Home » اللہ کن لوگوں سے محبت کرتا ہے ؟
اسلامیات

اللہ کن لوگوں سے محبت کرتا ہے ؟

اللہ کے محبوب بندے : يُحِبُّہُم : ـــ” جو اللہ کو محبوب ہوں گے۔ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ –اللہ توبہ کرنے والوں کو اور پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے-﴿البقرة

“​✒ پہلی خوبی جس کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کو وہ محبوب ہوں گے ۔ یقینا ان میں کچھ صفات لازما ہوں گی جن کی بنا پر اللہ ان سے محبت کرے گا۔اللہ سبحانہ وتعالی کی محبت پانے کے راز :📌 رسول اللہ ﷺ کی اطاعت :قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللہُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ۝۰ۭ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝۳۱ [٣:٣١](اے حبیب!) آپ فرما دیں: اگر تم اﷲ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو تب اﷲ تمہیں (اپنا) محبوب بنا لے گا اور تمہارے لئے تمہارے گناہ معاف فرما دے گا، اور اﷲ نہایت بخشنے والا مہربان ہے، اس آیت سے ہمیں یہ پتہ چلا کہ جس کو اللہ کی محبت درکار ہو اسے چاہیے کہ سنتِ رسول ﷺکو اپنی زندگی کا محور بنا لے اور زندگی کے ہر قدم ، ہر شعبے اور ہر کام میں سنتِ رسول ﷺ کا اتباع اور التزام کر لے تو اللہ کا وعدہ ہے کہ اللہ تعالی اس محبت کریں گے اور اس کے گناہوں کو معاف فرمادیں گے۔اللہ کن لوگوں سے محبت کرتا ہے ✒ القرآن ۔۔۔ 📖

📌1) اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے ۔۔ سورہ آلِ عمران آیت 146📓📌2)بےشک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے ۔۔ سورہ الممتحنۃ آیت 8 📓📌3)بے شک اللہ ان سے محبت کرتا ہے جو اس پر توکل کرتے ہیں ۔۔۔ سورہ آلِ عمران آیت 159📓📌4)بے شک اللہ ان سے محبت کرتا ہے جو بہت توبہ کرتے ہیں ۔۔ سورہ البقرہ آیت 222📓📌5)اور اللہ پاک رہنے والوں سے محبت کرتا ہے ۔۔ سورہ التوبۃ آیت 108📓✒ الحدیث ۔۔۔ 📖📌6) قرآن پاک پر غوروفکر، عمل اور اس سے گہرا تعلق برقرار رکھنا :رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “بیشک انسانوں میں سےکچھ اللہ والے ہیں۔”لوگوں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! اللہ والے سےکچھ اللہ والے ہیں۔”لوگوں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! اللہ والے لوگوں سے کون مراد ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: “قرآن والے اللہ والے ہیں اور اس کے مخصوص بندے ہیں۔” (سنن نسائی و ابن ماجہ)📖

📌7) اللہ کی محبت کی طرف خود قدم آگے بڑھانا :✒ حدیث قُدسی: ابو ذرغفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا ہے کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں : “میرا بندہ مجھ سے جو توقع رکھتا ہے اور جیسا گمان اس نے میرے متعلق قائم کر رکھا ہے ویسا ہی مجھے پائے گا۔ جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اگر وہ مجھے تنہائی میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے تنہائی میں یاد کرتا ہوں ۔ اگر وہ کسی جماعت کے ساتھ بیٹھ کر مجھے یاد کرتاہے تو میں اس سے بہتر جماعت میں اس کو یاد کرتاہوں۔ اگر وہ میری طرف بالشت بھر بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہوں اور اگر وہ میری طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف چار بڑھتا ہوں اور اگر وہ میری طرف آہستہ آہستہ آتا ہے تو میں اُس کی طرف دوڑ کر جاتا ہوں۔” (بخاری ومسلم )📖

