Home » ماہ رمضان عطاء رب رحمان -زرافشاں فرحین
اسلامیات

ماہ رمضان عطاء رب رحمان -زرافشاں فرحین

سید الشہور “” ماہ صیام جس کی اہمیت کا اندازہ اس طرح ہوتا ہے کہ حدیث مبارک میں ہے کہ رمضان شہر ﷲ“ رمضان ﷲ تعالیٰ کا مہینہ ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس مبارک مہینے سے رب ذوالجلال کا خصوصی تعلق ہے جس کی وجہ سے یہ مبارک مہینہ دوسرے مہینوں سے ممتاز اور جدا ہے۔

حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ کا فرمان ہے کہ میری امت کو ماہ رمضان میں پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی علیہ السلام کو نہ ملیں.پہلی یہ کہ جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو اﷲ تعالیٰ ان کی طرف رحمت کی نظر فرماتا ہے اور جس کی طرف اﷲ تعالیٰ نظر رحمت فرمائے اسے کبھی بھی عذاب نہ دے گا۔دوسری یہ کہ شام کے وقت ان کے منہ کی بو (جو بھوک کی وجہ سے ہوتی ہے) اﷲ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی بہتر ہے۔تیسرے یہ کہ فرشتے ہر رات اور دن ان کے لئے مغفرت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔چوتھے یہ کہ اﷲ تعالیٰ جنت کو حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے ’’میرے (نیک) بندوں کے لئے مزین ہوجا عنقریب وہ دنیا کی مشقت سے میرے گھر اور کرم میں راحت پائیں گے۔پانچواں یہ کہ جب ماہ رمضان کی آخری رات آتی ہے تو اﷲ تعالیٰ سب کی مغفرت فرمادیتا ہے۔

رمضان المبارک کا مہینہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی بڑی عظیم نعمت ہے، اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انوار وبرکات کا سیلاب آتا ہے اور اس کی رحمتیں موسلادھار بارش کی طرح برستی ہیں، مگر ہم لوگ اس مبارک مہینے کی قدرومنزلت سے واقف نہیں، کیونکہ ہماری ساری فکر اور جدوجہد مادّیت اور دنیاوی کاروبار کے لیے ہے، اس مبارک مہینے کی قدردانی وہ لوگ کرتے ہیں جن کی فکر آخرت کے لیے اور جن کا محور مابعد الموت ہو۔ آپ حضرات نے یہ حدیث شریف سنی ہوگی، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب رجب کا مہینہ آتا تو حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ رَجَبَ وَشَعْبَانَ وبَلِّغْنَا رَمَضَانَ، (شعب الایمان۳/۳۷۵، تخصیص شہر رجب بالذکر) ترجمہ: اے اللہ ہمارے لیے رجب اور شعبان کے مہینے میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان کے مہینے تک پہنچادیجیے۔ یعنی ہماری عمر اتنی دراز کردیجیے کہ ہمیں رمضان کا مہینہ نصیب ہوجائے۔

اس ماہ کا اصل مقصد یہ ہے کہ غفلت کے پردوں کو دل سے دور کیاجائے، اصل مقصدِ تخلیق کی طرف رجوع کیاجائے، گزشتہ گیارہ مہینوں میں جو گناہ ہوئے ان کو معاف کراکر آئندہ گیارہ مہینوں میں اللہ تعالیٰ کی عظمت کے استحضار اور آخرت میں جواب دہی کے احساس کے ساتھ گناہ نہ کرنے کا داعیہ اور جذبہ دل میں پیدا کیا جائے، جس کو ”تقویٰ“ کہا جاتا ہے۔ اس طرح رمضان المبارک کی صحیح روح اوراس کے انوار وبرکات حاصل ہوں گے، ورنہ یہ ہوگا کہ رمضان المبارک آئے گا اور چلا جائے گا اور اس سے صحیح طور پر ہم فائدہ نہیں اٹھاپائیں گے، بلکہ جس طرح ہم پہلے خالی تھے ویسے ہی خالی رہ جائیں گے۔ اس لیے چند ایسی چیزوں کی نشاندہی کی جاتی ہے جن پر عمل کرکے ہمیں روزے کا مقصد (تقویٰ) اور رمضان المبارک کے انوار وبرکات حاصل ہوں گے۔

