Home » ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ تعالٰی عنہا – شہنیلہ بیلگم والا
اسلامیات

ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ تعالٰی عنہا – شہنیلہ بیلگم والا

امی زینب بنت جحش رضی اللہ تعالٰی عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سگی پھوپھی امیمہ بنت عبدالمطلب کی بیٹی تھیں. والد کا نام جحش بن رباب تھا. قریش کے خاندان اسد بن خزیمہ سے تعلق رکھتی تھیں. سابقوں اولون میں سے ہیں. قبولِ اسلام کے وقت ان کا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے “برہ” سے “زینب” تبدیل کیا تھا. ان کی پہلی شادی مکے میں ہی ہوئی تھی اور مکے میں ہی ان کے پہلے شوہر کا انتقال ہوچکا تھا.

جب مدینہ ہجرت کا حکم ہوا تو لبیک کہتی ہوئی مدینہ تشریف لائیں اور چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی ذاد تھیں اور بیوہ تھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سایہ عاطفت میں زندگی گزارنے لگیں.کہتے ہیں جن کے درجے اونچے ان کے امتحان بھی بڑے. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس کو جاہلیت کی ہر رسم اور ہر سوچ مٹانی تھی. عربوں میں اپنے نسب پہ ناز، اپنے خاندان پہ فخر رائج تھا. اس لیے جب اس عصبیت کو مٹانے کا وقت آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ سلام نے اپنے آزاد کردہ غلام، متبنی، منہ بولے بیٹے زید بن حارث رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لیے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالٰی عنہا کو چنا.امی زینب کا دل اس رشتے پہ نہیں تھا. نہ ہی ان کے بھائی عبداللہ بن جحش اس بندھن کے حق میں تھے.حضرت زینب کے انکار پر حضرت جبریل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ آیت لے کر آئے. وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْؕ-وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًا. (احزاب) “کسی مسلمان مرد یا عورت کو لائق نہیں جس وقت خدا اور اس کا رسول کوئی کام مقرر کردے کہ ان کو اپنے کام میں اختیار ہواور جو کوئی اللّٰہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ صریح گمراہ ہوگیا.”

اس آیت کے نزول کے بعد حضرت زینب اور ان کے دونوں بھائیوں فوراً بولے: ہم راضی ہیں، ہماری کیا مجال کہ ہم اپنے اختیار کو درمیان میں لائیں اور معصیت کا ارتکاب کریں اور اطاعت کے لئے سرجھکادیا۔ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود حضرت زینب اور زید بن حارثہ کا نکاح پڑھایا اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کی طرف سے دس دینار اور ساٹھ درہم مہر کے طور پر ادا کیے. اس وقت تک حضرت زید رضی اللہ عنہ، حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں ایک فرد کی حیثیت سے رہتے تھے لیکن اس شادی کے بعد ان کی رہائش کے لئے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علیٰحدہ مکان کا بندوبست کیا اور اس نئے جوڑے کے لیے تمام ضروریاتِ زندگی کا سامان بھجوایا. حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ ساری زندگی حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش رہے تھے. ان ہی سے تربیت پائی تھی. علم و دانش میں یکتا تھے. بہادر تھے اور کتنے ہی غزوات میں اپنی بہادری کے جوہر دکھائے تھے. سخی، ملنسار اور حلیم الطبع تھے. ان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ واحد صحابی ہیں جن کا نام قرآن پاک میں آیا ہے. یہ شادی تو ہوگئی لیکن بہت زیادہ طبقاتی فرق کی وجہ سے دونوں میں نبھ نہ سکی. زید فرماتے تھے کہ میں رعبِ خاندان کی وجہ سے زینب سے بے تکلفی ہی نہ کرپاتا جو خوشگوار ازدواجی زندگی کے لیے ضروری ہے. امی زینب بھی ان سے کھنچی کھنچی رہتی تھیں.

