Home » ام المؤمنین حضرت جویریہ بنت حارث رضی اللہ تعالٰی عنہا – شہنیلہ بیلگم والا
اسلامیات

ام المؤمنین حضرت جویریہ بنت حارث رضی اللہ تعالٰی عنہا – شہنیلہ بیلگم والا

امی جویریہ کا تعلق قبیلہ خزاعہ کے خاندان بنی مصطلق سے تھا. ان کا قبولِ اسلام سے قبل نام برہ تھا. والد کا نام حارث بن ابی ضرار بن خبیب تھا جو بنی مصطلق کا سردار تھا. امی جویریہ کی پیدائش نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بعثت سے دو سال پہلے کی ہے. ان کی پہلی شادی مسافع بن صفوان سے ہوئی تھی جو بنی مصطلق کے ایک نامور سردار کا بیٹا تھا.

حارث بن ابی ضرار اور مسافع بن صفوان اسلام کے کٹر دشمن تھے. دونوں کو اسلام کا پھیلنا ایک آنکھ نہ بھاتا تھا. چنانچہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دشمنوں سے مل کر مدینہ پہ حملہ کرنے کی ٹھانی. ان کا ارادہ تھا کہ سب مل کر مدینہ پہ یلغار کر دیں. نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شخصیت کا ایک پہلو جس پہ بہت کم بات ہوتی ہے وہ ان کا جنگی حکمتِ عملی میں انتہائی سمجھدار اور زیرک ہونا ہے. سرکار جانتے تھے کہ وہ دشمنوں سے گھرے ہوئے ہیں. اس لیے امن کے دور میں بھی اپنے جاسوس مختلف علاقوں میں تعینات کر رکھے تھے جو انہیں پل پل کی خبر دیتے تھے. جب نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اطلاع ملی کہ بنی مصطلق مدینہ پہ یلغار کرنے والے ہیں تو انہوں نے اسلامی لشکر تیار کیا اور 2 شعبان 5 ہجری کو اسلامی لشکر بنی مصطلق کی سرکوبی کے لیے روانہ ہوا. اس لشکر میں ایک ہزار مجاہدین تھے. مہاجرین کا جھنڈا نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کو دیا اور انصار کا جھنڈا حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو عطا فرمایا. جب حارث بن ابی ضرار اور اس کے ساتھیوں کو اسلامی لشکر کی اطلاع ملی تو انہوں نے راہِ فرار اختیار کرلی. اس کے باوجود بنی مصطلق کے مردوں نے صف بندی کرلی. لیکن اسلامی لشکر نے ان کے قدم اکھاڑ دییے.

اس غزوہ میں بنی مصطلق کے دس لوگ مارے گئے جن میں مسافع بن صفوان بھی شامل تھا. مسلمانوں میں حضرت ہشام بن صباحہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جام شہادت نوش کیا. یہ غزوہ تاریخِ اسلام میں غزوہ بنی مصطلق یا مریسیع کے نام سے جانا جاتا ہے. اس غزوہ میں کافی مالِ غنیمت مسلمانوں کے حصے میں آیا. چھ سو مرد، عورتیں اور بچے اسیر ہوئے جن میں امی جویریہ بھی شامل تھیں. امی جویریہ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حصے میں آئیں. انہوں نے ثابت بن قیس سے درخواست کی کہ مجھے روپے لے کر آزاد کردو. میں سردار کی بیٹی ہوں، مجھے لونڈی بن کر رہنا منظور نہیں. ثابت راضی ہوگئے اور 19 اوقیہ سونے پہ کتابت ہوئی. امی جویریہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور مدد کی درخواست کی. نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے رقم ادا کر کے انہیں آزاد کردیا. جب امی جویریہ کے والد حارث بن ابی ضرار کو پتا چلا تو وہ رقم لے کر اپنی بیٹی کو آزاد کرانے آیا لیکن اس وقت تک نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم امی جویریہ کا دل جیت چکے تھے. امی مسلمان ہو چکی تھیں. انہوں نے اپنے والد کے ساتھ جانے سے انکار کردیا. سرکار دو عالم نے حارث سے اس کی بیٹی کا ہاتھ مانگا اور اس طرح برہ بنت حارث ام المؤمنین جویریہ بن گئیں.

