Home » اللہ کا خوف رکھنے والے گناہگار کے ساتھ اللہ نے کیا کیا ؟
اسلامیات

اللہ کا خوف رکھنے والے گناہگار کے ساتھ اللہ نے کیا کیا ؟

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر مسلمان کو معلوم ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس کس قدر سزا ہے تو کوئی بھی اُس کی جنت کی اُمید نہ رکھتا۔

اگر کافر کو معلوم ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس کس قدر رحمت ہے تو کوئی (کافر) بھی اُس کی جنت سے نا اُمید نہ ہوتا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص نے اپنی جان پر زیادتی کی (یعنی زندگی بھر گناہوں میں لت پت رہا)۔ جب اُس کی موت کا وقت آیا تو اُس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی جب میں مر جاؤں تو مجھے آگ میں جلا دینا، پھر مجھے راکھ کر کے ہوا اور سمندر میں منتشر کر دینا کیونکہ بخدا اگر میرے رب نے گرفت کی تو وہ مجھے اتنا عذاب دے گا کہ کوئی کسی کو اتنا عذاب نہیں دے سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اُس کے بیٹوں نے ایسا ہی کیا، اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا تو نے (اُس کے ذرّات میں سے) جو کچھ لیا ہے اُس کو واپس کر دے، وہ شخص (سلامت ہو کر) کھڑا ہو گیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تجھ کو اِس وصیت پر کس چیز نے برانگیختہ کیا تھا،

اُس شخص نے عرض کیا: اے رب! تیری خشیت نے یا اُس نے کہا: اے رب تیرے خوف نے۔ پس اِس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا۔حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کی جب موت کا وقت آیا اور وہ اپنی زندگی سے مایوس ہوگیا تو اُس نے اپنے اہل و عیال کو وصیت کی: جب میں مر جاؤں تو میرے لئے بہت سا ایندھن اکٹھا کر کے آگ جلانا (اور مجھے جلا دینا)، جب آگ میرے گوشت کو جلا کر ہڈیوں تک پہنچ جائے تو میرے جسم کو لے کر پیس ڈالنا اور کسی گرم ترین دن میں یا جس روز تیز ہوا چلے تو میری راکھ کو دریا میں ڈال دینا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کے اجزا کو جمع کیا اور فرمایا: تو نے ایسا کیوں کیا؟ اُس نے جواب دیا: محض تجھ سے ڈرتے ہوئے، پس اﷲ تعالیٰ نے اُس کی مغفرت فرما دی۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین