صبح و شام کے اذکار زرہ بکتر کی طرح ہیں. جتنا زیادہ ذکر، زرہ بکتر اتنی ہی زیادہ مضبوط




صبح و شام کے اذکار زرہ بکتر کی طرح ہیں… جتنا زیادہ ذکر، زرہ بکتر اتنی ہی زیادہ مضبوط… اور یہ اتنی زیادہ مضبوط ہو جاتی ہے کہ تیر واپس مڑ جائے اور نشانہ باز کو ہی جا لگے…
ابن القیم فرماتے ہیں…
کہ صبح و شام کے اذکار ایک حفاظتی ڈھال ہیں.. یہ ڈھال جتنی زیادہ موٹی ہو گی…اتنا ہی مالک کو متاثر کرے گی…حتی کہ اس کی مضبوطی اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ اس پر چلائے جانے والے تیر خطا ہو جاتے ہیں… اور واپس نشانہ لگانے والے کی طرف ہی مڑ جاتے ہیں…
شیخ عثمین فرماتے ہیں…
صبح و شام کے اذکار اس انسان کے لیے جو انہیں دل اور دھیان سے پڑھتا ہے، اس قلعے کی طرح ہیں جو کہ یاجوج ماجوج کی دیوار سے بھی زیادہ مضبوط ہے…
اور ابن صالح کے نزدیک…
جو صبح و شام کے اذکار، نماز کے بعد کے اذکار اور رات کو سونے سے پہلے والے اذکار کا اہتمام کرتا ہے، وہ ان لوگوں کی صف میں لکھا جائے گا
“جو اللہ کو کثرت سے یاد کرتے ہیں” …
ابن کثیر فرماتے ہیں…
اذکار کا غلاف پہن لو… یہ تمھاری انسانوں اور جنات کے شر سے حفاظت کر سکے گا… اور اپنی روحوں کو استغفار سے ڈھانپ لو…تاکہ یہ تمھارے روز و شب کے گناہ مٹا دے

اپنا تبصرہ بھیجیں