Home » سورہ الکہف – ایمن طارق
اسلامیات

سورہ الکہف – ایمن طارق

سورہ کہف چیلینج خصوصی طور پر بچوں کے لیے اور عمومی طور پر پوری فیملی کے لیے :
❇️اس جمعے سے اگلے جمعے تک سب مل کر ہمارے اس چیلینج میں شامل ہوں جمعے کے دن سورہ کہف کی کہانیوں کی سمجھ کے زریعے دجال کے فتنے سے بچنے کے لیے پروٹیکشن شیلڈ بنائیں ۔

✅آج کے دن فیملی کے ساتھ بیٹھ کر اماں یا ابا یا کسی اور بڑے نے اپنے بچوں کو دجال کے فتنے اور اس کی اسپیشل پاور کے بارے میں ابتدائی معلومات دینی ہے۔ یعنی جسطرح وہ ایمان ، علم ، دولت اور طاقت کے استعمال سے لوگوں کو آزمائے گا ۔ اسی طرح سورہ کہف کی فضیلت بھی بتانی ہے ۔ اور کیسے ہم سب مل کر قرآن کو سمجھ کر دجال سے بچیں گے۔ اور اس جنت کے لیے کوشش کریں گے جس کی وسعت آسمان زمین جتنی ہے ۔
✅بچوں کو یہ ٹاسک دیے جائیں گے جو آج کے ہی دن پورے ہوں یا اگلے جمعے تک لیکن شرط یہ ہوگی کہ سنجیدگی سے اس پر کام کیا جاۓ ۔
کوشش یہ ہوگی کہ اس ٹاسک کے کمپلیٹ ہونے پر سب مل کوئی اچھی سی چیز کھائیں گے یا کوئی اور ریوارڈ سب کے لیے ۔
🔰دس سال سے اوپر کے بچے : اُنہیں موسی علیہ سلام اور خضر علیہ اسلام کا واقعہ اور باغ والا واقعہ ریسرچ کرنے کے لیے دیں اور ریسرچ اس سوال پرمبنی ہوگی کہ اس سے کیا سبق ملتا ہے اور اسکا سیکریٹ سمجھنے سے دجال کے مقابلے کے لیے ہمیں کونسی اسپیشل پاور مل سکتی ہے ؟

🔰 دس سال سے نیچے کے بچے : اُنہیں اصحاب کہف اور ذولقرنین والا واقعہ ریسرچ کرنے کے لیے دیں اور ریسرچ اس سوال پر مبنی ہوگی کہ اس سے کیا سبق ملتا ہے اور اسکا سیکریٹ سمجھنے سے دجال کے مقابلے کے لیے ہمیں کونسی اسپیشل پاور مل سکتی ہے ؟
اضافی سوال :
۱۔ایمان کی آزمائش دنیا میں کیسے ہوتی ہے اور کہاں کہاں سے ؟
۲۔ایمان کی مضبوطی کے لیے ہم اپنی زندگی میں کونسے کام ہر دن کر سکتے ہیں؟
۳۔کونسا علم ہمارے لیے فائدہ مند ہے اور کون سا نقصان دہ ؟
۴۔سوال پوچھنے کے آداب کیا ہونے چاہیں ؟
۴۔دولت اور آسائشات انسان کو کیسے اللہ سے قریب یا دور کرسکتی ہے ؟
۵۔ہم اپنے مال کو کہاڻ خرچ کرسکتے ہیں جن سے اللہ سبحان و تعالی خوش ہوں؟
۶۔طاقت کا غلط استعمال کیا ہے اور طاقت اور صلاحیت کو کہاں استعمال کرنا چاہیے ؟
۷۔ ہمارے پاس کونسی صلاحیت ہے جس سے ہم انسانوں کو فائدہ پہنچا سکیں ؟

اس کے ساتھ اگر سورہ کہف کی ابتدائی دس آیات یاد نہیں تو اس ہفتے کے دوران سب کو انہیں یاد کرنے کا ٹارگٹ ہو ۔
بچوں کے ٹاسک اُنہیں پرنٹ کرکے دیے جاسکتے ہیں یا اُن کے موبائل یا ای میل کے زریعے 😊
🌠فیملی ریفلیکشن ٹائم 🌠
جب بھی یہ ٹاسک مکمل ہوجائے ایک فیملی سرکل منعقد ہو ۔ بچے اپنے ٹاپک کو ایکسپلین کریں اور شرط یہ ہو کہ اس پر کام کے ساتھ اس کو سب کے سامنے اس کو پریزینٹ بھی کرنا ہے ۔
بچوں کے بعد اس سارے موضوع کو سمیٹنے کے لیے کسی بڑے کو آسان الفاظ میں یہ خلاصہ رکھنا ہوگا کہ فتنہ دجال سے بچنے کے لیے سورہ کہف کے واقعات کو سمجھنا کیوں ضروری ہے ؟ اس لاک ڈاون میں ہمارے پاس جو وقت ہے اس کے مثبت استعمال سے ہم فتنہ دجال سے بچنے کے لیے اپنے ایمان کی مضبوطی پر کیسے کام کرسکتے ہیں ؟؟ اس سرکل کے دوران کوشش کرکے اپنے موبائیل پر وڈیوز نہ بنائ جائیں تاکہ بچوں کو بھی یہ آئیڈیا ہو کہ کچھ کام ہم صرف اپنی بہتری کے لیے کرتے ہیں جن کی تشہیر ضروری نہیں ۔
✅✅
یہ ہوسکتا ہے کہ اپنے خاندان کے دیگر بچوں کو بھی اس ٹاسک میں شریک کریں اور اختتام سرکل میں سب بزریعہ اسکائیپ ، زوم اکھٹے ہوجائیں ۔
🎉اس اچیومینٹ کو سیلیبریٹ ضرور کریں کہ ہم نے قرآن کو سیکھنے کے لیے اپنا وقت لگایا الحمدللّٰہ ۔
چاہیں تو اپ بھی یہ چیلینج اپنے دوست احباب سے شئر کریں اور بچوں کے درمیان اس کا مقابلہ ہو ۔ اس ساری محنت میں اگر آپ اور بچے شریک ہوں تو شکر ادا کرنا ضروری کہ اللہ نے عقل اور سمجھ دی اور وقت میں برکت دی کہ ہم یہ کرنے کے قابل ہوے ۔

(‎مطالعہ سورہ کہف کے نوٹس)
‎سورہ کہف دجال کے فتنے میں ڈھال کیوں ہے؟
‎دجال کی دنیا میں آمد ہوگی اور چار ٹیسٹ اُس کے ساتھ ہوں گے
ا‎۔وہ لوگوں کو اپنی عبادت کی ترغیب دے گا یعنی ایمان کی آزمائش ۔
‎۲۔وہ لوگوں کو اپنی دولت سے اپنی طرف متوجہ کرے گا یعنی دنیا کی آسائشات کی کشش کی آزمائش
‎۳۔وہ لوگوں کو اپنے علم سے متاثر کرے گا اور انہیں ایسی خبریں دے گا جسے وہ نہ جانتے ہوں گے یعنی علم سے آزمائش
‎۴۔وہ کائنات کے مختلف حصوں پر اپنی طاقت ظاہر کرے گا یعنی اس کی طاقت اور قدرت بھی لوگوں کو آزمائش میں ڈالے گی ۔

‎سورہ کہف میں چار واقعات بیان کئے گۓ ہیں ۔ اصحاب کہف کا واقعہ ، دوسرا اس آدمی کا واقعہ کی جس نے تکبر کیا اور اللہ کو بھلا دیا ، تیسرا ذولقرنین کا واقعہ اور چوتھا موسی اور خضر کا واقعہ ۔ اور ان چار واقعات میں پہلے میں ایمان کی آزمائش کا تذکرہ ہے ۔ دوسرے میں دنیا کی دولت کی آزمائش ، تیسرے میں طاقت و اقتدار کی آزمائش اور چوتھے میں علم کی آزمائش ۔ ان چاروں واقعات میں چار آزمائشوں کا تزکرہ ہے۔
‎سورہ کہف کے مطالعے سے جو جوابات ملتے ہیں :
‎۱۔ اور ان سے دنیا کی زندگی کی مثال بیان کرو مثال ایک پانی کی ہے جسے ہم نے آسمان سے برسایا پھر زمین کی روئیدگی پانی کے ساتھ مل گئی ۔پھر وہ ریزہ ریز ہ ہو گئی کہ اسے ہوا ئیں اڑاتی پھرتی ہیں اور الله ہر چیز پر قدرت رکنے والا ہے(۴۵)
‎ایک مومن کو دنیا کی بے ثباتی کا یقین ہونا ضروری ہے ۔ دنیا تو آخرت تک جانے کے لیے بس ایک انتظار گاہ ہے کچھ دیر بیٹھے اور بس پھر آگے روانہ ۔دنیا کی حقیقت جتنی دل میں پختہ ہوگی مومن دنیا اور اس کی کشش کے فتنے سے بچا رہے گا ۔
‎۲۔ کہہ دو کہ میں بھی تمہارے جیسا آدمی ہی ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے پھر جو کوئی اپنے رب سے ملنے کی امید رکھے تو اسے چاہیئے کہ اچھے کام کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے(۱۱۰)

