حضور اکرم ﷺ بحیثیت سربراہ خاندان




خاندان کی بنیادی اکائی میاں بیوی ہیں اور پھر اولاد کے ساتھ خاندان مکمل تصور کر لیا جاتا ہے۔ خاندان کے مفہوم کو مزید وسعت دی جائے تو ایک آدمی کے خاندان میں اس کے بیوی ،بچوں کے علاوہ اس کے والدین اور بہن بھائی وغیرہ کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے ۔اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ لفظ ایک پوری برادری کے لئے بھی استعمال ہو جاتا ہے ۔ درحقیقت یہ ایک ایسا لفظ ہے کہ جس کی حدود واضح طور پر متعین نہیں کی گئیں بلکہ موقع ومحل کی مناسبت سے اس کی حدود کا تعین کیا جاتاہے ۔بہرحال خاندان کے عام مفہوم میں ایک آدمی کی ازواج اور اولاد کو شامل کیا جاتا ہے ۔ اﷲ کی پاک کتاب قرآن مجید میں خاندان کے بارے میں بھی بہت سی جگہوں پر بیان کیا گیا ہے ۔ ارشادباری تعالیٰ ہے ۔
یایھا الزین امنوا قوا انفسکم و اھلیکم نارا(سورۃ التحریم ۔آیت نمبر ۶) ترجمہ ۔اے ایمان والو!اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔ وامر اھلک بالصلوۃ واصطبر علیھا(سورۃ طہٰ آیت نمبر ۱۳۲)ترجمہ۔اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کر اور خود بھی اس پر قائم رہ۔دوسری ایک جگہ کچھ یوں بیان فرمایا ہے ۔فانکحوا ما طاب لکم من النساء۔ (سورۃ النساء ،آیت نمبر ۳) ترجمہ ۔پس تم کو جو عورتین اچھی لگیں ان سے نکاح کرو۔ و عاشروھن بالمعروف (سورۃ النساء ،آیت نمبر ۱۹) ترجمہ۔اور ان (اپنی بیویوں) کے ساتھ اچھی طرح سے رہو۔
حضور اکرم ﷺ کی زندگی تمام انسانوں کے ایک بہترین نمونہ ہے ۔ آپ ﷺ کی زندگی بحیثیت سربراہ خاندان کچھ یوں ہے ۔ سربراہ خاندا ن کی حیثیت سے آپ کے اپنے اہل و عیال کے ساتھ تعلق کا جائزہ پیش خدمت ہے ۔اس سے پہلے چند فرامین نبوی ﷺ۔جن کا ترجمہ کچھ یوں ارشاد ہے ۔ ’’نکاح میری سنت ہے پس جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مچھ سے نہیں ہے ‘‘۔ پھر ارشاد فرمایا۔جو آدمی نکاح کی قدرت رکھتا ہو پھر بھی نکاح نہ کرے اس سے میرا کوئی واسطہ نہیں ہے ‘‘پھر ایک دوسری جگہ آپ ﷺ نے فرمایا! جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے۔ ’’تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے بہتر ہے اور میں تم میں سے اپنے گھر والوں کے لئے بہتر ہوں‘‘ حضرت محمد ﷺ کی زندگی میں آنے والی زوجات ۔جن کو حضور ﷺ نے اپنی بیوی کا درجہ دیا ۔ حضرت خدیجہ ؓ ان کے ساتھ آپ ؐ کی پہلی شادی ہوئی ۔ اور یہ شادی بعثت سے قبل ہو چکی تھی ۔ حضرت خدیجہ ؓ کو سب سے پہلے آپ ؐپر ایمان لانے کا شرف بھی حاصل ہو ا ہے ۔جب تک یہ زندہ رہیں آپؐ نے کسی اور عور ت سے شادی نہیں کی ۔ حضور اکرم ؐ کے دوصاحبزادے قاسم ؓاور عبداﷲؓ اور صاحبزادیاں حضرت زینب ؓحضر ت رقیہؓ،حضرام کلثوم ؓاور حضرت فاطمہ ؓپیدا ہوئیں ۔آپ ؐ سے شادی سے قبل حضرت خدیجہ بیوہ تھیں ۔حضرت سودہؓ بنت زمعہ بھی ایک بیوہ تھیں ۔ حضرت خدیجہ ؓکی وفات کے بعد آپ ؐ نے ان سے شادی کی ۔
