی میں صلابت و اضافہ کرنے اور جسمانی صحت کو یقینی بنانے کا مہینہ ہے ، یہ صدقہ و خیرات اور جود و سخا کا مہینہ ہے ، یہ اللہ کی طرف رُجوع کرنے اور آپس میں ایک دوسرے سے معافی تلافی کرنے کا مہینہ ہے ۔ اللہ نے اس ماہ کو بنایا ہی اس لئے ہے کہ بندہ اپنے گناہوں کو بخشواکر اپنی روح میں تازگی پیدا کرے ، نفوس کو پاک و صاف کرسکے ، اپنی کوتاہیوں کی تلافی کرسکے ، خواب غفلت سے بیدار ہوکر طاعت و بندگی کی راہ اختیار کرسکے اور پرہیزگاری کے زیور سے اپنے آپ کو آراستہ کرسکے ۔
اس وقت جب کہ ساری دنیا کورونا وائرس کے شکنجہ میں جکڑی ہوئی اور لوگ اپنے اپنے گھروں میں قید ہیں ، مسلمان اس ماہ صیام کا استقبال کررہے ہیں ، مگر اس مہمان کا استقبال ہم شاید اس طرح نہیں کر رہے ہیں جس طرح ہمارے اسلاف کیا کرتے تھے ۔ سلف صالحین اس کی آمد پر شاداں و فرحاں ہوتے تھے ، اسے پانے پر اللہ کی حمد وثنا بیان کرتے اور شکر بجالاتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ دین اسلام کے ستونون میں سے ایک اہم ستون ہے ،

اللہ کے نبی ﷺ کا ارشاد ہے : اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے ، اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سواء کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا ، زکوٰۃ ادا کرنا ، رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج کرنا ۔
خوشخبری : اللہ کے نبی ﷺ خوشخبری دیا کرتے تھے کہ رمضان آگیا ہے، یہ بابرکت مہینہ ہے ، اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کے روزے فرض کئے ہیں ، جنت کے دروازے اس میں کھول دیئے جاتے اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے اور مردود شیاطین کو بیڑیاں ڈال دی جاتی ہیں ، اس میں ایک رات ہے جو ہزار ماہ سے افضل ہے ، جو اس کے خیر سے محروم رہا وہ سراپا محروم رہا ۔ ( صحیح سنن النسائی )
ابن رجب حنبلیؒ فرماتے ہیں بھلا مومن جنت کے دروازوں کے کھلنے سے خوش کیوں نہ ہو ، گنہگاروں کو جہنم کے دروازے بند کئے جانے پر مسرت کیوں نہ ہو ، اور صاحب عقل و دانش کو شیاطین کے پا بزنجیر وسلاسل ہونے پر خوشی و راحت کیوں محسوس نہ ہو ، بھلا کوئی اور وقت اس جیسا میسر آسکتا ہے ؟ ہرگز نہیں ۔

ابن رجب حنبلیؒ فرماتے ہیں ماہ رمضان کو پانا اور اس میں روزے رکھنے کی توفیق ملنا اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے ، جس کا اندازہ ابن ماجہ کی اس حدیث سے ہوتا ہے اور جس میں یہ ہے کہ تین صحابہ میں سے دو شہید ہوگئے اور تیسرے کی وفات ان کے ایک سال بعد بستر مرگ پر ہوئی ، مگر وہ جنت میں پہلے داخل کئے گئے ، رسول اللہ ﷺ نے وجہ بتاتے ہوئے فرمایا ، کیا اس نے اتنی اتنی نمازیں نہیں پڑھیں ، کیا اس نے اس کے بعد رمضان کو پاکر اس کے روزے نہیں رکھے ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، ان کے اور اُن کے درمیان اتنا ہی فرق ہے ، جتنا آسمان و زمین کے درمیان ۔
امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ رمضان کا مہینہ سلف صالحین کے لئے درسگاہ ہوا کرتا تھا ، وہ اس ماہ میں خود کو پورے سال پرہیزگاری اور روزوں و عبادتوں کے لئے تیار کرتے ؛ کیوںکہ وہ جانتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : من صام یوما فی سبیل اللّٰه باعد اللّٰه وجھہ عن النار سبعین خریفا ۔ (متفق علیہ )
جو اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھے گا ، اللہ اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال کی مسافت تک دُور کردیں گے ۔

