حماس کے بانی رہنما شیخ احمد یاسین رحمہ اللہ کے انٹرویو سے اقتباس۔'




احمد منصور: 1948ء میں اسرائیل کا قیام ہوا اور اب اسے 50 سال ہو چکے ہیں ، آپ اس کے مستقبل کو کیسے دیکھتے ہیں؟
شیخ احمد یاسین: میں سمجھتا ہوں اسرائیل ظلم و غصب پر قائم ہوا، اور جو بھی چیز ظلم و غصب پر قائم ہوتی ہے اس نے بالآخر برباد ہو کر رہنا ہے .
احمد منصور: اور اگر اس کے پاس اتنی وقت موجود ہو کہ وہ باقی رہ سکے پھر بھی؟
شیخ احمد یاسین: قوت اور طاقت ہمیشہ رہنے والی نہیں، اس دنیا میں ہمیشہ کسی کے پاس بھی طاقت نہیں رہی۔ بچہ شروع میں چھوٹا ہوتا ہے، پھر لڑکپن، جوانی، ادھیڑ عمری۔۔۔ بس پھر بوڑھا ہو جاتا ہے! یہی معاملہ ممالک اور سلطنتوں کا ہے، ان کی بھی عمر ہوتی ہے،بچپن سے آگے اور آگےسے آگے۔ آخر ایک دن ختم !
احمد منصور:اسرائیل اس وقت کس مرحلے میں ہے؟ شیخ احمد یاسین: میرے مطابق اسرائیل ان شاء اللہ اگلی صدی کے ربع اول میں خاتمے کے مراحل میں ہو گا، اور زیادہ صراحت کے ساتھ کہیں تو 2027ء تک اسرائیل موجود نہیں ہو گا۔ ( یہ 1999ء کا انٹرویو ہے!)
احمد منصور: یہی تاریخ کیوں؟ شیخ احمد یاسین: کیوں کہ میرا ایمان قرآن پر ہے اور قران ہمیں بتاتا ہے کہ 40 سال میں نئی نسل سامنے آ جاتی ہے۔ پہلے 40 سال میں ہم محض ذلت و رسوائی میں تھے، دوسرے 40 سال میں ہم انتفاضہ،بیداری،مقابلہ، قتال اوربموں کے دور میں ہیں، تیسرے 40 ویں میں ان شاء اللہ استبداد کا خاتمہ ہو جائے گا ۔احمد منصور:کیسے اندازہ لگایا جا سکتا؟ ۔۔۔۔ شیخ احمد یاسین : یہ قرآنی راہنمائی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔ احمد منصور: قرانی راہنمائی؟
شیخ احمد یاسین: دیکھیں ہمارے رب نے بنی اسرائیل پر وادی سیناء میں 40 سال تک کیوں پابندی لگائی؟تاکہ فساد زدہ مریض نسل تبدیل ہو جائے اور قتال کرنے والی نسل آ جائے۔ ہماری پہلی نسل بھی ایسی رہی، اس کے بعد پتھر اٹھانے اور بم چلانے والی نسل سامنے آئی اور اب اس کے بعد آنے والی نسل آزادی کی نسل ہو گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔ احمد منصور: شیخ احمد یاسین ! آپ مستقبل کو کیسے دیکھتے ہیں؟
شیخ احمد یاسین: ہمارا راستہ دشوار ہے اور قربانی و صبر چاہتا ہے لیکن ان شاء اللہ مستقبل ہمارا ہے جو ہر صورت آنے والا ہے۔یہ اللہ کا وعدہ ہے اور وہ کبھی بھی اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔
احمد منصور: عوام پر چھائی ہوئی مایوسی کے باوجود بھی آپ سمجھتے ہیں کہ ایسا ہی ہو گا؟
شیخ احمد یاسین: جو لوگ قافلے کے راہنما نہیں ان کی مایوسی کی اہمیت نہیں ہوتی۔ اگر قیادت مایوس نہ ہو اور راستے پر پُرعزم رہے تو راستہ چلنے والوں کے لیے ہمیشہ کھلا ہوتا ہے۔ میں نے جو قرآن سے راہنمائی لی وہ مدینہ میں نازل ہونے والی اس آیت سے ہے: (ما ظننتم ان یخرجوا) “ان(مسلمانوں) کا خیال تھا کہ کفار (اپنے قلعوں سے) سے نہیں نکلیں گے۔” یعنی مسلمان یہ گمان کرتے تھے کہ وہ کفار پر قابو پانے کی طاقت نہیں رکھتے وظنوا انھم مانعتھم حصونھم من اللہ”اور وہ (کفار)گمان کرتے تھے کہ ان کے قلعے اللہ کو ان تک آنے سے روک دیں گے۔” آج بھی صورت حال ایسی ہی ہے۔ظالم ریاستیں مسلمانوں پر حملہ آور ہیں ۔
یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ مسلمان اقصیٰ کو آزاد کروانے کی قدرت رکھتے ہیں لیکن مسلمان اپنے حال،مستقبل اور طاقت و امکانات کے بارے میں یقین سے خالی ہیں! دوسری طرف کفار کو مکمل یقین ہے کہ دنیا میں سب سے بڑھ کر اسلحہ ہمارے پاس ہے ایسے میں کون ہم پر فتح پائے گا؟انہیں اپنی طاقت کا پورا یقین ہے اور ہم اپنی کمزوری سے ڈرتے ہیں ۔۔۔ لیکن اللہ کا ارادہ غالب ہو کر رہنے والا ہے !
احمد منصور: آخر میں یہ فرمائیں کہ آپ زندگی کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں اور کون سے اہداف ہی جن کی آپ کو اپنی زندگی میں پورے ہونے کی تمنا ہے؟
شیخ احمد یاسین: واللہ آپ خوب جانتے ہیں کہ میں ایک ایسا انسان ہوں جو اپنی زندگی جی چکا ہے۔اِس بندے کی صرف ایک تمنا ہے!صرف ایک خواہش کہ اللہ اِس سے راضی ہو جائے۔ اُس مالک کی رضا اُس کی اطاعت میں مضمر ہے اوراُس کے کلمے کی سربلندی اور زمین کو دشمنانِ خدا کے فساد سے پاک کرنے کے لیے جہاد اُس کی اطاعت ہے!
چنانچہ ہدف یہ ہوا کہ مسلم سرزمین قبضے سے پاک ہو جائے اور اس پر اسلامی نظام قائم ہو جائے۔ یہی وہ تمنا ہے جس کے لیے میں کوشاں ہوں اور میری آرزو ہے کہ یہی جدوجہد کرتے ہوئے میں اللہ سے جا ملوں! اگر زندگی میں ہی ہدف حاصل ہو گیا تو یہ اس کا فضل و احسان ہو گا اور اگر اس سے پہلے موت آ گئی تو قافلہ سوئے منزل رواں دواں ہے اور۔۔۔منزل واضح ہے!
واللہ غالب علیٰ امرہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون

اپنا تبصرہ بھیجیں