Home » اللہ تعالیٰ کس کو جنت کے سبز لباس پہنائے گا۔
اسلامیات

اللہ تعالیٰ کس کو جنت کے سبز لباس پہنائے گا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کو ضرورت کے وقت کپڑا پہنائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے سبز لباس پہنائے گا۔ جوشخص کسی مسلمان کو بھوک کی حالت میں کچھ کھلائے گا،

اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے پھل کھلائے گا۔ جو شخص کسی مسلمان کو پیاس کی حالت میں پانی پلائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو جنت کی ایسی شراب پلائے گا، جس پر مہر لگی ہوئی ہوگی۔ ( ابوداؤد، ترمذی)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: تمہیں اپنے کمزوروں کے طفیل سے رزق دیا جاتا ہے اور تمہاری مدد کی جاتی ہے۔ (بخاری)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: اگر تمہارا خادم تمہارے لئے کھانا بناکر لائے تو اسے اپنے ساتھ بٹھا کر کھلاؤ ا اس کھانے میں سے کچھ دیدو، اس لئے کہ آگ کی تپش اور دھوئیں کی تکلیف تو اس نے برداشت کی ہے۔ (ابن ماجہ) اب تھوڑی وضاحت عام قرض کے متعلق بھی تحریر کررہا ہوں:اگر کوئی شخص کسی خاص ضرورت کی وجہ سے قرض مانگتا ہے تو قرض دے کر اس کی مدد کرنا باعث اجروثواب ہے، جیساکہ قرآن وحدیث کی روشنی میں علماء کرام نے تحریر فرمایا ہے کہ ضرورت کے وقت قرض مانگنا جائز ہے اور اگر کوئی شخص قرض کا طالب ہو تو اس کو قرض دینا مستحب ہے،

کیونکہ شریعت اسلامیہ نے قرض دے کر کسی کی مدد کرنے میں دنیا وآخرت کے بہترین بدلہ کی ترغیب دی ہے ، لیکن قرض دینے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے فائدہ کے لئے کوئی شرط نہ لگائے، مثلاً میں تمہیں قرض دیتا ہوں بشرطیکہ تم میرا فلاں کام کردو، البتہ قرض لیتے اور دیتے وقت ان احکام کی پابندی کریں جو سورۂ البقرہ کی آیت ۲۸۲ میں اللہ تعالیٰ نے بیان کئے ہیں، یہ آیت قرآن کی سب سے لمبی آیت ہے، اور اس میں قرض کے احکامات ذکر کئے گئے ہیں۔ قرآن وحدیث میں متعدد جگہوں پر محتاج لوگوں کی ضرورت پوری کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔بھلائی کے کام کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ (سورہ الحج ۷۷)اچھے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ (سورہ المائدہ ۲) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے کسی مسلمان کی کوئی بھی دنیاوی پریشانی دور کی ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پریشانیوں کو دور فرمائے گا۔

جس نے کسی پریشان حال آدمی کے لئے آسانی کا سامان فراہم کیا، اللہ تعالیٰ اس کے لئے دنیاو آخرت میں سہولت کا فیصلہ فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس وقت تک بندہ کی مدد کرتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہے۔ (مسلم) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: اگر کوئی مسلمان کسی مسلمان کو دو مرتبہ قرضہ دیتا ہے تو ایک بار صدقہ ہوتا ہے۔ (نسائی ، ابن ماجہ)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: شب معراج میں میں نے جنت کے دروازہ پر صدقہ کا بدلہ ۱۰ گنا اور قرضہ دینے کا بدلہ ۱۸ گنا لکھا ہوا دیکھا۔ میں نے کہا اے جبرئیل! قرض صدقہ سے بڑھ کر کیوں؟ جبرئیل علیہ السلام نے فرمایا کہ سائل مانگتا ہے جبکہ اس کے پاس کچھ مال موجود بھی ہو، اور قرضدار ضرورت کے وقت ہی سوال کرتا ہے۔ ( ابن ماجہ)حضرت ابودرداء ؓ فرماتے ہیں کہ میں کسی مسلمان کو ۲ دینار قرض دوں، یہ میرے نزدیک صدقہ کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔ ۔۔ (کیونکہ قرض کی رقم واپس آنے کے بعد اسے دوبارہ صدقہ کیا جاسکتا ہے یا اسے بطور قرض کسی کو دیا جاسکتا ہے، نیز اس میں واقعی محتاج کی ضرورت پوری ہوتی ہے)۔ (السنن الکبری للبیہقی)

Add Comment

Click here to post a comment