مشاري العفاسي- سورة الكهف : سورۃ الکہف کے فضائل




١.. سورة الكہف کی تلاوت کے وقت سکینہ کا نزول
حضرت البراء بن عازب رضی الله عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ ایک شخص سـورة الكہف پڑھ رہا تها ، اور اس کے پاس دو رسیوں میں ایک گهوڑا بندها ہوا تها ، پس اس شخص کو بادل نے ڈهانپ دیا پس وه اس کے قریب تر ہوگیا ، پس اس کا گهوڑا بدکنے لگا ، پس جب صبح کی تو حضور صلى الله عليه وسلم کے پاس آئے اور یہ واقعہ ذکر کیا ، پس حضور صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا کہ وه سکینہ تها جو قرآن کی تلاوت کے باعث نازل ہوا
(أخرجه البخاري ومسلم والترمذي)
٢.. جمعہ کے دن سورة الکہف پڑهنے کی فضیلت
حضرت ابوسعید خدری رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : جس نے جمعہ کی رات سورۃ الکہف پڑھی اس کے اور بیت اللہ کے درمیان نورکی روشنی ہو جاتی ہے. حضرت ابوسعید خدری رضي اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ : جس شخص نے جمعہ کے دن سورۃ الکہف پڑھی اس کے لیے دوجمعوں کے درمیان نور روشن ہوجاتا ہے
(رواه البيهقي في المسند الكبرى وشعب الايمان ، ورواه فی الترغيب ، ومشكاة المصابيح)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : جس نے جمعہ کے دن سورۃ الکہف پڑھی تو اس کے قدموں کے نیچے سے لے کر آسمان تک نور پیدا ہوتا ہے جو قیامت کے دن اس کے لیے روشن ہوگا اور ان دونوں جمعوں کے درمیان والے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں
(الترغيب والترهيب)
٣.. دجال کے فتنہ سے حفاظت
حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص ســورة الكهـف کی ابتدائی دس آیتیں یاد کرے ، وہ دجال کے فتنہ سے بچے گا . ایک روایت میں ہے کہ جس شخص نے سورۃ الکہف کی آخری دس آیات پڑھ لیں پهر دجال نکل گیا تو دجال اس پر مسلط نہیں ہوگا . اورایک روایت میں ہے کہ جس شخص نے ســورة الكهـف کی ابتدائ تین آیات حفظ کرلیں تو وه دجال کے فتنہ سے محفوظ رهے گا
(رواه الترمذي في كتاب فضائل القرآن باب فضل سورة الكہف )

اپنا تبصرہ بھیجیں