Home » کس عمل کی وجہ سے نیک آدمی کو اللہ جنت پر روک لیا جاتا ہے ؟
اسلامیات

کس عمل کی وجہ سے نیک آدمی کو اللہ جنت پر روک لیا جاتا ہے ؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی سے اس نیت سے قرض لے کہ وہ اس کو ادا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے قرض کی ادائیگی کے لئے آسانی پیدا کرتا ہے،  اورجو حضرات قرض کی ادائیگی پر قدرت رکھنے کے باوجود قرض کی ادائیگی میں کوتاہی کرتے ہیں، ان کے لئے نبی اکرم ا کے ارشادات میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،

حتی کہ آپ اایسے شخص کی نمازِ جنازہ پڑھانے سے منع فرمادیتے تھے جس پر قرض ہو یہاں تک کہ اس کے قرض کو ادا کردیا جائے۔ ان احادیث میں سے بعض احادیث مندرجہ ذیل ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: مسلمان کی جان اپنے قرض کی وجہ سے معلق رہتی ہے (یعنی جنت کے دخول سے روک دی جاتی ہے) یہاں تک کہ اس کے قرض کی ادائیگی کردی جائے۔ (ترمذی، مسند احمد، ابن ماجہ)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک روز فجر کی نماز پڑھانے کے بعد ارشاد فرمایا: تمہارا ایک ساتھی قرض کی ادائیگی نہ کرنے کی وجہ سے جنت کے دروازہ پر روک دیا گیاہے۔ اگر تم چاہو تو اس کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی طرف جانے دو ، اور چاہو تو اسے (اس کے قرض کی ادائیگی کرکے) عذاب سے بچالو (رواہ الحاکم ، صحیح علی شرط الشیخین۔۔ الترغیب والترھیب)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ شہید کے تمام گناہوں کو معاف کردیتا ہے ، مگر کسی کا قرضہ معاف نہیں کرتا۔