Home » حیا حجاب اور ہماری تہذیب – مہرین الیاس
اسلامیات

حیا حجاب اور ہماری تہذیب – مہرین الیاس

حیا کو اسلام میں ایک اہم مقام حاصل ہے اور اسے فطرتِ انسانی قرار دیا گیا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :
ہر دین کا کوئی نہ کوئی امتیازی وصف ہے اور دین اسلام کا امتیازی وصف حیاء ہے۔

حیا وہ صفت ہے جس کی بدولت انسان کے کردار میں خوبصورتی پیدا ہوتی ہے یہ حیا ہی ہے جو انسان کو لوگوں میں نمایاں و پسندیدہ بناتی ہے۔ حیا مردوزن دونوں کے لیے لازمی جزو ہے۔ ایک صحت مند معاشرہ کی تکمیل تب ہی ممکن ہوتی ہے جب اس کے افراد باحیا اور باکردار ہوں۔ کسی معاشرے کی تشکیل میں عورت کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ ماں کے روپ میں عورت اِک نسل کی تربیت کرتی ہے اور اس کی تربیت کئی نسلوں تک منتقل ہوتی رہتی ہے۔ اسی طرح حیا بھی کئی نسلوں تک منتقل ہوتی رہتی ہے۔ اِک روایت میں آتا ہے کہ:
اُم خلاد (رضی اللہ عنہا) کے بیٹے جنگ میں شہید ہوگئے، اپنے بیٹوں کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے نقاب ڈالے بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئیں تو اس پر کسی نے حیرت سے کہا: اس وقت بھی باپردہ ہیں! تو کہنے لگیں: میں نے بیٹا کھویا ہے حیا نہیں کھوئی۔ (ابوداؤد:2490)

عورت کا اصل زیور حیا ہے۔ حیا اِک عورت کو مکمل کرنے والی شے ہے

       <strong> حیا اور عورت میں رشتہ ہے ایسے
       سیپ میں موتی جَڑا جس طرح سے
                         (مہرین)  </strong>

حیا اور حجاب دو قالب اِک جان کی مانند ہیں۔ حجاب اِک نظریہ زندگی ہے جو پاکیزگی کی بنیاد پر قائم ہے. حجاب عورت کا فخر ہے۔ جو اسے معاشرے میں ایک باوقار انسان کے طور پر متعارف کرواتا ہے۔ حجاب لفظ پر غور کرتے ہی جو پہلا خیلال ذہن میں ابھرتا ہے وہ یہ کہ شاید یہ کپڑے کی بات ہو رہی ہے جس سے ہم اپنے سروں کو ڈھانپتے ہیں لیکن اس کی گہرائی میں جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ حجاب تو دراصل اپنے کردار،اقدار،خیالات، روایات کی پاسداری کا نام ہے . فیشن انڈسٹری اور بیوٹی انڈسٹری کے ٹھیکیداروں نے اپنی مصنوعات بیچنےکے لیےفخر و وقار کی علامت سمجھے جانےوالے لباس کو مختصر ترین کر دیا تا کہ ان کی اشیاِء کی مانگ میں اضافہ ہو۔ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم تو پھر زمانہ جاہلیت میں کھڑے ہیں جہاں عورت کی تضحیک کی جاتی، جہاں اسکی اہمیت ایک شوپیس سے زیادہ نہیں

طریقہ جدید ہے لیکن عمل وہی قدیم جاہلانہ ہے۔ گھروں میں ٹی وی پر آنے والےاشتہارات کو ہی دیکھ لیں۔ بڑی سے بڑی اور چھوٹی سے چھوٹی شے بیچنے کے لیے عورت ک� نمائش ضروری ہے۔ بل بورڈز پر عورت کا دکھاوا۔ کیا یہ ہماری تہذیب کا حصہ ہے؟ نہیں، یہ ہماری تہذیب نہیں ہے۔ چند مٹھی بھر لبرلز ہماری تہذیب نہیں بدل سکتے۔ انہی چند مٹھی بھر لوگوں میں سے ایک دانشور صاحب کا کہنا ہے کہ پردہ کرنے والی عورتیں نارمل نہیں انکی اس رائے سے ان کی ذہنی پستی کا اندازہ لگایا جا سکتاہے۔ قوموں کی اخلاقی زوال کی پہلی شرط یہ ہے کہ ان کا پردہ اترتا ہے۔ معاشرتی برائیوں کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی تہذیب کو چھوڑ کر مغربی تہذیب کی پیروی کرنے کو ترجیح دی۔ وہ قوم بھلا کیسے ترقی کر سکتی ہے جہاں اس کی روایات اور اقدار ہی بدل جائیں۔ علامہ اقبال رحمہ اللّٰہ ایک دفعہ یورپ گئےتو مغربی تہذیب کو دیکھ کر انہوں نےاِک شعر کہا۔

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکُشی کرےگی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنےگا ، ناپائیدار ہوگا

آج نتیجہ نکل آیا ہے کہ اُن کی تہذیب مر رہی ہےکیونکہ تہذیب کی آخری حد کو چھونے سے جو افسوسناک نتیجہ نکلاہے ، اب ان کی واپسی شروع ہو گئی ہے۔ دوسری جانب ہمارا آج کا نوجوان الجھا ہوا ہے کہ پردہ کرنا ہے۔۔ کیوں کرنا ہے؟ لا تعداد سوالات اس کے ذہن میں جنم لیتے ہیں۔ ان سب سوالوں کے ساتھ سوچنے کی ضرورت تو یہ ہے کہ آخر حکم کس کا ہے۔

سورۃ النور میں اللّٰہ پاک فرماتے ہیں۔
اے نبیؐ، مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ اُن کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے، جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اُس سے باخبر رہتا ہے۔ اور اے نبیؐ، مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں بجز اُس کے جو خود ظاہر ہوجائے، اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں۔
سورۃ النور ۳۰-۳۱

ان آیات کو سمجھ کر پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ راستہ تو بلکل صاف اور واضح ہے ان پر جو بھی عمل کرےگا وہ برائی سے محفوظ رہے گا۔ مزیدعلم کےلیے مولانا مودودی رحمہ اللّٰہ کی کتاب پردہ کا مطالعہ کریں ۔اس میں انہوں نے آسان الفاظ میں پردہ کاتصور واضح کیا ہے۔ برائی جڑسے ختم ہوجائے گی جب ہم اپنی تہذیب اور ربّ کائینات کے حکم کی پیروی کریں گے اور جو بھی ان سے انحراف کرے گا وہ منہ کی کھائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین اسلام پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

Add Comment

Click here to post a comment

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。