چنانچہ حضرت زید نے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ان کی شکایت کی۔حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اس طرح کی باتوں پر طلاق نہیں دیا کرتے۔ اسی امر کی طرف آیۂ ذیل میں اشارہ ہے. وَ اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِ اَمْسِكْ عَلَیْكَ زَوْجَكَ وَ اتَّقِ اللّٰهَ وَ تُخْفِیْ فِیْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِیْهِ وَ تَخْشَى النَّاسَۚ-وَ اللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰىهُؕ- (احزاب)“اور جس وقت تو کہہ رہا تھا اس شخص سے جس پر اللّٰہ نے اور تو نے انعام کیا ہے کہ اپنی بیوی کو اپنے لئے تھام رکھ اور خدا سے ڈر اور تو اپنے جی میں چھپاتا تھا اس چیز کو جسے اللّٰہ ظاہر کرنے والا ہے اور تو لوگوں سے ڈرتا تھا اور اللّٰہ زیادہ لائق ہے اس کا کہ تو اس سے ڈرے.“لیکن میرے رب کی مصلحتیں وہی جانے. کچھ عرصہ بعد حضرت زید اور امی زینب کی طلاق ہوگئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہ یہ آیت اتری.فَلَمَّاَ قَضٰی زَیْدٌ مِّنْھَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَھَا. ( الاحزاب) پھر جب زید کی غرض اس سے نکل گئی تو ہم نے وہ تمہارے نکاح میں دے دی. جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امی زینب کی عدت کے بعد کو ان کو نکاح کا پیغام بھجوایا تو امی خوشی سے سجدے میں گر گئیں. لگاتار دو مہینے شکرانے کے روزے رکھے. جو کنیز پیغام لے کر آئی اسے زیور عطا کیا. میرے رب نے قرآن میں بشارت دی کہ ہم نے زینب کو سرکار دو عالم کے لیے چنا. صدقے میرے رب کے اور قربان ان بلند درجات رکھنے والی ہستیوں کے.

جب منافقین کو پتا چلا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب سے شادی کر رہے ہیں تو مخالفت اور طنز و طعنے، دشنام کا طوفان آگیا. اس کا جواب میرے رب نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا؛مَا كَانَ محمد اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ. (احزاب) محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْهِ وَسَلَّم) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن خدا کے پیغمبر اور خاتم النبیین ہیں. وَ مَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْؕ-ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْؕ. (احزاب)اور تمہارے لے پالکوں کو تمہارے بیٹے نہیں بنایا یہ تمہارے مونہوں کی بات ہے. میں جب بھی سورہ احزاب پڑھتی ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ جس طرح سورہ نور امی عائشہ کے لیے ہے اسی طرح سورہ احزاب امی زینب کے لیے ہے. اللہ نے کتنے بڑے امتحان لیے اور درجہ ایسا عطا کیا کہ رہتی دنیا تک جب تک ان آیات کی تلاوت ہوتی رہے گی مومنوں کے دل اپنی امہات کی محبت سے معمور رہیں گے. امی زینب بہت خوبصورت اور ذہین تھیں. چہرے سے خاندانی نجابت ٹپکتی تھی. انتہائی صاف گو اور فیاض تھیں. بے انتہا سگھڑ اور سلیقہ شعار. ام المساکین کہلاتی تھیں. دستی سامان گھر میں بنا کر فروخت کرتی تھیں اور تمام رقوم غرباء و مساکین میں تقسیم کردیتی تھیں.

جیسے کہ پچھلے مضمون میں بھی ذکر کیا تھا کہ امہات المومنین کے دو گروپس تھے. ایک امی عائشہ کا اور دوسرا امی ام سلمہ اور امی زینب کا. لیکن باوجود دوسرے گروپ میں ہونے کے جب امی عائشہ پہ تہمت لگی تو فوراً گواہی دی کہ میں نے عائشہ میں سوائے بھلائی کے کچھ نہیں پایا. حالانکہ ان کی بہن حمنہ بنت جحش تہمت لگانے والوں میں شامل تھیں. امہات میں امی زینب کا انتقال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد سب سے پہلے ہوا. آقا فرما چکے تھے کہ تم میں مجھ سے سب سے پہلے وہ ملے گی جس کا ہاتھ سب سے لمبا ہے. امی عائشہ فرماتی ہیں کہ ہم سب نے اپنے ہاتھ ناپنے شروع کیے تو امی سودہ کا ہاتھ سب سے لمبا نکلا. لیکن جب آقا کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد امی زینب کا انتقال ہوا تو پتا چلا کہ ان کی فیاضی اور دریادلی کی طرف اشارہ تھا.امی زینب نے ترکے میں صرف ایک مکان چھوڑا تھا جسے بعد میں مسجد نبوی میں شامل کردیا گیا. میں گناہگار جب بھی مسجد نبوی میں نماز پڑھتی ہوں تو یہ سوچ کر دل لرز جاتا ہے کہ ہوسکتا ہے امی کے گھر میں ہی ہوں. اپنی اوقات پہ اس رب کی مہر دیکھ کر رونا آجاتا ہے.
امی کی نماز جنازہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے پڑھائی. امی زینب بنت جحش جنت البقیع میں آرام فرما رہی ہیں.اس تحریر میں اگر کوئی غلطی ہے تو ضرور نشاندہی فرمائیں. میری اوقات نہیں کہ ان پاک ہستیوں کی شان بیان کرسکوں. بس ایک بیٹی کا لاڈ ہے امی کے لیے.