کچھ روایات میں ہے کہ امی جویریہ کے مہر کے عوض نبی کریم نے ان کے قبیلے کے چالیس مردوں کو آزاد کردیا تھا. جب مسلمانوں کو پتا چلا کہ بنتِ حارث اب ام المؤمنین ہیں تو انہوں نے کہا کہ یہ رسول اکرم کی محبت کے منافی ہے ان کے سسرال والے غلام بنائے جائیں. امی جویریہ کے والد اور بھائیوں نے بھی اسلام قبول کرلیا. یہ نکاح اس قدر مبارک ثابت ہوا کہ امی عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کسی عورت کو جویریہ سے بڑھ کر اپنی قوم کے حق میں مبارک نہیں دیکھا. ان کے سبب بنی مصطلق کے تمام گھرانے آزاد کر دییے گئے.امی عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ جویریہ انتہائی شیریں سخن اور موزوں اندام تھیں. چہرے پہ اس قدر ملاحت تھی کہ جو بھی ملتا ان کے مزاج اور حسن و جمال کی بنا پر ان کا گرویدہ ہو جاتا. ایک تو اللہ تعالیٰ نے بے تحاشہ خوبیوں سے نوازا تھا اور پھر جب ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنگت ملی تو ان کا باطنی حسن نکھرتا چلا گیا. امی جویریہ بڑی زاہدہ، متقیہ، پیکرِ صبر و قناعت، عاجزی و انکساری، ایثار اور اخلاص میں یکتا تھیں. اپنا زیادہ تر وقت یادِ الہی میں گزارتیں اور اکثر روزہ رکھا کرتی تھیں. بہت خوبصورت قرآن پڑھا کرتیں.امی جویریہ سے سات احادیث مروی ہیں، جن میں سے دو بخاری اور دو مسلم میں شامل ہیں. ان سے مروی ایک حدیث میری پسندیدہ ترین ہے.

” ایک روز سرکار فجر کی نماز کے لیے امی جویریہ کے گھر سے گئے. اس وقت امی عبادت میں مشغول تھیں. سرکار چاشت کی نماز پڑھ کر امی کے گھر تشریف لائے تو امی کو وہیں پایا. دریافت کیا کہ جب سے باہر گیا ہوں تم اس وقت سے یہیں بیٹھی ہو. امی جان نے فرمایا جی رسول اللہ. رحمت العالمین نے امی کی بعد سن کر کہا جس وقت سے تمہارے پاس سے گیا ہوں. میں نے چار کلمات ادا کیے ہیں. اگر ان کا موازنہ کیا جائے جو تم نے پڑھے ہیں تو وہ چار کلمے وزنی ہوں گے. نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے چار کلمات امی جویریہ کو سکھائے اور انہوں نے یہ دولت نبی کریم کے امتیوں تک پہنچا دی. وہ کلمات ہیں؛ “سبحان الله وبحمده عدد خلقه ورضا نفسه وزنة عرشه ومداد كلماته” امی جویریہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی رفاقت میں فقط چھ سال گزارے. سرکار دو عالم کے دنیا سے پردہ کرنے کے بعد اکثر امی عائشہ کے حجرے میں تشریف لے جاتیں. نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قدموں میں بیٹھ جاتیں. سلام عرض کرتیں، آنسوؤں کی زبانی دل کا حال کہتیں. تمام خلفائے راشدین امہات المؤمنین کا خاص خیال رکھا کرتے. ان کی خدمت کرنا باعثِ فخر و افتخار سمجھتے. ان کو کسی قسم کی مالی پریشانی نہ ہونے دیتے. سالانہ وظیفہ مقرر تھا جو وقت اور فتوحات کے بعد بڑھتا رہا تھا.

ان کی خدمت میں تحائف ارسال کیے جاتے. بے تحاشہ عزت و تکریم کی جاتی. ان سے رہنمائی لی جاتی لیکن امہات کے دل نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد ہی مرجھا گئے تھے. امہات المؤمنین زیادہ تر وقت عبادت میں گزارتیں، مسائل پہ امت کی رہنمائی کرتیں اور جی بھر کر صدقہ و خیرات کرتیں.امی جویریہ کا انتقال ربیع الاول 56 ہجری میں اکہتر برس کی عمر میں ہوا. امی کی نمازِ جنازہ اس وقت کے مدینہ کے گورنر مروان بن حکم نے پڑھائی. امی جنت البقیع میں آرام فرما رہی ہیں.