Home » حیا وحجاب – اسماءمعظم
اسلامیات

حیا وحجاب – اسماءمعظم

اسلام کی نظر میں عورت  تعمیر ملت کے لۓ درکار ایک اہم اینٹ ہے ،خاندان کے حقوق کے لۓ ایک بنیاد ہےاور امت کی ترقی میں نمایاں کردار کی حامل ہے . اسلام نے اس آنگینے کی حفاظت کا بھی بخوبی انتظام کیا ہے۔ حیا کو ایمان کا لازمی جزو قرار دے کر اللہ کے نبی ص نے فرمایاکہ،

الحیا شعبہ من الایمان (بخاری)،” حیا ایمان کا حصہ ہے۔“

حیا اور حجاب لازمی جزو ہیں ۔حیا ایک صفت ہے ور حجاب اس کا ردعمل۔حیا کے بارےمیں ابوداٶد کتاب الجہاد میں ایک واقعہ مذکور ہے کہ،

ایک خاتون ام خلاد کا ایک لڑکا ایک جنگ میں شھید ھو گیا تھا . وہ اس کے متعلق دریافت کرنے کے لۓ نبی کریم ص کےپاس آٸیں ،مگر اس حال میں بھی چہرے پر نقاب پڑی ہوٸ تھی۔بعض صحابہ نے حیرت کے ساتھ کہا کہ تمہارے چہرے پر نقاب ہے؟یعنی یٹے کی شھادت کی خبر سنکر تو ایک ماں کو تن بدن کا ہوش نہیں رہتااور تم اس حالت میں بھی با پردہ آٸ ھو۔جواب میں کہنے لگیں،
”میں نے بیٹا تو ضرور کھویا ہے مگر اپنی حیا نہیں کھوٸی ۔“

حیا کے ضمن میں پہلی چیز نظر یا نگاہ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہوسلم نے ایک حدیث قدسی میں ارشاد فرمایا:”نگاہ ابلیس کے زہریلے تیروں میں سےایک تیرہےجو شخص خدا کے ڈر سے اس کو چھڑ دے گا میں اس کے بدلے اسے ایسا ایمان دوں گا جس کی حلاوت وہ اپنے دل میں پاۓ گا۔“

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات فراہم کرتا ہے عورت اس معاشرے کی بقا اور تحفظ کی ضامن ہے۔ زندگی کا کوٸی گوشہ ایسا نہیں ھے جس میں ھمارے لۓ اسلام کی رہنماٸی اور ھدایات موجود نہ ھوں ھمارایقین ہے کہ پوری انسانیت کی بھلاٸی اور فلاح اسلام کے ان زریں اصولوں پر عمل کرنے ہی میں ہے ۔اسلام کا نظا م عفت و عصمت نہ صرف عورت بلکہ پورے معاشرے کی بقا اور تحفظ کا ضامن ہے۔ اسلام نے مرد اور عورت دونوں کو غض بصراور حجاب کا جو واضح حکم دیا ہے اسکی پاسداری کے بغیر معاشرے کو محفوظ نہیں بنایا جاسکتا۔پردہ یا حجاب اسلام کے عفت وعصمت کاایک جزو ہے جسکی بنیاد ایمانا ور روح حیا ہے . عالمی یوم حجاب ہر سال منایا جاتا ہے اس موقع پر ایک مسلمان اور پاکستانی عورت اس عزم کا اعادہ کرتی ھے کہ ، حجاب اس کے وقار کا تحفظ ہے اس کی تقدیس اور حرمت کی علامت ہے۔ وہ اپنے وقار کے تحفظ کے لۓ با شعور ہے۔ اپنی نسوانییت کی قیمت لگانا اپنی توہین سمجھتی ہے۔ اور لباس اور تہذیب کے معاملے میں بے حد حساس ہے ۔

یوم حجاب معاشرے میں عورت کی تقدیس اور حرمت کی علامت ہے اور اس کی حیا کو برقرار رکھتے ہوۓ اس کے متحرک کردار کا عزم ہے۔ حیا اسلامی زندگی کا وہ با ب ہے . جس میں داخل ہوۓ بغیر نہ خدا کی رضاکا حصول ممکن ہے نہ حضورص کی شفاعت کی امید کی جا سکتی ہے نہ ھی دنیا کی ز ندگی میں اطمینان اور حفاظت ممکن ہے.