غداری کا نتیجہ – جہانزیب راضی




شاہ فیصل مرحوم سعودی عرب کے بہترین،اسلام پسنداور نامور فرمانرواؤں میں سے ایک تھے۔ یہ 1964 میں سعودی عرب کے فرمانروا بنے اور 25 مارچ 1976 کو ان کے اپنے بھتیجے نے گولیاں مار کر ان کو شہید کردیا۔یہ امر بھی کسی حیرت سے کم نہیں ہے کہ پاکستان میں ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس کے کرتا دھرتاؤں میں سے کسی ایک کوبھی نہیں بخشا گیا۔حافظ الاسد، شاہ فیصل، صدام حسین، ذوالفقار علی بھٹو اور معمر قذافی ان سب کو ہی عبرت کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
بہر حال ہمارا موضوع یہ نہیں ہے اب ہم اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں۔ شاہ فیصل مرحوم ایک دفعہ اپنے علاج کے سلسلے میں جرمنی گئے تو ان کے جرمن ڈاکٹر نے شاہ فیصل سے کہا “آپ لوگ کہتے ہیں کہ آپ کا قرآن حیرت انگیز معجزہ ہے، جو شخص بھی اس کو پڑھتا ہے اس کا دیوانہ ہوجاتا ہے، لیکن معذرت کے ساتھ مجھے تو اس میں ایسی کوئی خاص بات نظر نہیں آئی۔” شاہ فیصل مسکرائے اور پوچھا “آپ نے قرآن پڑھا ہے یا اس کا ترجمہ؟” اس نے کچھ پریشانی کے ساتھ جواب دیا “میں نے تو جرمن زبان میں پڑھا ہے”۔ آپ نے فرمایا اس کا مطلب آپ نے قرآن نہیں پڑھا بلکہ ترجمہ پڑھا ہے، پہلے آپ عربی سیکھیں اور پھر قرآن پڑھیں”۔ جب شافیصل اگلی دفعہ جرمنی گئے تو معلوم ہوا کہ اس ڈاکٹر نے اسلام قبول کرلیا ہے۔
یہ ہے قرآن اور یہ ہے اس کا کمال ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا مفہوم ہے کہ “جس نے قرآن کی ایک آیت کو سمجھنے کی کوشش کی اور اس پر غور و فکر کیا یہ ساری رات عبادت سے زیادہ افضل ہے۔” ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ قرآن ہماری زبان میں نہیں ہے اور خوش قسمتی یہ ہے کہ یہ جس زبان میں ہے وہ ہماری زبان کا 80 فیصد ہے یعنی اگراردو بولنے والےلوگ صرف 20 فیصد وقت قرآن کی عربی سمجھنے پر لگائیں تو وہ 80 فیصد قرآن کا ترجمہ خود سے کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔
سب سے بڑی غلط فہمی جو قرآن کے حوالے سے ہمارے دل دماغ میں ہے وہ اس کی تحریر ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قرآن اسی طرح نازل ہوا تھا، حضرت جبرائیل علیہ السلام کسی بھی وقت آتے تھے وحی نازل ہوتی تھی اور وہ واپس چلے جاتے تھے لیکن ایسا نہیں تھا کم و بیش پورے کا پورا قرآن “تقریر” کی صورت میں نازل ہوا ہے۔ کسی خاص موقع پر، جنگ پر، ہجرت پر، کسی وفد سے ملاقات پر، یہودیوں کے سوال پر، معراج کے واقعہ پر، منافقین کی کارستانیوں پر یا دین دشمنوں کے بغض پر۔ عین اسی وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام ایک تقریر لے کر نازل ہوتے اور اسی وقت یہ تقریر “کردی” جاتی۔غم کی جگہ کا ماحول بھی غمزدہ ہوتا ہے اور خوشی کے ماحول میں خوشی رچ بس جاتی ہے۔