📌8) فرائض پر دوام اور نفلوں کا اہتمام :✒ حدیث قدسی : رسول اللہ ﷺنے فرمایا ہے کہ اللہ تعالی فرامتے ہیں:”بندہ میرا قرب جن اعمال سے حاصل کرتا ہے ان میں سب سے زیادہ محبوب مجھ کو وہ اعمال ہیں جن کو میں اس پر فرض کیا ہے۔ میرا بندہ برابر نفلوںکے ذریعے مجھ سے قریب ہوتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ میرا محبوب بن جاتا ہے۔ اور جب وہ میرا محبوب بن جاتا ہے تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور میں اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے پکڑتا ہے اور اس کا پیر بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتاہے۔”(بخاری)📖📌9) نماز تہجد کا اہتمام :ابو امام باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:ــ “اے لوگو!تم لوگ تہجد کی نماز کو اپنے اوپر لازم کر لو، اس لئے کہ تم سے پہلے جو اللہ کے بندے گزرے ہیں ان کا یہی طریقہ رہا ہے اور یہ تمہارے رَب سے قریب کرنے والی، چھوٹے گناہوں کو مٹانے والی اور بڑے گناہوں سے روکنے والی ہے۔” (ترمذی)📖📌10)

اللہ کا ذکر کرنا :✒ حدیث قدسی : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:”جب میرا بندہ مجھے یاد کرت اہے اور میری یاد میں جب اس کے دونوں ہونٹ ہلتے ہیں تو اس وقت میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔”(بخاری)📖📌11) اللہ کے گھروں (مسجدوں ، مدرسوں )کو آباد کرنا :انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرإ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: “اللہ کے گھروں کو آباد کرنے والے اور ان کی خدمت کرنے والے اللہ کے دوست اور محبوب ہیں۔”(طبرانی)📖📌12) اللہ کے لئے آپس میں محبت کرنا :ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “قیامت کے دن اللہ تعالی ارشاد فرمائے گا، میری تعظیم کی وجہ سے آپس میں محبت رکھنے والے کون ہیں؟آج میں ان کو اپنے سائے میں جگہ دوں گا جبکہ میرے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔”صحیح مُسلم/حدیث6713/کتاب البر والصلۃ و الادب/باب12،📚📌 اللہ کے محبوب :عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”الہ تعالی نے جس طرح تم انسانوں میں روزی تقسیم فرمائی ہے اسی طرح اخلاق بھی تقسیم فرما دیئے ہیں۔

اللہ دنیا توسب کو دیتا ہے، اُن لوگوں کو بھی جنہیں محبوب رکھتا ہے اور انہیں بھی جن کو وہ پسند نہیں کرتا۔ لیکن دین پر چلنے کی توفیق صرف ان کو دیتا ہے جن سے اس کو محبت ہوتی ہے۔ تو محبت کو اس نے دین بخشایوں سمجھو وہ اللہ کو محبوب ہیں۔ “(مسند احمد)📖اللھم ارزقنی حبک وحب ینفعنی حبہ عندک، اللھم مارزقنی ، مما احب فاجعلہ قوۃ لی فیما تُحبہ اللھم ماویت عنی مما احب فاجعلہ فراغالی فیما تحب (ترمذی)🌹📓اے اللہ ! مجھے اپنی محبت عطا کر اور ہر اُس شخص کی محبت جو مجھے تیرے نزدیک ہونے میں فائدہ دے، اے اللہ! جو کچھ تُو نے مجھے عطا کیا ہے جس سے میں محبت کرتا ہوں تُو اس کو ان کاموں کا سبب بنا دے جن سے تو محبت کرتا ہے، اے اللہ!جو کچھ تُونے مجھ سے لے لیا جس سے میں محبت کرتا ہوں تُو اس کو میرے لیے فرغت کا باعث بنا دے ان کاموں کے لیے جن سے تو محبت کرتا ہے

اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے، ان سے محبت کرتا ہے اور آیندہ بھی محبت کرتا رہے گا۔ جب تک تم دائرۂ توبہ میں رہو گے، تب تک میرے دائرۂ محبوبیت میں رہو گے لیکن جو توبہ چھوڑ دے گا تو محبوبیت کے دائرہ سے اس کا خروج ہو جائے گا اس لیے ماضی میں جو غلطیاں کر چکے ان سے توبہ کر لو تو میرے محبوب ہوجاؤ گے لیکن آیندہ کے لیے اگر شیطان وسوسہ ڈالے کہ تم پھر یہ خطا کرو گےتو آیندہ کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں امید دلا دی کہ ہم ایسا صیغہ نازل کر رہے ہیں یعنی مضارع جس میں حال بھی ہے اور مستقبل بھی لہٰذا تم گھبرانا مت کہ اگر آیندہ بھی تم سے خطا ہو گی اور تم معافی مانگو گے تو ہم تمہاری توبہ کو قبول کریں گے اور دائرۂ محبوبیت سے تمہارا خروج نہیں ہونے دیں گے۔ ہم تمہاری خطاؤں کی معافی کے ذمہ دار اور کفیل ہیں کیوں کہ توبہ کرنے والوں سے ہم محبت کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ہم تم سے محبت کرتے ہیں اور آیندہ بھی محبت کرتے رہیں گے۔ وجہ یہ ہے کہ محبت میں سب کچھ ہے، کسی نعمت کا اس سے خروج نہیں ہے، ہر نعمت اس میں شامل ہے، اس میں رحمت بھی شامل ہے، مغفرت بھی شامل ہے، رزّاقیت بھی شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مُتَطَھِّرِیْنَ فرمایا یعنی جس طرح سے میں تو بہ کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہوں اسی طرح مُتَطَہِّرِیْنَ یعنی جو بہ تکلف گناہ سے بچتے ہیں، گناہ سے بچنے میں تکالیف اُٹھاتے ہیں، گناہ چھوڑنے کا دل پر غم برداشت کرتے ہیں، اپنی حرام خواہش کا خون کرنے کی مشقت جھیلتے ہیں ان کو بھی میں اپنا محبوب بنا لیتا ہوں تو مطلب یہ ہوا کہ گناہوں کی نجاستوں سے پاک رہنے میں تم کو تکلیف اُٹھانی پڑے، کلفت پیش آئے تو اس سے دریغ نہ کرنا۔ جی نہیں چاہتا گناہ سے بچنے کو، مگر تم میری راہ میں تکلیف اٹھا لو۔ مجھے خوش کرنے کے لیے تکلیف اُٹھاؤ گے تو یہ تکلیف راہِ مولیٰ میں داخل ہو گی۔

اب تم خود فیصلہ کر لو کہ کس کی راہ میں تکلیف اٹھانے میں فائدہ ہے۔ تمہارے مزاج میں اگرچہ گناہ پسندی ہے لیکن ان سے بچنے میں تمہاری روح کو تو سکون ملتا ہے -گناہ چھوڑنے میں جو تکلیف ہو گی تمہارے نفس کو ہو گی، روح کو خوشی ہو گی اور تم روح سے زندہ ہو، نفس سے زندہ نہیں ہو۔ تمہاری گناہ کی جفا کاریاں اور بیوفائیاں سب روح کی بدولت ہیں۔ اگر میں تمہاری روح قبض کرلوں تو تم کوئی گناہ نہیں کر سکتے۔ تمہارا سببِ حیات روح ہے تو تم سببِ حیات کی کیوں فکر نہیں کرتے۔ جب تم اللہ کی نا فرمانی سے بچو گے تو کتنی حیات تم پر برس جائے گی۔ رحمۃ للعالمین صلی ﷲ علیہ وسلم کی رحمت نے جب دیکھا کہ ﷲ تعالیٰ تَوَّابِیْنَ کو اور مُتَطَہِّرِیْنَ کو محبوب رکھتے ہیں تو اُمّت کو یہ دعا سکھا دی کہ اے ﷲ! مجھے تو بہ کرنے والوں میں اور بہ تکلف گناہوں کو چھوڑنے کی تکلیف اُٹھانے والوں میں اور غیر ﷲ کی محبت سے دل کو پاک کرنے کی مشقت جھیلنے والوں میں بنا دیجیے آمین

Add Comment

Click here to post a comment