*رمضان المبارک اخلاق فاضلہ کی ترویج کا مہینہ رمضان المبارک کی تمام عبادات ایک ایسی تربیتی نصاب پر مبنی ہیں جو انسان کو انسانیت کے شرف و منزلت اور حقیقی فرائض کا ادراک سکھاتی ہیں…. آئیے ایک نظر اس تربیتی نظام پر ڈالئے یہ کیا سکھاتا ہے
*اپنی ذات کی خدمت.
ابن ماجہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لِکُلِّ شَیْءٍ زَکوٰةٌ وَزَکوٰةُ الْجَسَدِ الصَّوْمُ۔ (ابن ماجہ ص۱۲۵) ہر چیز کے لیے کوئی نہ کوئی صفائی ستھرائی کا ذریعہ ہے اور بدن کی صفائی ستھرائی کا ذریعہ ”روزہ“ ہے ۔
ع
یارب برس جائے رحمت و مغفرت کی بارش

میری ذات کے آئینے میں بڑی دھول پڑی ہے
پوری زندگی دوسروں کی خرابیاں یاد رہتی ہیں دہرائ جاتی ہیں کیوں نہ ماہ مبارک میں اپنے اندر جھانک لیں…. حب دنیا کا زہر پھیلتا جارہا ہے. اسے پاک کرلیں… کوئ لمحہ قبولیت مل جائے… کوئ حرف دعا رد نہ ہو۔

آپ غور فرمائیں کہ رمضان المبارک آنے سے دو ماہ پہلے ہی رمضان کا انتظار اوراشتیاق ہورہا ہے۔اوراس کے حاصل ہونے کی دعا کی جارہی ہے۔یہ کام وہی شخص کرسکتا ہے جس کے دل میں رمضان کی صحیح قدروقیمت ہو۔رمضان کے معنی:
”رمضان“ عربی زبان کالفظ ہے، جس کے معنی ہیں ”جھُلسادینے والا“ اس مہینے کا یہ نام اس لیے رکھا گیا کہ اسلام میں جب سب سے پہلے یہ مہینہ آیا تو سخت اور جھلسادینے والی گرمی میں آیا تھا۔ لیکن بعض علماء کہتے ہیں کہ اس مہینے میں اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی خاص رحمت سے روزے دار بندوں کے گناہوں کو جھلسادیتے ہیں اورمعاف فرمادیتے ہیں، اس لیے اس مہینے کو ”رمضان“ کہتے ہیں۔ (شرح ابی داؤد للعینی ۵/۲۷۳)
یہ گناہوں کی تپش ٹھنڈی ہوا کا جھونکا کیسے بن جاتی ہے….. شقی سے شقی تر دل کیسے موم بن کر پگھل جاتے ہیں آدمیت شرف انسانیت کی معراج پالیتی ہے مگر کیسے اور کیونکر ۔۔۔

گناہوں سے بچانے والے اور معصیت کو ساقط کردینے والے وہ کون سے اعمال ہیں جو خاص روزے کی حالت میں کئ گنا اجر کا بھی سبب بنتے ہیں….
فلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ٘ۖ(۱۱)وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَةُؕ(۱۲)فَكُّ رَقَبَةٍۙ(۱۳)اَوْ اِطْعٰمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَةٍۙ(۱۴)یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَةٍۙ(۱۵)اَوْ مِسْكِیْنًا ذَا مَتْرَبَةٍؕ(۱۶)
ترجمہ:
پھر دشوار گزار گھاٹی میں نہ کودا اور تم کیا جانو وہ گھاٹی کیا ہے کسی بندے کی گردن چھڑانا یا بھوک کے دن کھانا دینا رشتہ دار یتیم کویا خاک نشین مسکین کو.(سورہ بلد.11 تا 16)
خدمت انسانیت کے یہ مظاہر…… کتنے افضل ہیں….

غلام آزاد کرنے یا آزادی میں ا س کی مدد کرنے کی بہت فضیلت ہے،چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’جس نے کسی مسلمان غلام کو آزاد کر دیا تو اللّٰہ تعالیٰ اس غلام کے ہر عضْوْ کے بدلے غلام آزاد کرنے والے کا عضْوْ جہنم سے آزاد کر دے گا۔( بخاری، کتاب العتق، باب فی العتق وفضلہ، ۲ / ۱۵۰، الحدیث: ۲۵۱۷ اورحضرت معاذ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور پُرنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشادفرمایا: ’’اے معاذ! کوئی چیز اللّٰہ تعالیٰ نے غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسند یدہ روئے زمین پر پیدا نہیں کی۔( دارقطنی، کتاب الطلاق والخلع والایلاء وغیرہ، ۴ / ۴۰، الحدیث: ۳۹۳۹)

اورحضرت سمرہ بن جندب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’افضل صدقہ یہ ہے کہ گردن چھڑانے میں سفارش کی جائے۔( شعب الایمان، الثالث والخمسون من شعب الایمان… الخ، ۶ / ۱۲۴، الحدیث: ۷۶۸۳)
بھوکے مسلمان کو کھانا کھلانے کے فضائل: بھوکے مسلمان کو کھانا کھلانے کی بہت فضیلت ہے،چنانچہ حضرت ابوسعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، کہ رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ جو مسلمان کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائے، اللّٰہ تعالیٰ اُسے جنت کے پھل کھلائے گا اور جو مسلمان کسی پیاسے مسلمان کوپانی پلائے گا، اللّٰہ تعالیٰ اُسے رحیقِ مختوم (یعنی جنت کی سر بند شراب) پلائے گا۔( ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، ۱۸-باب، ۴ / ۲۰۴، الحدیث: ۲۴۵۷)

صبر، ضبط نفس، خوف خدا اور رب کی رضا کب مقصود بنتی ہے…. جب انسان اپنے ہی جیسے انسان کا درد و کرب اپنے دل میں محسوس کرتا ہے گویا
ع
درد دل کے واسطے پیدا کیا  انساں کو

ورنہ اطاعت کے لئے کم نہ تھے کرو بیاں
روزہ نام ہے بھوک پیاس برداشت کرتے ہوئے پیٹ کی اس آگ کو محسوس کرنے کا…. جو غذا سے محروم لاکھوں انسان شب و روز برداشت کرتے ہیں جب اس آگ کی تپش اذیت دیتی ہے تو جہاں لقمہ رزق کی قدر آتی ہے وہیں بھوک سے بے حال انسانوں کی اس محرومی کو دورکرنے کا جذبہ بھی بیدار ہوتا ہے ۔
رمضان میں بھوکے کو کھلانا، افطار کروانا، مسافروں، ناداروں، مساکین اور ضرورت مندوں کی حاجت روائ اجر عظیم کا باعث بن جاتی ہے…..

روزے کا مقصد قوتِ شہوانیہ وبہیمیہ کا کم کرنا اور قوتِ ملکیہ ونورانیہ کا بڑھانا ہے…. گویا جب اپنے رزق میں سے دوسروں کا حصہ نکالا جاتا ہے کبھی تقسیم راشن، کبھی سحر و افطار میں محلے پڑوس رشتے داروں احباب کی خاطر داری تو کبھی امت کے غمزدہ محرومین کی داد رسی قوت ملکیہ و نورانیہ کی سمت قدم بڑھتے ہی جاتے ہیں…
خیر خواہی کا مہینہ :
جیسے دین اسلام الدین النصیحہ…. ہے عامتہ الناس کے لئے ویسے ہی ماہ مبارک سراپا خیر اور بھلائی کا مہینہ ہےاسی لئے الہامی کتب میں رمضان الگ سے حرمت کے مہینے میں شمار نہیں کیا گیا کہ ہر مذہب و قوم کے لئے یہ متفقہ طور پر حرمت کا خیر خواہی کا مہینہ ہے
عملاً خیر خواہی جو اپنی ذات سے، وقت سےمال سے صلاحیتوں کے استعمال سے کر کے دکھانی ہے…. زکوۃ و صدقات سے لیکر ماتھے کے پسینے تک ہتھیلیوں کی سرخی تک…  انسانیت کے لئے راحت ہی راحت…..

انفاق فی سبیل اللہ :
رمضان المبارک مال کی محبت دل سے کھرچ دینے کا مہینہ ہے… نہ کسی اور کے مال پر تسلط نہ اپنے مال پر صرف اپنا حق
یہ تقسیمِ کا مہینہ ہے…. انفاق فی سبل اللہ کی ترغیب کا مہینہ ہے:
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَنْ لَمْ یَدَعْ قَوْلَ الزُّوْرِ وَالْعَمَلَ بِہ فَلَیْسَ لِلّٰہِ حَاجَةٌ فِیْ اَن یَّدَعَ طَعَامَہ وَشَرَابَہ۔ (صحیح بخاری ۱/۲۵۵) ترجمہ: جو آدمی روزہ رکھتے ہوئے باطل کام اور باطل کلام نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یعنی روزے کے مقبول ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کھانا پینا چھوڑنے کے علاوہ معصیات ومنکرات سے بھی زبان وذہن اور دوسرے اعضاء کی حفاظت کرے، اگر کوئی شخص روزہ رکھے اور گناہ کی باتیں اور گناہ والے اعمال کرتا رہے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے روزے کی کوئی پروا نہیں۔ (معارف الحدیث۴/۰۰۰۰)
گویا مال کے حلال زرائع ہی اختیار کئے… لوٹ مار، کرپشن، رشوت، حق تلفی کے بجائے رشتے داروں، پڑوسیوں، یتیموں، مسکینوں پر خرچ کرنا جہنم سے نجات کا راستہ عطا کرتا ہےاسی لئے امی عائشہ سے مروی ہے کہ سیرت آنحضور صل اللہ علیہ وسلم کے آئینے میں اپنے مال کا اللہ کی راہ میں خرچ رمضان المبارک میں آندھی و طوفان کی طرح بڑھ جاتا تھا۔
Surat No 2 : سورة البقرة – Ayat No 177

لَیۡسَ الۡبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ  قِبَلَ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ وَ لٰکِنَّ الۡبِرَّ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ وَ الۡکِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ ۚ وَ اٰتَی الۡمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنَ  وَ ابۡنَ السَّبِیۡلِ  ۙ وَ السَّآئِلِیۡنَ وَ فِی الرِّقَابِ ۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ ۚ وَ الۡمُوۡفُوۡنَ بِعَہۡدِہِمۡ  اِذَا عٰہَدُوۡا ۚ وَ الصّٰبِرِیۡنَ فِی الۡبَاۡسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ  وَ حِیۡنَ الۡبَاۡسِ ؕ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ ﴿۱۷۷﴾

نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کر لیے یا مغرب کی طرف  ،  175 بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یوم آخر اور ملائکہ کو اور اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتے داروں اور یتیموں پر  ،  مسکینوں اور مسا فروں پر ،  مدد کے لیے ہاتھ پھیلانے والوں پر اور غلاموں کی رہائی پر خرچ کرے ،  نماز قائم کرے اور زکوٰة دے ۔  اور نیک وہ لوگ ہیں کہ جب عہد کریں تو اسے وفا کریں ،  اور تنگدستی و مصیبت کے وقت میں اور حق و باطل کی جنگ میں صبر کریں  ۔  یہ ہیں راستباز لوگ اور یہی لوگ متقی ہیں۔

**یتامی کے لئے الفت و محبت..
**یتیم کے ساتھ حسن سلوک… شفقت محبت اور انکی کفالت…. رفاقت رسول بھی حصول جنت کا راستہ بھی.. اسی لئے کئ سو گنا اجر پانے کے لئے یتامی کے ساتھ خصوصی طور پر شفقت کا اہتمام آج دنیا بھر میں عالمی یوم یتامی بھی رمضان المبارک میں ہی منایا جاتا ہے تاکہ اس اہم موقع پر وہ خود کو تنہا محسوس نہ کریں ۔
**فطرانہ و عید کا اہتمام :
فطرانہ…. زکوٰۃ کے ماسوا وہ پسندیدہ عمل ہے جو عید کی خوشیوں میں اپنے اردگرد مسلمان بہن بھائیوں کو یاد رکھتے ہوئے دیا جاتا ہے تاکہ وہ بھی بھرپور طریقے سے عید مناسکیں ۔
تحائف کا تبادلہ اور عید کی میٹھی سویاں ہر امیر غریب کے گھر خوشیاں بکھیرنے کا زریعہ بنتی ہین
بہ زبان شاعر
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے

آتے ہیں جو کام دوسروں کے
**احترام انسانیت کا مہینہ:
رمضان المبارک میں خاص طور پر گناہوں سے پرہیز کرنا نہایت ضروری ہے، ہر موٴمن کو یہ طے کرلینا چاہیے کہ اس برکت ورحمت اورمغفرت کے مہینے میں آنکھ، کان اور زبان غلط استعمال نہیں ہوگی، جھوٹ، غیبت، چغل خوری اور فضول باتوں سے مکمل پرہیز….. گویا مومن ایک دوسرے کو ہاتھ اور زبان سے اذیت نہیں دیتے….
حق آدمیت کا خیال رکھنا اور احترام انسانیت کی سعی….. خدمت خلق کے ذریعے ایسا اخلاقی عروج عطا کرتی ہے جو عام دنوں میں حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتا…. روزہ بلا تفریق جنس و مذہب احترام آدمیت سکھاتا ہے مسلم ہو یا غیر مسلم سب کا خیال…. آج بھی مملکت خداد پاکستان میں روزے دار اپنے غیر مسلم ملازمین کے کھانے پینے کا خیال رکھتے ہیں بلکہ انہیں عیدیاں اور تحائف بھی دیتے ہیں کہ وہ محروم نہ رہیں
*بزرگوں کی خدمت…
رمضان المبارک میں قیام لیل کی عبادات کے ہزارہا افضل ہونے کے ساتھ دن کی روشنی میں اپنے ،والدین، ساس سسر، خاندان کے بزرگوں کی خدمت بھی اعلی ریاضت قرار پاتی ہے… اکثر بزرگ بیمار اور ضعیف ہوتے ہیں سوچیں عام دنوں میں بیمار کی عیادت پر ستر ہزار فرشتوں کی معیت نصیب ہوتی ہے تو رمضان المبارک میں ان رحمت کے فرشتوں کی تعداد سات سو گنا بڑھ جاتی ہے تو.. خدمت کے نتائج و ثمرات ہزار گنا اجر بڑھا دیتے ہیں… طبیعت چاہے نہ چاہے مگر…. یہی اخلاق فاضلہ کی دلیل ہے
ع
آدمی سے بہتر ہے انساں ہونا

مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ

**دست خیر دراز کیجئے:
انسانیت کے درد کو سمجھ لینا انسان ہونے کی دلیل ہے آج ہماری ذاتی الماری کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا ہزاروں برینڈز کے ملبوسات، بیگز، جوتے، جیولری….. اور پھر نئ تیاری دوسری طرف محروم لاچار امت مسلمہ… کہیں خوراک کی  قلت، کہیں صاف پانی ناپید،،، بے روزگاری، بیماری اموات جنگ بد امنی اور داد رسی کی منتظر اداس آنکھیں…. ہمیں کیا کرنا ہوگا ۔
اپنی ڈشز میں کچھ کمی، سحر و افطار کا تعیش بند، بازاروں کے چکر ختم، جسم روزے سے تو دل خدمت خلق کے جذبے سے معمور، ارد گرد نظر دوڑائیں…. لاکھوں دست طلب  خالی ہیں… آگے بڑھئے. اور رمضان المبارک کو اپنے لئے حجت بنائیے….بہت تلاش بھی کرنا نہیں ہوگا کہ….
لباس و خوراک و دیگر ضروریات زندگی کے تحائف کی تقسیم،،، ،زکوٰۃ و صدقات کے لئے اس نیت سے بے تاب ہونا کہ انفاق فی سبیل اللہ ” پروردگار کو راضی کرنے کا سبب بن جائے….
وہ پکار یاد آتی ہے.  
  اے میرے بندے میں پیاسا تھا…. تونے پانی نہیں پلایا میں بھوکا تھا تونے رزق نہیں پہنچایا… اور بندہ حیرت زدہ پوچھے گا اے میرے رب تو کب بھوکا پیاسا تھا فرمان ہوگا
میرا فلاں بندہ بھوکا تھا…
فلاں پیاسا تھا
فلاں بے لباس تھا
تو اگر اسکی بھوک پیاس مٹادیتا
تو گویا مجھے پاتا…. بے نیازی،،، بے حسی ساری نیکیوں کو ضائع کردیتی ہے۔

حدیث شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رُبَّ صَائِمٍ لَیْسَ لَہ مِنْ صِیَامِہ اِلَّا الْجُوْعُ وَرُبَّ قَائِمٍ لَیْسَ لَہ مِنْ قِیَامِہ اِلَّا السَّہْرُ۔ (سنن ابن ماجہ حدیث ۱۶۹۰۔ سنن نسائی حدیث ۳۳۳۳) ترجمہ: بہت سے روزہ رکھنے والے ایسے ہیں کہ ان کو روزے کے ثمرات میں سے بھوکا رہنے کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا، اور بہت سے شب بیدار ایسے ہیں کہ ان کو رات کے جاگنے (کی مشقت) کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔…
مومن تو وہ ہے جو روزہ رکھ کر نیکیوں میں مسابقت کرتا ہے…… اپنی ہی نہیں دوسروں کی بھی فکر کرتاہے .

*حق کی دعوت… سب سے عظیم خدمت :
آج انسانیت سکون، امن و سلامتی اور خیر کی متلاشی ہے صنف نازک ہے تو خود کو صنف آہن ثابت کرتے کرتے ٹوٹ چکی ہے….نگاہ مردمومن جو تقدیر بدل سکتی ہے آج اشکبار ہے… ننھے معصوم نوخیز جنت کے پھول جیسے بچوں کو کوئ تحفظ کا سائبان میسر نہیں…. ایسے میں سب سے عظیم تحفہ رمضان المبارک کے توسط سے نصیب ہونے والی خوشی
ھدی و بشری للمومنین “”
شفاءلما فی الصدور “”

“” فرقان… حق و باطل کا فرق کھول کر بتانے والا راستہ دکھانا :
یہ رمضان المبارک کا تحفہ ہی نہیں انسانیت کی سب سے بڑی خدمت بھی ہے….
یہ اعلی خدمت انبیاء کی سنت اور امت مسلمہ کا مقصد وجود ہے ۔
مومن اپنے لئے جو پسند کرتا ہے وہی اپنے مومن بھائ کے لئے بھی پسند کرتا ہے۔
تو کیوں نہ جنت کے اس حسین راستے پر اپنے ساتھ اپنے گھر والوں، محلے، پڑوس ،رشتے دار اور دوست احباب کو بھی مدعو کریں ۔
کوئ دروازہ رہ نہ جائے
ہر دہلیز پر دستک
حق کی صداقت
دین کی دعوت
سب سے بڑی خدمت

ع بقول شاعر
لوگوں کو اپنی فکر ہے لیکن مجھے ندیم

بزم حیات و نظم گلستاں کی فکر ہے

رمضان المبارک میں بار بار رب کی یہ پکار مال کی تقسیم اور ہر طرح کے رزق کی فراہمی اللہ کے بندوں کو ہی نہیں سیراب کرتی بلکہ رب کی خوشنودی کا زریعہ بھی بن جاتی ہے. خدمت میں عظمت مقدر بن جاتی ہے..
ع.. جو چاہے چمکالے  اس بار مقدر کا ستارہ
رمضان کی کہکشاں میں بڑی سیل لگی ہے
آئیے نیت کریں رب کو راضی کرینگے
مسکراہٹیں بکھیرینگے
رنج و الم سمیٹں گے۔۔۔۔۔۔۔۔