Site icon نوک قلم

تحفۂ رمضان

رمضان کیا ہے؟رمضان کا مہینہ قمری مہینوں میں نواں مہینہ ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ رمضان رمض سے مشتق ہے، اور رمض کے لغوی معنی جلادینے کے ہیں۔ چونکہ اس مہینہ میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو گناہوں سے پاک وصاف کر دیتا ہے، اس لئے اس کا نام رمضان ہوا۔

صوم (روزہ )کے لفظی معنی امساک یعنی رکنے اور بچنے کے ہیں، اور اصطلاحِ شرع میں” طلوع صبح صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک روزہ کی نیت کے ساتھ کھانے پینے اور عورت سے مباشرت کرنے سے رکنے کا نام صوم ہے” ۔ اور نیت اصل میں دل کے ارادہ کا نام ہے ، لہذا زبان سے روزہ کی نیت کرنا ضروری نہیں ہے ، البتہ کرلیں تو بہتر ہے۔رمضان اور روزہ :اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں ارشاد فرمایا ہے : اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا، تاکہ تم (روزہ کی بدولت رفتہ رفتہ )متقی بن جاؤ۔ (سورۂ البقرہ ۱۸۳)اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے روزہ کی فرضیت کا حکم مسلمانوں کو ایک مثال سے دیا ہے کہ روزہ کی فرضیت صرف تمہارے ساتھ خاص نہیں بلکہ پچھلی امتوں پر بھی فرض کیا گیا تھا، اس سے روزہ کی خاص اہمیت معلوم ہوئی۔ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ میں اشارہ ہے کہ تقوی کی قوت حاصل کرنے میں روزہ کا بڑا اثرہے . کیونکہ روزہ سے اپنی خواہشات کو قابو میں رکھنے کا ایک ملکہ پیدا ہوتا ہے، وہی تقوی کی بنیاد ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

: انسان کے ہر (نیک) عمل کا بدلہ ۱۰ گنا سے لے کر ۷۰۰ گنا تک دیا جاتا ہے، لیکن روزہ کا بدلہ میں خود ہی عطا کروں گا کیونکہ وہ میرے لئے ہے ۔ دوسری روایت کے مطابق میں خود ہی روزہ کا بدلہ ہوں۔ انسان کھانے پینے اور جنسی شہوت سے صرف میری وجہ سے رکا رہتا ہے۔ روزہ دار کو دو خوشیاں ملتی ہیں، ایک (وقتی ) افطار کے وقت اور دوسری (دائمی) اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے وقت۔ (بخاری ومسلم) غرضیکہ اس حدیث قدسی سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ روزہ کا بدلہ خود ہی عطا فرمائے گا، اور اتنا بدلہ دے گا کہ اس کو شمار بھی نہیں کیا جاسکتا ۔رمضان کی اہمیت اور اس کی فضیلت:* حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ رمضان شریف کے متعلق میری امت کو خاص طور پر پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو پہلی امتوں کو نہیں ملیں:روزہ دار کے منہ کی بو (جو بھوک کی وجہ سے پیدا ہوجاتی ہے) اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ ان کے لئے دریا کی مچھلیاں تک دعائے مغفرت کرتی ہیں اور افطار کے وقت تک کرتی رہتی ہیں۔جنت ہر روز ان کے لئے سجائی جاتی ہے۔اس ماہ مبارک میں سرکش شیاطین قید کردئے جاتے ہیں۔رمضان کی آخری رات میں روزہ داروں کی مغفرت کردی جاتی ہے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ کیا یہ شبِ مغفرت شبِ قدر ہی تو نہیں ہے؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا نہیں بلکہ دستور یہ ہے کہ مزدور کا کام ختم ہوتے ہی اسے مزدوری دے دی جاتی ہے۔ (مسند احمد، بزاز ، بیہقی، ابن حبان)* حضرت ابو سعید الخدریؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا کہ رمضان کے ہر شب وروز میں اللہ کے یہاں سے جہنم کے قیدی چھوڑے جاتے ہیں اور ہر مسلمان کی ہر شب وروز میں ایک دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔ (بزاز، الترغیب والترہیب)* حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا کہ تین آدمیوں کی دعا رد نہیں ہوتی، ایک روزہ دار کی افطار کے وقت، دوسرے عادل بادشاہ کی اور تیسرے مظلوم کی ۔ (مسند احمد، ترمذی ، صحیح ابن حبان) رمضان اور قرآن کریم :قرآن کریم کو رمضان المبارک سے خاص تعلق اور گہری خصوصیت حاصل ہے۔ چنانچہ رمضان المبارک میں اس کا نازل ہونا ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کا رمضان شریف میں تلاوتِ قرآن کا شغل نسبتاً زیادہ رکھنا، حضرت جبرئیل علیہ السلام کا رمضان شریف میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کو قرآن کریم کا دور کرانا، تراویح میں ختم قرآن کا مسنون ہونا،

صحابہ کرام اور بزرگان دین کا رمضان میں تلاوت کا خاص اہتمام کرنا، یہ سب امور اس خصوصیت کو بتلاتے ہیں۔ لہذا اس ماہ میں کثرت سے تلاوتِ قرآن میں مشغول رہنا چاہئے۔تلاوت قرآن پاک کے ساتھ قرآن کریم کو علماء کرام کی صحبت میں رہ کر سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے خواہ روزانہ ایک ہی آیت کیوں نہ ہو،تاکہ اللہ تعالیٰ کے احکام سے واقفیت کے بعد اس پر عمل کرنا اور اس کو دوسروں تک پہنچانا ہمارے لئے آسان ہو۔ رمضان اور تراویح:* حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا : جو شخص رمضان (کی راتوں) میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے (عبادت کے لئے) کھڑا ہو ، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ (بخاری ومسلم)نوٹ: تراویح کی تعدادِ رکعات میں علماء کرام کا اختلاف ہے۔ ۲۰ یا ۸ رکعات۔ البتہ یہ بات سبھی تسلیم کرتے ہیں کہ حرمین (مسجد حرام اور مسجد نبوی) میں حضرت عمر فاروق ؓ کے زمانے سے آج تک یعنی ۱۴۰۰ سال سے ۲۰ رکعت تراویح سے کم نہیں پڑھی گئیں، جیسا کہ مدینہ منورہ کے سابق قاضی اور مسجد نبوی کے مدرس شیخ عطیہ محمد سالم ؒ نے اپنی کتاب (التراویح اکثر من الف عام فی المسجد النبوی) میں تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے۔۔

نیز قرآن وحدیث کی روشنی میں امت مسلمہ متفق ہے کہ رمضان کی راتوں میں زیادہ سے زیادہ عبادت کرنی چاہئے، لہذا ۲۰ رکعت ہی کا اہتمام کریں تو زیادہ بہتر ہے۔ سحری:رسول اللہ ا نے فرمایا : خود حق تعالیٰ شانہ اور اس کے فرشتے سحری کھانے والوں پر رحمت نازل فرماتے ہیں ۔ (طبرانی، صحیح ابن حبان) متعدد احادیث میں رات کے آخری وقت میں سحری کھانے کی فضیلت وارد ہوئی ہے۔ ایک دو لقمے کھانے سے بھی سحری کی فضیلت حاصل ہوجائے گی، ان شاء اللہ۔افطار کے لئے کھجور یا پانی بہتر ہے :* حضرت سلمان بن عامرؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو وہ کھجور سے روزہ افطار کرے، کیونکہ اسمیں برکت ہے ۔ اگر کھجور نہ پائے تو پھر پانی ہی سے افطار کرے، اس لئے کہ پانی نہایت پاکیزہ چیز ہے۔ (ترمذی، ابن ماجہ)* حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  مغرب کی نماز سے پہلے چند تر کھجوروں سے روزہ افطار فرماتے تھے ، اگر تر کھجوریں بروقت موجود نہ ہوتیں تو خشک کھجوروں سے افطار فرماتے تھے اور اگر خشک کھجور بھی نہ ہوتی تو چندگھونٹ پانی پی لیتے تھے۔ (ابوداؤد)

Exit mobile version