ٹھیک اسی طرح جب اس ماحول اور حالات میں اُسی سے متعلق یہ تقریر سنائی جاتی تو لوگ انگلیاں دانتوں میں دبا لیتے، حیرت اور فرط جذبات سے ان کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے اور وہ زاروقطار روتے رہتے۔ یہی وجہ ہے کہ ولید بن مغیرہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کش لے کر آیا اور مختلف آپشنز پیش کیے تو آپ نے پوری گفتگو تحمل سے سننے کے بعد فرمایا “اگر تمہاری بات مکمل ہو گئی ہو تو میں بولوں؟” اور پھر آپ نےسورہ حم سجدہ کی چند آیات تلاوت کیں اور ولید بن مغیرہ کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔اس قسم کے سینکڑوں واقعات آپ کو تفسیر کی کتابوں میں مل جائیں گے لیکن بعد میں ہم نے دیگر مذہبی کتابوں کی طرح قرآن کو بھی نعوذباللہ محض “منتر” کی کتاب سمجھ کر بے سوچےسمجھے پڑھنا شروع کردیا۔ اس لیے قرآن ہمارے لئے بے اثر ہو گیا۔
قرآن کا اعجاز یہ ہے کہ اگرچہ اس کا “کانٹیکسٹ” تبدیل ہو گیا ہے لیکن اس کا “کونٹینٹ” وہی ہے اور اگر آج بھی اس کے الفاظ کو آپ اپنے ماحول پر منطبق کریں گے تو حیرت کے سمندر آپ پروا ہونے لگیں گے۔ سب سے بڑا المیہ ہمارے ساتھ یہ ہوا ہے کہ ہم نے اسلام کو “مذہب” سمجھ لیا ہے۔ جس طرح ہندوؤں کے لئے ہندوازم ہے، عیسائیوں کے لئیے عیسائیت ہےاور یہودیوں کے لئے یہودیت ہے، بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایک بڑا طبقہ بلکہ اگر کہا جائے کہ امت کی اکثریت اسلام کو ایک “مذہب” سمجھتی ہے اور مذہب میں تو شادی بیاہ اورعبادات سے متعلق بہت مختصر سے احکامات اور طریقے موجود ہوتے ہیں جبکہ دین تو پیدائش سے لے کر موت تک تمام مراحل کو انسان کے سامنے پیش کرتا ہے۔ دن اور رات کے 24 گھنٹے اسی کے مطابق ہوتے ہیں۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ بطور سربراہ حکومت یا بطور مسلمان شہری اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں احکامات اور طریقے نہ سکھائے ہوں لیکن کیونکہ ہمارا “کانٹیکسٹ” تبدیل ہوچکا ہے اسی لئے قرآن کا “کونٹینٹ” بھی ہمیں بس ثواب حاصل کرنے کا ذریعہ لگنے لگا ہے۔
ہم اتنے معصوم ہیں کہ ہم قرآن سے نزلہ، بخار، کھانسی، اثرات اور نظر بد کا علاج کر کر کے خوش ہوتے رہتے ہیں۔ ہم سب بس دکان اور مکان میں برکت کے لیےاسےاستعمال کرتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں کہ “واہ! کیا معجزہ ہے میری بیمار بچی ٹھیک ہوگئی”۔ جوکتاب بیمار قوموں کو ٹھیک کرنے آئی تھی جو باطن کی گندگی اور غلاظت کو باہر نکال کر پھینکنے کے لئے آئی تھی ہم اس سے نزلہ زکام اور بخار کا علاج کر کر کے خوش ہوتے ہیں۔ ہم بھی عجیب لوگ ہیں سمندر تو دریا کے دریا لٹانے پر تیار ہے اور ہم آدھا گلاس پانی پی کر خوش ہو جاتے ہیں، جس پانی سے ساری دنیا کی کھیتیاں اور نالے سیراب ہو سکتے ہیں میں اپنی بالٹی بھر کر خوشی سے ناچتا ہوں کہ “دیکھو میں نے سمندر سے ایک بالٹی بھر لی ہے”۔
تیسرا بڑا دھوکا اس “ادب کی پڑیا ” کے نام پر ہمیں قرآن سے دور کردیا گیا ہے۔ اپنے گھروں میں سب سے اونچی جگہ پراور سب سے مضبوط اور بھاری کپڑے میں لپیٹ کر قرآن کو ایسی جگہ رکھنا ہے جہاں سے اسے کوئی نہ لے سکے۔ آپ یقین کریں میں حیران ہوتا ہوں ٹی وی ہماری ضرورت کی چیز ہے، اس لیے بیچ گھر میں رکھا ہوتا ہے۔لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر ہمارے روزمرہ کام آنے والے ہیں ، اس لئے گھر میں عین درمیان میں رہتے ہیں ۔ موبائل اتنا ضروری ہے کہ گھر میں ہر شخص کے پاس الگ الگ موبائل سم سمیت موجود ہوتا ہے لیکن بس ایک یہ قرآن اتنا مظلوم ہے کہ نہ گھر میں یہ کسی کا انفرادی ہوتا ہے نہ گھر کے درمیان ہوتا ہے اور نہ ہر کسی کے سامنے ہوتا ہے۔
ہم اپنے ہر ہرعمل سے اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔ ضرورت ہوتی تو یہ بھی ٹی وی، موبائل اور لیپ ٹاپ کی طرح ہر وقت، ہر جگہ، ہر کسی کے سامنے اور ہاتھوں میں نظر آتا ۔یہ بھی “پاکٹ” میں رہتا،سینے میں بس جاتا، آنکھوں سے لگ جاتا لیکن ایسا نہیں ہے۔ سورہ فرقان میں اللہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کی طرف اشارہ کرکے فرمائیں گے کہ “اے میرے رب! یہ میری قوم ہے جس نے قرآن کو پس پشت ڈال دیا تھا” اور ہم نے اس آیت کی بنیاد پر قرآن کی طرف بس پیٹھ کرنا ہی گناہ سمجھ لیا۔
حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ “اگر میرا اونٹ گم ہوجائے تو مجھے یقین ہے کہ وہ بھی قرآن کے ذریعے مل جائیگا”۔اللہ تعالی قرآن میں ارشاد فرماتے ہیں کہ “کوئی خشک اور تر چیز ایسی نہیں ہے جو ہم نے اس کتاب مبین میں نہ رکھ دی ہو”۔ اسیرمالٹا مفتی محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ سات سال تک مالٹا کے جزیرے میں قید رہے جہاں نہ دن کا پتہ چلتا تھا اور نہ ہی رات کا،آپ نے فرمایا بس میں صبح و شام یہی سوچتا رہتا تھا کہ مسلمانوں کے ساتھ یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟ اوراس نتیجے پر پہنچا کہ اس کی صرف ایک وجہ ہے اور وہ یہ کہ “ہم قرآن کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہیں”۔
یہ صرف پڑھانے والی نہیں سمجھانے والی کتاب ہے، یہ مردوں کی نہیں زندوں کی کتاب ہے، یہ صرف علم کی نہیں عمل کی کتاب ہے، یہ محض ثواب کی نہیں معاملات کی کتاب ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ عزت کے ساتھ یہاں اور وہاں جیئیں تو ہمیں اپنا تعلق قرآن سے جوڑنا پڑے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “اللہ بہت سی قوموں کو اس قرآن کی وجہ سے عزت دے گا اور بہت سے قوموں کو اسی قرآن کی وجہ سے ذلیل اور رسوا کر دے گا” اور ہماری ذلت و رسوائی کے جنازے پر جلی حروف میں لکھا ہے “قرآن سے غداری کا نتیجہ”۔ اقبال نے کہا تھا:
وہ معزز تھے زمانے مین مسلماں ہوکر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہوکر

اپنا تبصرہ بھیجیں