ان کے بعد حضور ؐ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی صاحبزادی حضرت عائشہ ؓ سے شادی کی ۔ یہ آپ کی تمام ازواج مطہرات میں وہ واحد خاتون تھیں جو حضور اکرم ؐسے شادی کے وقت کنواری تھیں ۔باقی تمام ازواج بیوہ یا مطلقہ تھیں ۔جب آپ ؐ کا نکاح حضرت عائشہ ؓ سے ہوا تو اس وقت حضرت عائشہ کی عمر چھ سال تھی اور جب ان کی رخصتی ہوئی تو اس وقت حضرت عائشہ ؓ کی عمر نو سال تھی ۔آپ تمام امہات المومینن میں سے سب سے زیادہ علمی مقام رکھتی تھیں ۔ حضور ؐ کی زندگی میں حضرت عمر فاروق ؓ کی صاحبزادی حضرت حفصہ ؓ بھی آئیں آپ ؐ کی شادی بھی ان سے ہوئی ۔ شادی سے پہلے وہ بھی بیوہ تھیں ۔ ان کے بعد حضرت زینب ؓبنت خزیمہ تھیں ۔ ان کے پہلے شوہر حضرت عبداﷲ ؓ بن حجش غزوہ احد میں شہید ہو گئے تھے ۔ اور یہ بیوہ ہو گئیں تھیں پھر آپ ؐ نے ان سے شادی کر لی ۔ لیکن صرف آٹھ ماہ ہی آپ کی زوجیت میں رہنے کے بعد انتقال کر گئیں ۔ آپ ؐ کی زندگی میں آپ کی صرف دو بیویوں حضرت خدیجہ ؓاور حضرت زینب ؓبنت خزیمہ نے ہی وفات پائی ۔ باقی نو ازواج آپ ؐکی وفات کے وقت زندہ تھیں ۔حضرت زینب ؓ بن خزیمہ مساکین کی بہت اعانت کیا کرتی تھیں اسی لیے ان کا لقب ام المساکین مشہور ہو گیا تھا۔ حضور ﷺ کو اپنی ازواج مطہرات کا احساس ہر وقت رہتا تھا۔ایک روز حضرت عائشہ ؓ کے گھر تھے اور گھر میں فاقہ تھا ۔
ایک پڑوسی نے آپ ؐ کو کھانے کی دعوت دی ۔ آپ ؐ نے گوارہ نہ کیا کہ میں تو کھانا کھا آؤں اور بیوی گھر میں بھوکی بیٹھی رہے ۔چنانچہ بے تکلفی سے اس سے پوچھ لیا کہ کیا عائشہ ؓ کو بھی ساتھ لاؤں ۔اس پڑوسی کے پاس بھی ایک فرد کے لئے ہی کھانے کا انتظام تھا ۔اس لئے اس نے کہہ دیا کہ نہیں ۔آپ ؐ نے فرمایا کہ پھر میں بھی قبول نہیں کرتا ۔تھوڑی دیر بعد وہ دوبارہ آیا اور اس سوال وجواب کے بعد دوبارہ واپس چلا گیا ۔پھر وہ تیسری دفعہ گھر میں کچھ انتظام وغیرہ کر کے آیا اور اس نے آپ ؐ اور حضرت عائشہ ؓ کو دعوت دی ۔ چنانچہ اب آپ ؐ نے اس کی دعوت کو قبول کر لیا۔اور پھر آپ ؐحضرت عائشہ ؓ کے ہمراہ اس کے گھر گئے۔حضور کی زندگی کے بارے میں تو کوئی بھی پوری طرح نہیں لکھ پایا ۔ مگر یہ چند الفاظ اگر ہماری زندگیوں میں آجائیں تو پھر ہم ایک کامیاب باپ ،خاوند اور بھائی بن سکتے ہیں ۔ قارئین یہ تھے چند الفاظ جو آپ ؐ کی زندگی کے بارے میں بیان فرمائے ۔ اﷲ تعالیٰ نے آپ ؐ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ۔آپ ؐ نے جس طرح ایک اچھے خاندان کے سربراہ کی طرح زندگی گزاری ہے اس کی مثال نہیں ملتی اگر ہم بھی اسی طرح ان باتوں پر عمل کریں گے تو ہم بھی ا پنے معاشرے اور اپنے خاندان میں ایک اچھی مثال چھوڑ کر جائیں گے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں