Home » دعائیں کب قبول ہوتی ہیں ؟
اسلامیات

دعائیں کب قبول ہوتی ہیں ؟

دعاؤں کی قبولیت کے اوقات سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے مشہور حدیث ہے جس میں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ اگر میں لیلۃ القدر پالوں تو کیا دعا مانگو ؟ تو آپ نے فرمایا کہ ” الھم انک عفو کریم تحب العفو فاعف عنی

اے اللہ تو معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے معاف کرنے کو پسند کرتا ہے مجھے بھی معاف کر دے والدین کو راضی کر کے ان سے دعاؤں کی درخواست کرنا کیونکہ والدین کی دعا اولاد کے حق میں قبول ہوتی ہیں آدھی رات کے وقت اور فرض نمازوں کے بعد دعا زیادہ قبول ہوتی ہے فرائض کے بعد نوافل کی کثرت سے ادا کرنے اور نوافل میں دعائیں مانگنے سے دعائیں قبول ہو جب انسان کا آدمی بیٹھے تو شریف کے بعد اور سلام پھیرنے سے پہلے جو دعا مانگی جائے وہ دعا قبول ہوتی ہے اذان اور اقامت کے درمیان جو دعا کی جائے وہ قبول ہوتی ہے اس لیے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اذان اور اقامت کے درمیان میں وقفہ میں دعا کو رد نہیں کیا جاتا ۔

جب رات کا دو تہائی حصہ گزر جائے آدھی رات کے بعد اگر کوئی شخص اٹھتا ہے اور اپنے رب سے دعا مانگتا ہے تو اسے قبول کیا جاتا ہے اذان کے دوران کی دعا قبول ہوتی ہے جو میں کے روز عصر کی نماز کے بعد مغرب سے پہلے ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اس میں جو بھی دعا مانگی جائے اللہ رب العزت اسے قبول فرماتے ہیں زمزم کا پانی پیتے وقت دعا قبول ہوتی ہے عرفات کے دن اللہ تعالی اپنے بندوں کی دعائیں قبول فرماتے ہیں رمضان المبارک کے مہینے میں دعائیں قبول ہوتی ہیں لہذا پہلے دس دن بڑے مبارک ہوتے ہیں ان دنوں میں بھی بطور خاص دعائیں قبول ہوتی ہیں ان تمام دعاؤں کی قبولیت کی ایک شرط ہے اور وہ لازمی شرط ہے وہ یہ ہے کہ آدمی لقمہ حلال کھائےاور حرام سے بچے۔