رمضان کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا عشرہ مغفرت اور تیسرہ عشرہ جہنم کی آگ سے نجات کا ہے، رمضان کی اہمیت کے بارے میں ﷲ تعالیٰ نے حضرت محمد سے ارشاد فرمایا کہ اگر مجھے آپ ﷺ کی اُمت کو جہنم میں ہی جلانا ہوتا تو رمضان کا مہینہ کبھی نہ بناتا۔
رمضان کا چاند : جب رمضان المبارک کا چاند نظر آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ یہ چاند خیروبرکت کا ہے‘ یہ چاند خیر و برکت کا ہے، میں اس ذات پر ایمان رکھتا ہوں جس نے تجھے پیدا فرمایا۔”حضرت جبرائیل علیہ سلام نے دعا کی کہ ہلاک ہوجائے وہ شخص جس کو رمضان کا مہینہ ملے اور وہ اپنی بخشش نہ کرواسکے، جس پر حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا آمین! ” حضرت جبرائیل علیہ سلام کی یہ دعا اوراس پر حضرت محمد ﷺ کا آمین کہنا اس دعا سے ہمیں رمضان کی اہمیت کو سمجھ لینا چاہئے۔ رمضان المبار ک کا پورا مہینہ قبولیت دعا کے خاص مواقع میں سے ہے اس لیئے اس میں دعاؤوں کا خوب اہتمام ہونا چاہیئے البتہ کسی مخصوص عشرہ سے متعلق کسی مخصوص دعا کا کسی حدٰیث سے ثبوت نہیں ہے،

حدیث میں اتنا ضرور ہے کہ چار چیزوں کی اس مہینہ میں کثرت رکھا کرو، جن میں سے دو چیزیں اللہ کی رضاء کے واسطے اور دو ایسی ہیں کہ جن سے تمہیں چارہ کار نہیں، پہلی دو چیزیں جن سے تم اپنے رب کو راضی کرو وہ کلمہ طیبہ اور استغفار کی کثرت ہے اور دوسری دو چیزیں یہ ہیں جنت کی طلب اور جہنم سے پناہ ، اس کے لیئے لاالہ الا اللہ استغفراللہ اسئلک الجنۃ واعوذبک من النار کے الفاظ منقول ہیں ( بیھقی، صحیح ابن خزیمہ وغیرہ)اس لیئے اس دعا کے اہتمام کے ساتھ اللہ سے اس کی رحمت، مغفرت، سلامتی ایمان وبدن ،فلاح دارین نیز ہر طرح کی خیر کا سوال بکثرت کرنا چاہیئے۔بعض بزرگوں سے پہلے عشرہ میں رب اغفر وارحم وانت خیر الراحمین، دوسرے میں استغفر اللہ ربی من کل ذنب واتوب الیہ، اور تیسرے میں اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنا کا اہتمام منقول ہے، یہ آ خری دعا احادیث میں بھی طاق راتوں میں مانگنے کی ترغیب وارد ہے۔ واللہ اعلم۔۔۔ اور اس مبارک مہینہ میں قولی وعملی معصیات ومکروہات سے بچنے اور پرہیز کرنے کی تاکید فرماتے ہوئے ایک موقع پر آپ ﷺنے فرمایا: جو شخص روزہ کی حالت میں جھوٹ اور بیہودہ باتوں اور غلط اور بیہودہ اعمال سے پرہیز نہ کرے تو الله کو اس کے بھوکے اور پیاسے رہنے کی کچھ پرواہ نہیں۔(رواہ البخاری)

ایک دوسرے موقع پر ارشاد فرمایا: ’’جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو اسے چاہیے کہ وہ کوئی بیہودہ حرکت اور بیہودہ بات نہ کرے اور غصہ اور تیزی میں زور سے بھی نہ بولے او راگو کوئی دوسرا آدمی اس کے خلاف گالی بازی کرے اور لڑنا چاہے تو کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔‘‘ اور جو لوگ روزے کی حالت میں بھی خرافات اور معصیات سے پرہیز او راحتیاط نہ کریں، ان کے بارے میں آپ نے فرمایا: ” کتنے ہی روزہ دار ہیں کہ ان کے روزوں کا حاصل بھوک پیاس کے سوا کچھ نہیں اور کتنے ہی شب زندہ دار ہیں جن کی راتوں کی نمازوں کا حاصل اور نتیجہ رات کے جاگنے اور نیند خراب کرنے کے سوا کچھ نہیں۔“(رواہ الدارمی)
رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ان ارشادات کو سامنے رکھ کر سوچئے کہ ان میں ہمارے لیے کیا ہدایت اور ہم سے کیا مطالبہ ہے ،یہ مبارک مہینہ خاص طور سے تطہیر اور تزکیہ کا مہینہ ہے، گناہوں سے توبہ اور استغفار کا مہینہ ہے، الله سے مانگنے اور اس کے حضور میں رونے کا مہینہ ہے، اپنے کو جنت اور الله تعالیٰ کی خاص رضا ورحمت کا مستحق بنا لینے کا مہینہ ہے ، جیسا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا، واقعہ یہی ہے کہ جو کوئی اس ماہ رحمت میں بھی الله کی رحمت ومغفرت کے فیصلہ سے محروم رہا وہ بڑاہی بے نصیب اور بدبخت ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment