Home » انہوں نے حق بات پہچان لی ہے اور ہم نے؟ – لطیف النساء
اسلامیات

انہوں نے حق بات پہچان لی ہے اور ہم نے؟ – لطیف النساء

تحریر خاموش زبان ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے آنکھ کان دل دیئے ہیں سنو، دیکھو، سمجھو، محسوس کرو، گانے توخوب سمجھ آت ہیں:
باتیں جو زباں پہ آ نہ سکیں نظروں نے کہیں نظروں نے سنی والی بات ہے مگر جس نے پڑھانہیں، سنا نہیں، سمجھا نہیں تو سمجھیں اس نے تو زندگی ہی بربادکی۔ کویت میں چند سو مکانات بنانے کاٹھیکہ پاکستان کو دیا گیا تو وہاں کام کرنے والے ملازمین نے ایک عارضی مسجد بنوا کربا جماعت نماز کا اہتمام کر لیا۔

کچھ عرصے بعد رمضان آگیا اور وہاں تراویح پڑھوانے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ ان پاکستانیوں کے ساتھ ایک حافظ بھی موجود تھا۔ مگر وہاں حافظ صاحب حکومت سے طلب کئے جاتے ہیں جنکے پہنچنے میں تین چار روز لگ گئے تو پاکستانی حافظ نے تراویح پڑھانا شروع کردی۔ پھروہاں کی حکومت سے بھیجا گیا حافظ بھی وہاں پہنچ گیا جب پاکستانی حافظ تراویح پڑھا رہا تھا۔ تراویح ختم ہوئی تو عربی حافظ نے جب پاکستانی حافظ سے کہا کہ تمھیں یہ اختیار کس نے دیاکہ تم ہماری کتاب قر آن سے کھیل کھیلو؟؟؟ کیا تم اسے ایک ہی رات میں ختم کرنا چاہتے ہو؟ یہ سب اس نے ظاہر ہے۔ عربی میں کہا۔ پاکستانی حافظ کچھ نہ سمجھ پایا اور ادھر ادھر دیکھنے لگا اتنے میں ایک پاکستانی جو عربی جانتا تھا آیا اور پاکستانی حافظ کو بتایا کہ عربی حافظ کیا پوچھ رہا ہے؟ تو پاکستانی حافظ نے جواب دیا کہ میں نے کونسی غلطی کر دی؟ عربی حافظ نے جواب دیا جس کا ترجمہ تھا کہ کیا تم لوگ اسی طرح پڑھتے ہو جیسے موٹر سائیل پھٹ پھٹ پھٹ (فت فت فت)؟؟؟
اور مجھے ذرا یہ تو بتاؤ کہ تم کو میری زبان سمجھ نہیں آرہی اور تم نے قرآن کیسے یاد کرلیا…؟

واقعی یہ تو میرا بھی سوال ہے مگر سبحان اللہ یہ اللہ کی زبان ہے یادہو ہی جاتی ہے اس لئے بچے بھی اس کی سورتیں نا کچھ سمجھتے ہوئے یاد کر لیتے ہیں۔ سبحان اللہ بہر حال اس نے پاکستانی سے اصرار کیا کہ بولو، بولو۔۔۔؟کیاتم نے قرآن میں قرآن پڑھنے کے اصول نہیں دیکھے کہ قرآن کیسے پڑھا جاتا ہے۔۔ ہے کیا تم نے یہ آیت نہیں پڑھی کہ: وَقُرْ اٰ نًافَرَقْنٰہُُ لِتَقْراَہ عَلَی النَّاسِ عَلیٰ مُکْثٍ وّنَزَّلْنٰہُ تَنزِیْلًاo(سورۃ الاسرا ء۔ آیت 16) اور ہم نے قرآن کو وقتاً فوقتاً اس لئے اُتارا کہ تم مہلت کے ساتھ اسے لوگوں کو پڑھ کر سناؤ اور اس کا مطلب انہیں ذہن نشین کراؤ۔۔۔۔ اور پھر یہ آیت نہیں دیکھی تم نے؟
ورتل القران تر تیلاًo (سورہ المزمل آیت 4)اور قر آن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔ پھر تم کیسے اس طرح بھاگم بھاگ چلے جا رہے ہو؟ تم نے قرآن کو مقتدیوں کو تو ذہن نشین کر ایا ہی نہیں، تم تو اسے ایک رات میں ختم کرنے پر تلے ہوئے نظرآئے، پاکستانی حافظ نے ٹوٹی پھوٹی عربی میں کہا کہ “واللہ یا شیخ انا ماعرف ایش تقول “قسم ہے یا شیخ میں کچھ نہیں سمجھا کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ عربی حافظ نے جواب دیا کہ جب تم کچھ سمجھتے ہی نہیں تو لوگوں کے آگے کیوں کھڑے ہوتے ہو؟ اس نے عربی میں کہا کہ تم بہت تیزی سے قرآن پڑھتے ہو یہ جو لوگ تمھارے پیچھے کھڑے ہیں یہ سنتے ہونگے مگر سمجھ کچھ نہیں رہے ہونگے۔۔۔اگریہ اس نے عربی میں کہا تھا جو بہت خوبصورت زبانی ہے کہ انت تقراء بالسر عد۔۔۔ لوراک یمکن بسمعون ولا کن لا یفھمون ” اور ساتھ اس نے یعنی عربی حافظ نے کہا کہ اگر تم نے قرآن پاک کے ساتھ یہ کھیل کھیلا تو میں تمھیں پولیس کے حوالے کر دونگا۔

ساتھیوں یہ واقعہ میں نے پچھلے سال پڑھا تھا میرے دماغ میں کھٹک رہا تھا یہ تو ایک واقعہ ہے مگر واقعی اگر دیکھا جائے تو پاکستانیوں کی خود اپنے گھروں کی بلکہ گھر گھر کی کہانی ہے۔۔۔ عہد ایسا عہد رسالت امت میں جب قر آن پڑھا جاتا تھا تو سننے والوں کی کیا کیفیت ہوتی تھی؟ اللہ فرماتا ہے (سورۃ المائدہ آیت 83) اور جب یہ لوگ وہ کتاب سنتے ہیں جو ہم نے نازل کی اپنے پیغمبر پر تو ان کی آنکھوں کی طرف دیکھو کہ کیسے آنسو رواں دواں ہیں اس لیے کہ انھوں نے حق بات پہچان لی ہے۔۔۔ اور ہمارے ہاں جب قرآن پڑھاجا تا ہے تو سننے والوں پر غنودگی طاری ہو رہی ہوتی ہے اور دل ہی دل میں دعا کر رہے ہوتے ہیں کہ جلدی جان چھوٹے توگھر کو پہنچیں۔۔۔کیونکہ ہم سمجھتے ہی نہیں کہ کیا پڑھا جارہا ہے اور کیا کہا جا رہا ہے؟ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں کہ (سورۃ الحشرآیت 21) اور اس قرآن کی اثرانگیزی کا یہ عالم ہے کہ اگر ہم (مثال کے طور پر) اسے کسی پہاڑ پر نازل کر دیتے تو تم دیکھتے کہ اس کی خلاف ورزی کے احساس سے اس پر لرزہ طاری ہو جاتا اور ذمہ داری کے خیال سے وہ ریزہ ریزہ ہو جاتا۔۔۔” اسی قسم کی مثالیں اسی لئے دی گئی ہیں کہ لوگ سمجھیں۔ عقل و فکر سے کام لیں اور سوچیں کہ قرآن کن کن عظمتوں کا مالک ہے۔ اس میں کونسا عظیم انسانی فلاحی نظام پیش کیا گیا ہے۔

اس پر عمل کرنے میں کون کونسی کامیابیاں بیان کی گئی ہیں اور اسی کی خلاف ورزی سے کیا نتائج برآمد ہونگے؟۔۔اس واقعے کو جوں کا توں سن کر یا پڑھکر دوبارہ تحریری طور پر لکھنے کا مقصد سب پر واضح ہو جائے اسی دعا اور خواہش کے ساتھ لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور ہم سب کو دین کا صحیح شعور عطا فرمائے (آمین) قرآن کی زبان کا ترجمہ ہمیں اپنی زبانوں میں ازبر ہونا چاہئے۔ صرف قر آن کو پڑھ لینا بے شک اس کا بھی اجر ہے مگر جب تک سمجھیں گے نہیں ترجمہ تفسیر جانیں گے نہیں تو عمل کیسے کرینگے؟جب کچھ سمجھ ہی نہیں آیا تو وہ دل کی تشنگی کیسے بجھے گی؟ صحیح اور غلط کی تمیز کیسے آئے گی؟ واقعات کو سمجھیں گے نہیں تو انکا انجام اور سبق سے کیسے واقف ہونگے اور کیونکرگنا ہوں سے بچیں گے؟ جب خود ہی نہ بچ پائے نہ فیصلہ کر پائے تو یہ ذمہ داری کہ اللہ کے پیغام کو اپنے اوپر کیسے لاگو کرینگے تو دوسروں کو کیسے سمجھا پائیں گے وہ شوق جوش ولولہ اور وہ ایمانی طاقت کیسے پیدا ہو پائے گی؟ ہم نے چند سورتیں یاد کر لیں اور نمازوں میں بس دہرا لیں کچھ دعائیں یاد کر لیں دہرالیں، وہ بھی بسااوقات توجہ غور دلچسپی سے بھی نہیں بلکہ اس کو عادت سمجھ کر بس کر لیا۔ عبادت سمجھکر نہیں، اس لئے تو ہمارے اندر کوتا ہیاں ہیں کمیاں ہیں۔ سدھا ر نہیں آرہا!!

ماشا اللہ ہمارے ہاں کتنے حافظ ہیں، قاری ہیں، ہر عمر کے مرد، عورتیں، بچے، بوڑھے، جوان لڑکیاں مگرپھر بھی ہماری عبادات میں ہمارے اعمال میں وہ بدلاؤ نہیں، جو اس خیر الامہ کو اس امت وسط کو درکار ہے۔ رتبہ تو اللہ نے اتنا بڑا ہمیں دیا سبحان اللہ!شکر الحمد للہ! مگر کیا ہم اس پر پورے اترے ہیں؟ جو والدین اپنے بچوں کو حافظ یا حافظہ بناتے ہیں۔ ان میں سے شعوری طور پر پڑھے لکھے والدین جو قرآن کی زبان اس کے ترجمے اور تفسیر کے ساتھ سمجھ کر بچوں کو سکھاتے ہیں وہ بہت ہی مختلف اور نمایاں ہوتے ہیں ان کے کرداراور اعمال اورروئیے جو بتا رہے ہوتے ہیں کہ وہ کیا ہیں؟ انہیں اپنا تعارف کروانے کی ضرورت نہیں ہوتی وہ اپنی مثال آپ ہوتے ہیں۔ جیسے ڈ اکٹر ذاکر نائیک،محترمہ فرحت ہاشمی صاحبہ وغیرہ مگر اور بھی بہت ہونگے، مگر ہمیں عربی سمجھ کر پڑھنے کی ضرورت ہے جن لوگوں نے قرآن بچپن میں حفظ کر لیا ہے اگر وہ ترجمہ تفسیر پڑھیں تو ان میں حیران کن تبدیلی نظر آئے گی۔ صرف حافظ یا حافظہ ہوتے ہوئے کیونکہ انہیں کچھ سمجھ نہیں آتا لہٰذا وہ بھی زمانے کی گردش میں اٹے ہوئے عام لوگوں کی طرح ذرا ہٹ کے ہی ہوتے ہیں۔ فیشن لباس، انداز، اسٹائل سے کہیں سے بھی حافظ یا حافظہ نہیں لگتے۔ میں یہ نہیں کہتی کہ انکا کوئی واضح فرق نظر آتا ہے اور وہ عام لوگوں سے ذرا ہٹ کر ہوتے ہیں۔

بلکہ بسا اوقات انہیں دیکھ کریقین نہیں آتا کہ وہ حافظ یا حافظہ ہیں کیونکہ اُن کے ماحول میں وہ تاثر نہیں ہوتا وہ جاذبیت بھی نہیں ہوتی انکا کردار اتنا مضبوط نہیں ہوتا جتنا ہونا چاہیے۔ اُن کے اہل خانہ مرد ہوں یا عورت وہ تک اُن کے زیر اثر نہیں ہوتے۔ ابھی حال ہی میں میں نے ایک محترمہ کو دیکھا پر بہت خوشی اخلاق تھیں مگر حلیے سے غیر ملکی لگ رہی تھیں، اسی طرح اکثر خواتین مغربی لگتی ہیں،کچھ معذرت کے ساتھ انڈین؟ مگر ان پر حیرت ہوتی ہے کہ ان کے شوہر حافظ ہیں یا ان کی اہلیہ حافظہ ہیں! تو تھوڑا افسوس ہوتا ہے۔ لڑکیاں شادی بیاہ میں جو نظر آتی ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ یہ حافظہ ہیں تو افسوس ہوتا ہے انکے حلیے اور انداز دیکھکر! میرا مطلب کسی کی دل آزاری کرنا نہیں توفیق تو اللہ ہی دیتا ہے۔ جب کچھ بات سمجھ ہی نہ آئی ہوئی ہو تو ماحول کو وہ بھی کیسے نظر انداز کریں؟ والی بات ہے پھر بھی میری دعا ہے اور گزارش ہے اور کوشش بھی کہ جتنے حفاظ ہیں جتنی حافظہ خواتین بیٹیاں ہیں، بہنیں ہیں، پہلی فرصت میں عربی ترجمے کے ساتھ سیکھیں سمجھیں آپ پر تو دہری ذمہ داری آتی ہے کہ اللہ نے آپ کے حافظے میں قرآن محفوظ کر دیا اب اس کو اس کے پیغام کو دل میں اتار لیں تاکہ ہمیں بہترین معلمہ اور معلم، مُدرسہ اور مدرسین ملیں اور مجھ سمیت میرے تمام مسلم بہن بھائی دین کو شعوری طور پر سمجھیں اپنے اوپر نافذ کریں اور آگے بڑھائیں۔ کیونکہ ہر کوئی حافظ نہیں ہو سکتا! آپ تو چنیدہ لوگ ہو!! سبحان اللہ! روشن ستارے ہو! مگر تھوڑی نہیں پھر پور توجہ سے اس کتاب قرآن مجید کا متن سمجھیں اور سمجھائیں تاکہ ہم سب کی دین اور دنیامیں عافیت ہو (آمین)۔ ہماری آنکھیں کھل جائیں اور ہم اپنے مقصد حیات کو صحیح طور پر ادا کرسکیں۔ انشاء اللہ
بس ایک دیا تم جلاددو کسی صداقت کا
زمانہ عمر بھر یوں ہی ہوائیں دیگا

Add Comment

Click here to post a comment