Home » قیامت کے دن ہمارے قدم ہمارے پروردگار کے سامنے سے ہٹ نہیں سکتے جب تک کہ
اسلامیات

قیامت کے دن ہمارے قدم ہمارے پروردگار کے سامنے سے ہٹ نہیں سکتے جب تک کہ

اللہ تعالیٰ نے مال ودولت کو انسان کی ایسی دنیاوی ضرورت بنائی ہے کہ عموماً اس کے بغیر انسان کی زندگی دوبھر رہتی ہے۔ مال ودولت کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو جائز کوششیں کرنے کا مکلف تو بنایا ہے .

مگرانسان کی جد وجہد اور دوڑ دھوپ کے باوجود اس کی عطا اللہ تعالیٰ نے اپنے اختیار میں رکھی ہے، چاہے تو وہ کسی کے رزق میں کشادگی کردے اور چاہے تو کسی کے رزق میں تمام دنیاوی اسباب کے باوجود تنگی پیدا کردے۔مال ودولت کے حصول کے لئے انسان کو خالقِ کائنات نے یوں ہی آزاد نہیں چھوڑ دیا کہ جیسے چاہو کماؤ ، کھاؤ۔ بلکہ اس کے اصول وضوابط بنائے تاکہ اس دنیاوی زندگی کا نظام بھی صحیح چل سکے اور اس کے مطابق آخرت میں جزا وسزا کا فیصلہ ہوسکے۔ انہیں اصول وضوابط کو شریعت کہا جاتا ہے جسمیں انسان کو یہ رہنمائی بھی دی جاتی ہے کہ مال کس طرح کمایا جائے اور کہاں کہاں خرچ کیا جائے۔اپنے اور بال وبچوں کے اخراجات کے بعد شرائط پائے جانے پر مال ودولت میں زکوٰۃ کی ادائیگی فرض کی گئی ہے۔

اسلام نے زکوٰۃ کے علاوہ بھی مختلف شکلوں سے محتاج لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی ترغیب دی ہے تاکہ جس معاشرہ میں ہم رہ رہے ہیں اس میں ایک دوسرے کے رنج وغم میں شریک ہو سکیں۔ انہیں شکلوں میں سے ایک شکل قرض حسن بھی ہے کہ ہم غریبوں اور محتاجوں کی مدد کریں، یتیموں اور بیواؤں کی کفالت کریں، مقروضین کے قرضوں کی ادائیگی کریں اور آپس میں ایک دوسرے کو ضرورت کے وقت قرض دیں، تاکہ اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی ہمارے مال میں اضافہ کرے اور آخرت میں بھی اس کا اجر وثواب دے۔عزیز بھائیو! اس فانی دنیاوی زندگی کا اصل مطلوب ومقصود اخروی زندگی میں کامیابی حاصل کرنا ہے،

جہاں ہمیں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے، موت کو بھی وہاں موت آجائیگی ، اور جہاں کی کامیابی ہمیشہ کی کامیابی وکامرانی ہے۔ لہذا ہم :اللہ تعالیٰ کے احکامات نبی اکرم اکے طریقہ پر بجا لائیں۔صرف حلال رزق پر اکتفاء کریں، خواہ بظاہر کم ہی کیوں نہ ہو۔حتی الامکان مشتبہ چیزوں سے بچیں۔زکوٰۃ کے واجب ہونے کی صورت میں زکوٰۃ کی ادائیگی کریں۔اپنے اور بال وبچوں کے اخراجات کے ساتھ وقتاً فوقتاً قرض حسن اور مختلف صدقات کے ذریعہ محتاج لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنےکی کوشش کریں۔اس بات کا ہمیشہ خیال رکھیں کہ کل قیامت کے دن ہمارے قدم ہمارے پروردگار کے سامنے سے ہٹ نہیں سکتے جب تک کہ ہم مال کےمتعلق سوالات کا جواب نہ دے دیں کہ کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا۔