Home » امّ المؤمنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ تعالٰی عنہا – شہنیلہ بیلگم والا
اسلامیات

امّ المؤمنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ تعالٰی عنہا – شہنیلہ بیلگم والا

آپ کا نام بَرَّہ تھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبدیل کرکے میمونہ رکھ دیا. آپ کا تعلق قریش سے تھا. آپ کی والدہ ہند بنت عوف کا تعلق یمن کے قبیلہ حمیر سے تھا. سیدہ میمونہ کی والدہ کی پہلی شادی خُزَیمہ بن حارث سے ہوئی تھی جن سے ایک بیٹی زینب بنت خُزَیمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا پیدا ہوئیں جن کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا تھا. امی زینب سرکار دو عالم کے نکاح میں آنے کے چند ماہ بعد انتقال فرما گئی تھیں.

خُزَیمہ بن حارث کے اِنتقال کے بعد ہند بنت عوف نے حارث بن حزن سے شادی کی جن سے تین بیٹیاں پیدا ہوئیں؛ سیدہ میمونہ بنت حارث. ام فضل جن کی شادی نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چچا عباس بن عبدالمطلب سے ہوئی. لبابہ الصغری جو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالٰی عنہ کی والدہ تھیں. حارث بن حزن کے اِنتقال کے بعد ہند بنت عوف نے عُمَیس بن معد سے شادی کرلی جس سے دو بیٹیاں پیدا ہوئیں. اسماء بنت عمیس جن کی شادی سیدنا جعفر بن ابو طالب سے ہوئی اور سلمیٰ بنت عمیس جن کی شادی سیدنا حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہوئی.”ہند بنت عوف” کے بارے کہا جاتا ہے کہ دامادوں کے اعتبار سے روئے زمین پر ان سے زیادہ خوش نصیب کوئی اور خاتون نہیں ہوئیں کیونکہ ان کے دامادوں کی فہرست میں مندرجہ ذیل ہستیاں ہیں؛
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم
حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ
حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ
حضرت حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ
حضرت عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ
حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ
حضرت شداد بن الہاد رضی اللہ تعالٰی عنہ
امی میمونہ کی پہلی شادی مسعود بن عمرو بن عمیر الثقفی سے ہوئی تھی. یہ عقد علیٰحدگی میں تبدیل ہوا. آپ کی دوسری شادی ابورہم بن عبدالعزیٰ سے ہوئی۔ ابورہم بن عبدالعزیٰ نے سات ہجری میں وفات پائی اور سات ہجری میں ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا نکاح ہوا. امی میمونہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی آخری زوجہ تھیں. اللہ کے رسول نے ان کے بعد کسی بھی خاتون سے شادی نہیں کی.

صلح حدیبیہ کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سات ہجری میں عمرہ قضا ادا کرنے مکہ تشریف لے گئے. حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام کھولنے کے بعد تشریف فرما تھے کہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ جو امی میمونہ کے برادر نسبتی تھے، حاضرِ خدمت ہوئے اور عرض گزار ہوئے:’’یارسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم! میرے ماں باپ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان ہوں، برہ بنت حارث اسی سال کے ابتدا میں بیوہ ہوگئی تھیں‘‘ یہ کہہ کر انہوں نے قدرے سکوت فرمایا اور پھر ان کی گزشتہ زندگی پر سے پردہ اٹھایا اور عرض کیا: یارسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ برہ بنت حارث کو اپنے حبالہ عقد میں لے لیں. حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رضامندی ظاہر کی اور چار سو درہم مہر پر برہ بنت حارث کو اپنی زوجیت میں لینا قبول کرلیا اور ان کا نام تبدیل کرکے میمونہ رکھ دیا۔ اس وقت حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر مبارک 60 برس تھی. قرار دادِ حدیبیہ کے مطابق مسلمانوں کے سہ روزہ قیامِ مکہ کی مدت ختم ہوچکی تھی لیکن حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ولیمہ کی تقریب کے سلسلے میں کچھ اور مہلت طلب کرنا چاہی. اسی اثنا میں سہیل بن عمرو اور حویطب بن عبدالعزی قریش کی جانب سے پہنچے اور عرض کی:

مدت قیام ختم ہوگئی ہے لہذا آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھی مدینہ واپس تشریف لے جائیں. رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے برہ جس کا اب نام میمونہ ہے، سے شادی کرلی ہے اگر مزید مہلت مل جائے تو ولیمہ یہیں کروں اور تمہیں بھی اس ضیافت میں شرکت کا موقع دوں. لیکن قریش کے نمائندوں نے انکار کرتے ہوئے کہا؛ ’’ہمیں آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ضیافت کی ضرورت نہیں، آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم فی الحال یہاں سے تشریف لے جائیں‘‘رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے مطالبے کو تسلیم کرلیا اور مسلمانوں کو روانگی کا حکم دے دیا. چنانچہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ سے چل پڑے. آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مولیٰ حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ کو مکہ میں چھوڑا تاکہ وہ ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کو مقامِ سرف پر لے آئیں. امی میمونہ کی رسم عروسی اور ولیمہ مقامِ سرف پہ ہی ادا کیا گیا. قریش کے لیے یہ ایک بہت بڑا گھاؤ تھا. مسلمان نہ صرف مکہ آ کر عمرہ ادا کر رہے ہیں بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایسی خاتون کو بیاہ کر ساتھ لے جارہے ہیں جس کے قریش کے اکثر معزز خاندانوں سے نہایت قریبی رشتے کے تعلقات تھے. انہیں علم تھا کہ آج نہیں تو کل حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے عزیز و اقارب بھی وابستگانِ اسلام میں شامل ہوجائیں گے اور ایسا ہی ہوا. اس مبارک نکاح کے مثبت اثرات نجد کے علاقے میں بھی ظاہر ہوئے.

اہل نجد کے ساتھ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قرابت داری قائم ہوگئی تھی جس کے بعد ان کے لئے دشمنی و مخالفت کی روش پر قائم رہنا ممکن نہ رہا اور اس میں نمایاں حد تک تبدیلی آگئی.اس نکاح کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ، جو امی میمونہ کے بھانجے تھے، رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ عالیہ میں حاضر ہوئے اور مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہوگئے. ان کے بعد حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور کعبے کے پاسبان حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ نے بھی اسلام قبول کرلیا. ان کی وجہ سے اور بہت سے لوگ حلقہ بگوش اسلام ہوئے جس سے اسلام کی قوت میں بے پناہ اضافہ ہوا. ان باتوں سے ہر شخص سمجھ رہا تھا کہ وہ وقت دور نہیں جب مکہ مکرمہ کے دروازے ہمیشہ کے لئے مسلمانوں پر کھل جائیں گے. عمرہ قضا اور حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شادی نے فتح مکہ کی داغ بیل ڈال دی تھی. امی میمونہ ایک خدا ترس اور نیک دل خاتون تھیں. امی عائشہ فرماتی ہیں کہ میمونہ اللہ سے بہت ڈرتی اور صلہ رحمی کرتی تھیں. حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کو غلام آزاد کرنے کا بہت شوق تھا. ایک لونڈی کو آزاد کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تم کواس کا اجر دے.

حضرت میمونہ رضی اللہ عنہ سے 46 حدیثیں مروی ہیں، جن میں بعض سے ان کی فقہ دانی کا پتہ چلتا ہے. ایک عورت بیمار پڑی تو اس نے منت مانی تھی کہ شفا ہونے پربیت المقدس جاکر نماز پڑھے گی. خدا کی شان وہ اچھی ہو گئی اور سفر کی تیاریاں شروع کیں. جب رخصت ہونے کے لیے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی تو بولیں تم یہیں رہو اور مسجد نبوی میں نماز پڑھ لو کیونکہ یہاں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری مسجدوں کے ثواب سے ہزارگنا زیادہ ہے.ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا مکہ المکرمۃ میں شدید بیمار ہوگئیں۔ آپ نے فرمایا. ’’مجھے مکہ سے باہر لے جاؤ، یہاں مجھے موت نہیں آئے گی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بتایا تھا کہ میرا وصال مکہ میں نہیں ہوگا. ‘‘چنانچہ آپ رضی اللہ عنہا کو سَرَف کے مقام پر اُس درخت کے پاس لے جایا گیا جِس کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شادی کے بعد اِن سے ملے تھے اور وہیں اُن کا وصال ہو گیا. آپ کی وفات سفرِ حج سے واپسی کے وقت 51 ہجری میں بمقامِ سَرَف ہوئی۔ یہ مقام مکہ مکرمہ سے 10 میل کے فاصلہ پر ہے.

آپ کی نمازِ جنازہ عبداللہ بن عباس نے پڑھائی اور آپ کو لحد میں اُتارا کیونکہ عبداللہ بن عباس رشتے میں آپ کے بھانجے تھے. جب جنازہ اُٹھایا گیا تو حضرت عبداللہ کہنے لگے: ’’ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں، جنازہ کو زیادہ حرکت نہ دو، با اَدب اور آہستہ لے کر چلو.” انتقال کے وقت سن مبارک 80 یا 81 سال تھا.

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。