‎مومن کے لیے دنیا میں آمد اور وقت گزارنے کے لیے کلئیر گاہیڈلائن موجود ہے ۔ کسی کنفیوژن کی گنجائش نہیں اور اللہ کے علاوہ کسی کی بندگی کا تصور نہیں ۔ رب سے ملاقات اس کی آرزو ہے اور اس آرزو کی تکمیل کی شرط شرک سے پرہیز ہے ۔
‎۳۔ . تو ان لوگو ں کی صحبت میں رہ جو صبح اور شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اسی کی رضا مندی چاہتے ہیں اور تو اپنی آنکھوں کو ان سے نہ ہٹا کہ دنیا کی زندگی کی زینت تلاش کرنے لگ جائے اور اس شخص کا کہنا نہ مان جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیاہے اور اپنی خواہش کے تابع ہو گیا ہے۔ اور ا سکا معاملہ حد سے گزر ا ہوا ہے۔(۲۸)
‎دجال کے فتنے سے بچنے کے لیے اہم حقیقت ہمیں یہ سمجھ آتی ہے کہ انسان کو راہ راست پر رکھنے اور فتنوں سے بچنے کے لیے صحبت بہت اہم ہے اور اللہ سبحان و تعالی نے صحبت کے حوالے سے واضح ہدایت اس سورہ میں دی ہیں۔
‎۴۔ اورجس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تو زمین کو صاف میدان دیکھے گا اور سب کو جمع کریں گے اور ان میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑیں گے۔ اور سب تیرے رب کے سامنے صف باندھ کر پیش کیے جائیں گے۔ البتہ تم ہمارے پاس آئے ہو جیسا ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا بلکہ تم نے خیال کیا تھا کہ ہم تمہارے لیے کوئی وعدہ مقرر نہ کریں گے(۴۷-۴۸)

‎سورہ کہف ایمان کو مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے اور فتنوں اور آزمائشوں کے دور میں اب سے بڑی پروٹیکشن یہی ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کی حقیقت اور رب کے پاس واپسی کا دن ہمیشہ یاد رہے ۔ وہ رب جو حق اور باطل کو ایک دوسرے سے الگ الگ کرنے والا ہے اور انسان کو اس کے سامنے حاضر ہوکر اپنے ہر ہر عمل کا جواب دینا ہے ۔ ‎اس سورہ کا نام ال کہف یعنی غار اور غار کا تصور اندھیری اور تنگ جگہ ہے جو ہر طرف سے بند ہو لیکن اللہ تعالی نے اس غار کو اصحاب کہف کے لیے محفوظ بنایا اور ہمارے لیے کیا سبق ہے۔ کہ دنیا میں بھی ایسے حالات اور مواقع آئیں گے جب غار کی طرح تاریکی اور تنہائی چاروں جانب ہو لیکن اگر اللہ سبحان وتعالی پر ایمان پختہ ہو اور اس کے حضور حاضری کا یقین ہو اس کی طاقت ، قدرت وحدانیت پر یقین ہو اللہ پر توکل ہو اور انسان اپنی زندگی کے مقصد اور دنیا میں اللہ کے دین کے لیے کوششوں میں لگا رہے تو اللہ تعالی اُس کے لیے ہر مشکل سے نکلنے کے راستے بنا دیتے ہیں۔
‎اس سورہ کا آغاز اور اختتام اللہ سبحان و تعالی کی بابرکت کتاب کے تذکرے سے ہوتا ہے یعنی دنیا میں آزمائشوں temptations سے بچنا تب ہی ممکن ہے جب اللہ کی کتاب کو زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنا لیا جاۓ اور اس کی آیات کی
‎تلاوت ، ان پر غوروفکر اور تدبر کے زریعے خود کو فتنے سے محفوظ رکھا جاۓ ۔
☑️اس تحریر سے فائدہ ہو تو دعاوں میں یاد رکھئیے۔

Add Comment

Click here to post a comment