Home » ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا- شہنیلہ بیلگم والا
اسلامیات

ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا- شہنیلہ بیلگم والا

آج جس ہستی پہ لکھ رہی ہوں ان کی شان بیان کرنے کی نہ تو میری اوقات ہے اور نہ میرے اندر وہ طاقت اور صلاحیت ہے کہ ان پہ کچھ لکھ سکوں. صرف جذبات ہیں جن کا اظہار چند ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں کرنا چاہتی ہوں. امی خدیجہ کی شان ہم کیا بیان کریں کہ ان کی شان تو میرے رب نے بیان کی، ان کی شان تو جبریل امین نے بیان کی اور ان کی شان تو سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بیان کی.

یہ تحریر میں روایتی طور پہ نہیں لکھنا چاہتی کہ امی کے والدین کون تھے اور کس طرح شادی ہوئی. اس تحریر میں صرف ان کے فضائل عرض کرنے کی کوشش کروں گی اور دوسرا میرا مطمع نظر یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور امی کی شادی شدہ زندگی سے آج کل کے میریڈ کپلز کو کیا سیکھنا چاہیے.میں نے اپنے اردگرد بہت کم پرفیکٹ میریجز دیکھی ہیں. میرے نزدیک شادی کا مطلب پیار و محبت سے زیادہ ذہنی ہم آہنگی ہے. وللہ مجھے دنیا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور امی خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے بڑھ کر پرفیکٹ میریج کسی کی نہیں لگتی. پرفیکٹ میریج میں شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے سے زیادہ کسی پہ بھروسہ نہیں ہوتا. پرفیکٹ میریج میں شوہر اور بیوی اپنی ہر پریشانی اور ہر خوشی صرف اپنے جیون ساتھی سے شئیر کرتے ہیں.دونوں کو یہ یقین ہوتا ہے کہ چاہے ساری دنیا میرے خلاف ہوجائے، ایک ہستی ہے جو صرف میرا ساتھ دے گی.جب جبریل امین وحی لے کر آئے تو سرکار کہیں نہیں گئے. سیدھا اپنی محبوب بیوی کے پاس تشریف لے گئے. سرکار کو یقین تھا کہ وہاں سے جو solace ملے گا وہ کہیں اور سے نہیں مل سکتا. اور امی نہ صرف سرکار کی امیدوں پہ پوری اتریں بلکہ ہر مشکل وقت میں ہر طرح سے ساتھ دیا. چاہے وہ تسلی ہو، دلاسہ ہو یا مالی طور پہ اپنے رفیقِ حیات کو بے فکر کرنا ہو کہ آپ دین کا کام کیجیے، میرا سارا مال و دولت آپ اور دینِ اسلام کے لیے وقف ہے.

یہ ہم مسلمانوں پہ امی کا احسانِ عظیم ہے. امی نے نہ صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین دلایا بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے رشتہ داروں کو اس بات کا گواہ بھی بنا دیا تاکہ کوئی امی کے جیون ساتھی پہ انگلی نہ اٹھا سکے کبھی انہیں اس کا طعنہ نہ دے سکے. اس کو کہتے ہیں شوہر کی عزت اور وقار کو اپنے سر کا تاج بنانا.امی کی شان یہ ہے کہ جبریل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہیں کہ آپ کی بیوی جو آپ کے لیے کھانا لے کر آرہی ہیں انہیں اللہ سلام کہتا ہے اور جبریل امین سلام کہتا ہے. اس جملے کو لکھتے میرا دل کانپ رہا ہے. یااللہ، یا میرے رب تو نے کیا فضیلت عطا فرمائی ہے.آقا فرماتے ہیں کہ رب العزت نے امی خدیجہ کے لیے جنت میں موتیوں کا محل تعمیر کر رکھا ہے. سرکار کہتے ہیں کہ پہلے زمانے میں تمام عورتوں میں فضیلت عطا کی گئی مریم علیہ السلام یعنی حضرت عیسٰی علیہ السلام کی والدہ کو اور اس زمانے میں تمام عورتوں میں فضیلت عطا کی گئی خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو.امی خدیجہ، آقا کے عقد میں چوبیس سال رہی ہیں. جس سال حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا وصال ہوا اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم “عام الحزن” یعنی غم کا سال کہا کرتے تھے. اللہ تعالیٰ نے اس مثالی جوڑے کو چھ اولادوں سے نوازا. زینب، رقیہ، فاطمہ، ام کلثوم، قاسم اور عبداللہ. امی کی ایک اور فضیلت یہ بھی ہے کہ اس زمانے میں جب متعدد بیویاں رکھنا عربوں کا عام کلچر تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امی خدیجہ کی زندگی میں دوسری شادی نہیں کی.

فضیلت یہاں ہی ختم نہیں ہوتی. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور امی کی تمام بیٹیوں کے شوہروں نے بھی ان کی زندگی میں دوسری شادی نہیں کی.حضرت زینب کے شوہر ابو العاص بن ربیعہ نے تو جو حضرت خدیجہ کی بہن کے بیٹے تھے، حضرت زینب کے وصال کے بعد بھی کبھی دوسری شادی نہیں کی. حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی پہلی شادی حضرت رقیہ سے ہوئی، ان کی زندگی میں انہوں نے دوسری شادی نہیں کی. ان کے وصال کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سب سے چھوٹی بیٹی ام کلثوم سے ان کی شادی کی. اسی لیے حضرت عثمان ذوالنورین کہلائے. حضرت عثمان نے بھی ام کلثوم کی حیات میں دوسری شادی نہیں کی اور حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی حیات میں دوسری شادی نہیں کی. حضرت علی نے سیدہ فاطمہ کے وصال کے بعد دوسری شادی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی اور حضرت زینب کی بیٹی امامہ بنت ابو العاص سے کی جس کے لیے سیدہ فاطمہ وصیت فرما گئی تھیں.امی کے وصال کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ساری زندگی انہیں یاد کرتے رہے. امی عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ مجھے اتنا رشک کبھی اپنی زندہ سوکنوں پہ نہیں آیا جتنا حضرت خدیجہ پہ آتا تھا.

ایک بار امی خدیجہ کی بہن خولہ کچھ بات کر رہی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خولہ تمہاری آواز بالکل خدیجہ جیسی ہے. اگر کبھی جانور ذبح کرتے تو اس کا گوشت تحفتاً امی خدیجہ کی سہیلیوں کو بھیجتے. کیا اس سے پیاری کوئی داستانِ عشق ہوسکتی ہے. کیا اس سے پرفیکٹ کوئی کپل ہوسکتا ہے اور کیا اس سے بہترین مثال کسی بھی شادی شدہ جوڑے کے لیے ہوسکتی ہے. اللہ ہم سب کو ان کے نقش قدم پہ چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین